عبدالغفور اور انتولے: مسلم سیاسی شرافت کا زوال اور سیاسی منافقت کا تجزیہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040
ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ میں مسلم قیادت کا سفر ایک عجیب کشاکش کا آئینہ دار ہے، ایک طرف وہ شرافت، دیانت، نرم مزاجی، رواداری اور عوامی خدمت کے وہ روشن چراغ جنہوں نے صدیوں سے ہندوستان کی تہذیبی روح کو جلا بخشی؛ اور دوسری طرف وہ سیاسی بساط، جس پر مفاد پرستی، گروہ بندی، طاقت کی کشمکش اور اقتدار کے سوداگر اپنے اپنے تاش کے پتّے پھینکتے آئے ہیں۔ اس سیاسی منظرنامے میں شریف مسلم رہنماؤں کی تاریخ ایک خاموش مگر دردناک رزمیہ بن کر ابھرتی ہے۔ یہ وہ چہرے تھے جو سیاست کو خدمت سمجھتے تھے، اقتدار کو امانت، اور عوام کو اپنی طاقت نہیں، اپنی ذمّہ داری۔ مگر ہندوستانی سیاست کی پیچیدہ گلیوں میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوا کہ امانت دار کو امانت کی حفاظت کا موقع ملے، یا اصول پسند شخص اصول کی تلوار سے بچ سکے۔
مسلم سیاسی قیادت کا زوال محض چند افراد کی شکست نہیں یہ پورے سیاسی تہذیبی نظام کے بیمار ہونے کی علامت ہے؛
وہ نظام جس میں کردار سے زیادہ کائیاں پن، اصول سے زیادہ مصلحت، اور اخلاق سے زیادہ لابی طاقتور ہو جاتی ہے۔ اسی بڑے تناظر میں عبدالغفور اور عبدالرحمٰن انتولے جیسے رہنما ہندوستانی سیاست کی تاریخ میں دو آئینے بن کر سامنے آتے ہیں۔ ایک آئینہ اُس مسلمان سیاست داں کی تاریخ کا جس نے اپنی سادگی اور اصول پسندی کے باوجود سیاسی سازشوں کی بھینٹ چڑھ جانا تھا۔ اور دوسرا آئینہ اُس سیاسی منافقت کا جو اخلاق کے لباس میں چھپ کر شرافت کی گردن پر وار کرتی ہے۔
ان دونوں شخصیات کی کہانی نہ صرف ملکی سیاست کی داخلی سڑن کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا ملک میں اصول پر کھڑا رہنے والا لیڈر ہمیشہ تنہا ہی رہتا ہے؟ کیا مسلم قیادت کو اس لیے کمزور سمجھا گیا کہ وہ شرافت، توازن اور قانون کی پاسداری کو سیاست کا محور بناتی ہے؟ یا اس لیے کہ ملک کی طاقتور لابیاں ایسے کردار سے خوف زدہ ہو جاتی ہیں جو بلیک میل نہیں ہوتا، خریدے نہیں جا سکتے، اور کسی گروہ کی مہرہ نہیں بنتے؟ عبدالغفور اور انتولے یہ دونوں صرف دو نام نہیں، بلکہ دو سیاسی ترازو ہیں جن میں ایک پلڑے پر اصول پڑے تھے اور دوسرے پلڑے پر سازشیں… اور تاریخ نے دکھایا کہ سازشیں جیت گئیں، مگر کردار نہیں ہارا۔
مسلم سیاسی شرافت کا زوال دراصل ہندوستانی جمہوریت کے اندر پنپنے والی منافقت، سازش، میڈیا ٹرائل، اور مرکزی قیادت کی مصلحتوں کی ایک منظوم مگر المناک داستان ہے۔ یہ اسی تاریخ کی بازگشت ہے جس نے ہر دور میں شریف سیاسی رہنماؤں کو حاشیے پر دھکیلا، مگر ان کے کردار کو وقت کی عدالت میں بلند مقام عطاء کیا۔ آپ کے زیرِ نظر مضمون اسی تاریخی، سیاسی اور تہذیبی پس منظر کا آئینہ ہے۔ جس میں عبدالغفور اور انتولے شخصیات نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ "سیاست اگر کردار کو جگہ نہ دے تو ریاست اخلاقی طور پر اپاہج ہو جاتی ہے، اور منافقت اگر رہنمائی کرنے لگے تو شرافت ہمیشہ قربانی ہوا کرتی ہے”۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں ایسے کردار کم نہیں جنہوں نے اپنی سادگی، دیانت، محتاط مزاجی اور اصول پسندی کے ذریعے عوامی دلوں میں جگہ بنائی، مگر ملکی سیاست کی پیچیدہ بساط، گروہی مفادات، پارٹی کی داخلی لابیاں اور میڈیا کے مسلسل طوفان ان کے لیے زوال کا سبب بنے۔ ان کرداروں میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالغفور اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمٰن انتولے (1979ء–1982ء) نمایاں مثالیں ہیں۔ 1973ء میں جب بہار کی کانگریس قیادت گھریلو رسہ کشی، گروہ بندی اور قیادت کے بحران سے دوچار تھی، اُس وقت ایک غیر جانب دار، معتبر، قابلِ قبول اور صاف ذہن لیڈر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی خلا نے عبدالغفور صاحب کو وزیر اعلیٰ بہار کے منصب تک پہنچایا۔
ان دونوں رہنماؤں کا سیاسی سفر ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہندوستانی سیاست کا ایک تاریک مگر حقیقت پر مبنی منظر نظر آتا ہے،
سیاسی منافقت، اندرونی سازشیں، طاقت کی بھوکی لابیاں، اور میڈیا ہسٹیریا۔ یہ تحریر ان دونوں رہنماؤں کے عروج و زوال کو تین بڑے تناظر میں جانچنے کی کوشش کرے گی:
● مشترکہ اسبابِ زوال
● سیاسی منافقت کا تہذیبی و تجزیاتی مطالعہ
● بھارت میں شریف سیاست دانوں کے زوال کی تاریخ اور عملی نمونے
● باب اوّل: عبدالغفور اور عبدالرحمٰن انتولے کے مشترکہ اسبابِ زوال
دیانت دار لوگ جب سیاست کے دریا میں قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ حق گوئی، سادگی اور شفافیت کا سامان لاتے ہیں۔ لیکن سیاست کا دریا ہمیشہ ان اوصاف کو قبول نہیں کرتا۔ عبدالغفور صاحب (1927–2004) اور مرحوم عبدالرحمٰن انتولے دونوں کی زندگی میں درج ذیل مشترکہ عناصر نمایاں ہیں:
• پارٹی کی اندرونی گروہ بندی اور طاقت کی جنگ
دونوں رہنما اپنی اپنی ریاستوں میں مضبوط داخلی لابیوں کے درمیان گھِر گئے تھے۔ بہار کانگریس میں "اولڈ گارڈ” اور "نئی نسل” کے درمیان شدید تنازع تھا۔ مہاراشٹر کانگریس میں مراٹھا پاور لابی، مرکز کے درباری حلقے اور انتظامی اجارہ داریاں موجود تھیں۔ ان دونوں کے درمیان جو قدر مشترک تھی وہ یہ کہ وہ کسی خاص لابی کے آدمی نہیں تھے بلکہ اصول، قانون اور توازن کے نمائندہ تھے۔ ایسے لوگ اکثر داخلی سازشوں کے پہلا شکار بنتے ہیں۔
• انتظامی بحران اور عوامی اضطراب
عبدالغفور کے دور میں 1974ء کی عظیم عوامی تحریک اٹھی۔ 1973ء تا 1975ء ان کا وزاراتِ اعلیٰ کا دو سالہ دور اُن کے سیاسی عروج کا نقطۂ اوج بھی تھا اور اسی دور کے بعد انہیں جن حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کے زوال کی بنیاد بھی بنے۔ جے پرکاش نارائن کی قیادت میں یہ تحریک بہار کی جڑوں تک پھیل گئی۔ غفور صاحب جیسا نرم گفتار اور تدبر رکھنے والا شخص ایسے بڑے عوامی طوفان کے لیے تیار نہیں تھا۔ انتظامی مشینری کمزور پڑ گئی، اور سیاسی اعتبار سے وہ تنہاء ہو گئے۔ انتولے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ایک قانونی طور پر قائم کردہ ٹرسٹ اور عوامی کاموں کے لیے چندہ جمع کرنا اُن کے لیے سیاسی آگ بن گیا۔ معاملہ قانونی نہیں بلکہ سیاسی کھیل بن چکا تھا۔
• میڈیا ٹرائل اور شخصیت کُشی
میڈیا جب اپنے ہاتھوں میں دشمنی یا سنسنی کا قلم تھام لے تو ایک شاخسار بھی تناور درخت بن جاتا ہے اور ایک کانٹا پہاڑ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بہار میں میڈیا نے JP تحریک کو "عوامی انقلاب” بنا دیا۔ مہاراشٹر میں انتولے کو "کرپشن اسکینڈل کا چہرہ” بنا کر پیش کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عدالتوں نے بعد میں ٹرسٹ کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا۔ لیکن سیاست میں حقیقت نہیں، تاثر فیصلہ کرتا ہے۔ بیان بدل سکتا ہے، مگر تباہ شدہ ساکھ واپس نہیں آتی۔
• مرکزی قیادت کی بے توجہی
مرکزی قیادت دونوں صورتوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی تھی، مگر کانگریس ہائی کمان بہار میں JP تحریک کے طوفان کو روکنے میں ناکام رہی اور مہاراشٹر میں انتولے کے خلاف درباری لابیوں نے دہلی کو قائل کر لیا کہ انہیں ہٹا دینا ضروری ہے۔ مرکزی قیادت کی سیاسی مصلحتیں اکثر اصولی قیادت کے دفاع میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
• اصول پسندی اور سیاسی ‘پریگمیٹزم’ کے درمیان خلا
عبدالغفور اور انتولے دونوں میں ایک قدر مشترک تھی: وہ اصول پر کھڑے رہتے تھے اور یہی ان کا جرم بن گیا۔ سیاست میں کبھی کبھی اصول سے ہٹ کر "مصلحت” اپنانی پڑتی ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی شخص اصول سے پیچھے ہٹتا ہے، اس کا وقار جاتا ہے اور اگر اصول پر قائم رہے تو "غیر لچکدار” قرار دے کر ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ دو دھاری تلوار ہے جس نے ان دونوں رہنماؤں کو نقصان پہنچایا۔
● باب دوم: سیاسی منافقت — ایک تجزیاتی مطالعہ
سیاسی منافقت (Political Hypocrisy) وہ لطیف مگر خطرناک رجحان ہے جس میں طاقت کی ہوس اخلاقیات کو ایک نقاب کی طرح پہن لیتی ہے۔ اس باب میں اس کی ساخت، نفسیات، میکانزم اور اثرات کا مطالعہ کریں گے۔
• منافقت کی ساخت: طاقت + تاثر = سیاست کی خاموش جغرافیہ
سیاست لفظوں کا کھیل نہیں، perceptions کا کھیل ہے۔ منافقانہ سیاست میں تین بنیادی ستون ہوتے ہیں:
(1) خیر کی زبان — شر کا مقصد: ظاہر یہ کہ "پارٹی کی عزّت بچانا ہے” باطن یہ کہ "ہمیں اس رہنما سے خطرہ ہے”۔
(2) اعداد و شواہد — مگر آدھے سچ: آدھی معلومات ہمیشہ پوری تباہی پیدا کرتی ہے۔
(3) وفاداری کا دعویٰ — سازشی عمل: سیاسی منافق اپنی وفاداری ہمیشہ زبان سے ظاہر کرتا ہے، مگر عمل میں وہ مخالف لابی کا ساتھ دیتا ہے۔
• عملی میکانزم — سازش کیسے تیار ہوتی ہے؟
1) لیکنگ کی سیاست: افسران، خفیہ لابیاں، صحافیوں تک معلومات لے جاتے ہیں۔ آدھی سچائیوں سے پورا اسکینڈل بنایا جاتا ہے۔
2) پارٹی میں "اخلاقی دباؤ” کا مصنوعی ماحول کابینہ یا پارٹی اجلاس میں کہا جاتا ہے: "عوام ناراض ہیں، حکومت کی ساکھ ڈوب رہی ہے…” حالانکہ اصل ناراضگی کچھ وزیروں کی ہوتی ہے، عوام کی نہیں۔
3) میڈیا ہسٹیریا: جب میڈیا روزانہ ایک خبر لکھے تو عوام سمجھتے ہیں کہ "کیس بڑا ہے” حالانکہ وہ بڑا بنایا گیا ہوتا ہے۔
4) مرکز پر دباؤ: آخر کار ہائی کمان کہتی ہے: "آپ استعفیٰ دے دیں، پارٹی بچ جائے گی” اور یوں پورا کھیل "اخلاقی اقدار” کے نام پر ختم ہوتا ہے۔
● باب سوم: بھارت میں شریف سیاست دانوں کے زوال کی تاریخ
جس ملک میں سیاست کے دروازے اصولی لوگوں کے لیے کم ہوتے جائیں، وہاں ریاستی اخلاقیات کمزور اور گروہی سیاست مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ بھارت کی تاریخ میں کئی ایسے رہنما ہیں جن کا زوال اسی "تہذیبی بیماری” کا نتیجہ تھا۔
• جے پرکاش تحریک اور بہار کا سیاسی زوال
عبدالغفور کا زوال صرف انتظامی نہیں تھا، وہ ایک سماجی بھونچال کا نتیجہ تھا۔ JP تحریک نے پوری سیاسی زمین ہلا دی۔ اس میں شریف وزیر اعلیٰ بے بس محسوس ہوا۔ عبدالغفور صاحب کا عروج اُن کی شخصیت کے وقار، عوامی محبت اور بے داغ سیاست کی دین تھا۔ اور ان کا زوال کانگریس کی داخلی سیاست، قیادت کی بے اعتمادی، JP تحریک کے عوامی دباؤ اور اپنی اصول پسندی کے نتیجے میں آیا۔ وہ بہار کی سیاست میں ایک "شریف النفس، دیانت دار اور منصف مزاج” لیڈر کے طور پر آج بھی یاد کیے جاتے ہیں جنہیں سیاست نے منصب سے اتارا، مگر تاریخ نے عزّت کے منصب پر بٹھایا۔
• انتولے کا مقدمہ — سچ کا دیر سے ظہور
انتولے کا کیس تاریخ کا ایک مکمل سبق ہے! الزام سیاسی تھا، مقدمہ میڈیا نے بنایا، فیصلہ عدالت نے دیا، لیکن جب تک فیصلہ آیا، سیاسی جنازہ اٹھ چکا تھا۔ یہی شریف آدمی کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔
■ میڈیا ٹرائل — "انڈو مل” اور "ٹرسٹ” کا معاملہ
اصل سازشی وار تب کیا گیا جب انتولے صاحب نے ایک ٹرسٹ کے ذریعے چندہ لینے کا قانونی طریقہ اپنایا۔ یہ ٹرسٹ عوامی فلاح کے لئے تھا، قانونی طور پر قائم تھا، تمام پیسے کے ریکارڈ موجود تھے، کسی ذاتی فائدے کا سوال ہی نہیں تھا، مگر ان کے سیاسی دشمنوں نے میڈیا میں یہ تاثر پھیلایا کہ وہ صنعت کاروں سے زبردستی چندہ لے رہے ہیں۔
1970ء کی دہائی کے آخر اور 1980ء کی دہائی کے اوائل میں میڈیا ابھی پوری طرح آزاد نہیں تھا… لیکن "لیکڈ رپورٹ” اور "مصنوعی اسکینڈل” بنانے کی روایت زور پکڑ رہی تھی۔ اسی ماحول میں انتولے کے خلاف ایک "میڈیا ہسٹیریا” بنایا گیا۔ اخبارات میں سرخیاں لگائی گئیں، "انتولے اسکینڈل”، "کرپشن کے پہاڑ” اور "چندے کا غلط استعمال”۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی بعد میں عدالت نے انہیں مکمل طور پر بے قصور قرار دیا۔ مگر اُس وقت میڈیا ٹرائل نے عوامی ذہنوں میں سنسنی پھیلا دی۔
جب معاملہ عدالت پہنچا تو سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ انتولے صاحب پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور غیر قانونی تھے۔ ٹرسٹ مکمل طور پر قانونی تھا۔ انتولے نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔ لیکن انصاف ملتے ملتے ان کا سیاسی کیرئیر "زخم” کھا چکا تھا۔ یہ تھا "سازش” کی کامیابی کا نقطہ عدالت نے بچا لیا، مگر سیاست نے ایک شریف مسلم، قانون پسند، اور ذہین لیڈر کا سیاسی قتل کر دیا۔
ان مثالوں کو بھی نظروں کے سامنے رکھیں!!! مدھو دانڈاٹے — صاف شبیہ مگر پارٹی سیاست کا شکار ہوئی، نندنی ستپتی — پارٹی بغاوتیں اور سیاسی تنہائی، مکرنڈ دیش پانڈے — ایمانداری مگر لابیوں کی مخالفت، تمام کی مشترکہ کہانی، شرافت بمقابلہ سازش — شرافت ہار گئی۔
عبدالغفور اور عبدالرحمٰن انتولے کا زوال محض دو شخصیات کی کہانی نہیں یہ ایک ایسی سیاسی روایت کی نشاندہی ہے جس میں اصولی لوگ کمزور پڑ جاتے ہیں، جماعتیں گروہی دائرے میں قید ہو جاتی ہیں، میڈیا جذباتی عدالت بن جاتا ہے، مرکزی قیادت مصلحتوں کی اسیر بن جاتی ہے، اور آخر کار شریف سیاست دان تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیے جاتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا عروج کردار کا ثبوت تھا، اور زوال اس سیاسی نظام کا ثبوت ہے جو کردار نہیں! طاقت کو ترجیح دیتا ہے۔ عبد الغفور صاحب کی طرح، عبدالرحمٰن انتولے بھی گروہ بندی، مفاد پرست سیاست، درباری کلچر اور میڈیا ٹرائل کے شکار ہوئے۔ ان دونوں کے عروج میں شرافت تھی اور زوال میں منافقین کی سازش!!!
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




