علّامہ اقباؔلؒ اورسرفراز بزمی ایک فکری نسبت

مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اردو زبان ہماری تہذیب کا آئینہ اور ہمارے فکری ورثے کی روشن شہادت ہے۔ یہی زبان قرآن کی روحانی لطافتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر ہمارے دلوں تک پہنچاتی ہے، یہی زبان سیرتِ مصطفویﷺ اور پیغامِ اقباؔلؒ کی صدائے بیداری کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔ زبانیں صرف بولی نہیں ہوتیں، یہ شعور، فکر، تہذیب اور روحانی نسبتوں کے خزانے ہوتی ہیں۔ اور اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے اُمَّتِ مسلمہ کے سینے میں جو حرارتِ ایمان ودیعت فرمائی ہے، اس حرارت نے جہاں جہاں اظہار کی راہ پائی، وہاں ادب نے عبادت کی صورت اختیار کر لی۔
اقباؔلؒ نے اسی ادب کو فکرِ ایمانی کا آئینہ بنایا، انسان کو اس کے مقصدِ تخلیق کی یاد دلائی، اور خودی کی اس آواز کو بیدار کیا جو بندے کو بندگی سے بلندی تک لے جاتی ہے۔ ان کا شعر دراصل دعوتِ حیات ہے، سجدہ بھی ہے اور قیام بھی، عشق بھی ہے اور آگہی بھی۔
اسی نسبتِ ادب اور نسبتِ روح کی تجلّی کے طور پر عالمی یومِ اُردو اور یومِ اقباؔلؒ کے مبارک موقع پر ممبرا کی روح پرور، علمی و تہذیبی فضاء میں بتاریخ 9 نومبر 2025ء کو ایک عظیم الشان جلسہ و مشاعرہ منعقد ہوا۔ یہ محفل محض لفظوں کا اجتماع نہیں تھی، بلکہ دلوں کی بیداری، روحوں کی تازگی، اور تہذیبی شعور کی تجدید کا ایک حسین لمحہ تھی۔ اس باذوق اور شان و شوکت سے آراستہ محفل میں اُردو زبان کی لطافت، اس کی تہذیبی شناخت، اور شاعرِ اسلام ڈاکٹر علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ کی فکری میراث کا تذکرہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ ہوا۔
اسی مناسبت سے اس محفل کی رونق و وقار میں اضافہ کرنے کے لیے شعر و سخن کی دنیا کی ایک معتبر اور پہچانی ہوئی شخصیت، جنابِ محترم سرفراز بزمی صاحب کو مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ سرفراز بزمی صاحب اردو شاعری کے ان ممتاز و مؤقر ناموں میں سے ہیں، جنہوں نے اپنے لہجے کی انفرادیت، اپنی فکر کی پاکیزگی، اور اپنے اسلوب کی دلکشی کے ذریعے سخن کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کے کلام میں جذبات کی لطافت و نرمی، فکر و خیال کی گہرائی، اور زبان کی شستگی و جمال نہایت دلکش انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
ہم نہایت احترام اور ادبی عقیدت کے ساتھ جنابِ سرفراز بزمی صاحب کے منتخب اشعار سماعتوں کے سپرد کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ اشعار دلوں کی لطافت، فکر کی رفعت اور ذوقِ سخن کی لطیف روشنی عطاء کریں گے۔‘
ہوئی شاعری پھر بلوغ المرام
قلم سے لیا تیر و نشتر کا کام
وہ ” پیغام مشرق "زبور عجم ”
رموز خودی بیخودی ” یم بہ یم
سنائی زمانے کو بانگ درا
کہ بیدار ہو نیند سے قافلہ
بتائے ہمیں راز تفصیل سے
اڑے عرش تک بال جبریل سے
خوشا ! ضرب مومن وہ ضرب کلیم
ہو جس ضرب سے قصر باطل دو نیم
دیا قوم کو ” ارمغان حجاز”
وفا کا ترانہ محبت کا ساز
غرض کیا بتاؤں وہ کیا شخص تھا
وہ افکار قرآں کا اک عکس تھا
جناب سرفراز بزمی صاحب نہ صرف ایک معتبر اور مقبول شاعر ہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکر رکھنے والے ادبی ذوق کے حامل ادیب بھی ہیں۔ وہ نہ صرف غزل کے خوش گفتار شاعر ہیں بلکہ اُن کے کلام میں انسانی اقدار، خودی کا وقار، عشقِ رسولﷺ کی چمک، اور اقباؔلؒ کے پیغامِ حیات کی جھلک بھی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کا شعری سفر مشقّت، جستجو اور جمالیاتی تربیت سے گزر کر پختگی کے ایسے مقام پر پہنچا ہے جہاں لفظ اور معنی ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
سرفراز بزمی صاحب کی شاعری میں ہمیں اقباؔلؒ کی خودی، عزّتِ نفس، حُسنِ کردار اور انسان کی باطنی عظمت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اُن کا اسلوب نہ تصنّع سے بوجھل اور نہ ہی محض جذباتی اظہار تک محدود، بلکہ ایک متوازن، شائستہ اور بامقصد طرزِ سخن ہے۔ سرفراز بزمی صاحب کی شخصیت ادب نواز، باوقار اور منکسر المزاج ہے۔ نوجوان نسل کو اردو زبان، شاعری کے ذوق اور تہذیبی شعور سے قریب کرنے میں بھی ان کا حصّہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کی موجودگی کسی بھی محفل میں ایک طرح کی ادبی لطافت، فکری وقار اور شعری حرارت کا سبب بن جاتی ہے۔
آئیے، اب ہم اپنے قارئین کو جنابِ سرفراز بزمی صاحب کے کلام کی خوشبو سے مزید معطر کرتے ہیں۔ دیکھیں! کیسے ان کے اشعار اپنے اندر جمالِ لفظ، حرارتِ احساس اور گہرائیِ فکر کے بیش قیمت خزانے رکھتے ہیں۔
قفس سے اڑا عندلیب حجاز
سوئے خلد ، مشرق کا دانائے راز
چراغ خودی کا نگہباں گیا
قلندر تھا اک شعلہ ساماں گیا
جو کہتا تھا لوگو مکاں اور ہیں
"ستاروں سے آگے جہاں اور ہیں”
وہ کہتا تھا تم صقر و شاہین ہو
تو پھر کیوں غلام سلاطین ہو
بزمی صاحب کئی اہم مشاعروں کی زینت رہے ہیں، متعدد ادبی نشستوں میں مقالے، گفتگو اور اپنے کلام کے ذریعے نوجوان نسل کو ادب اور تہذیب سے جوڑنے کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کی شخصیت نہایت خوش اخلاق، وضع دار اور ادب پرور ہے۔ آج کی اس مبارک محفل میں اُن کی تشریف آوری یقیناً باعثِ سعادت اور باعثِ مسرّت رہی۔ ہم نہایت ادب اور خلوص کے ساتھ جنابِ محترم سرفراز بزمی صاحب کے استقبال کے منتظر تھے، اور ان کے نورِ خیال سے مہک اٹھنے والی گفتگو اور گوہر ریز کلام کے بھی بےحد مشتاق تھے۔ ان کی آمد نے اس نشست کے وقار میں اضافہ کیا اور مشاعرہ اپنے حقیقی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہو گیا۔
اس یادگار جلسۂ اُردو و مشاعرہ کی ایک نہایت دل آویز جھلک یہ بھی تھی کہ اس بزم میں محترم سرفراز بزمی صاحب سے ہونے والی ملاقات، اور میرے تحریر کردہ مضامین کے مطالعے نے ایک ایسے قلب کو بھی متاثر کیا جو ممبرا سے بہت دور بھروچ (گجرات) میں دھڑکتا ہے۔
صرف تحریر کی سچائی، فکر کی قرابت اور دین و محبت کے رشتے کی بنیاد پر ہمارے ایک بزرگ اور نہایت مشفق عالمِ دین جناب اقبال کندہ صاحب نے تمام مسافتوں کو پَست اور تھکاوٹ کو بےمعنی کر دیا۔ انہوں نے محض عقیدت، تعلقِ قلب اور اہلِ علم کے احترام میں اس طویل سفر کا ارادہ کیا، اور کسی ظاہری غرض یا دنیاوی مفاد کے بغیر، صرف دل کی کشش اور روحانی وابستگی کے زیرِ اثر بھروچ سے ممبرا پہنچے۔
یہ سفر دراصل روح سے روح کا، محبت سے محبت کا اور علم سے علم کا سفر تھا۔
ایسے سفر محض نقشے پر ناپے نہیں جاتے، یہ دل کے راستوں سے طے ہوتے ہیں۔ یہ وہی رشتہ ہے جسے اہلِ دل نسبت کہتے ہیں—جو خون کی نہیں، قلب اور ایمان کی حرارت سے جنم لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت جب سچی ہو تو فاصلے مٹ جاتے ہیں، اور عقیدت جب خالص ہو تو سفر تھکاوٹ نہیں رہتا۔
یہ واقعہ اپنی سادگی میں عظیم اور اپنے معنی میں نہایت گہرا ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ادب، دین اور محبت آج بھی دلوں کو یکجا کرنے کی قوت رکھتے ہیں، اور جہاں خلوص کی روشنی ہو وہاں مسافتیں کبھی رکاوٹ نہیں بنتیں۔ میں اس بزرگ عالمِ دین کے جذبے، اخلاص اور محبت کو قدر و تحسین کی نظر سے دیکھ رہا ہوں اور اسے اس نشست کی روحانی اور محبت بھری فضاء کا نہایت خوبصورت حصّہ سمجھتا ہوں۔
یہ حقیقت دلوں میں تازہ رہے کہ زبان کا احترام محض لفظوں کی پاسداری نہیں، بلکہ اپنی تہذیب، اپنے ایمان کی روشنی اور اپنی فکری نسبتوں کی حفاظت کا نام ہے۔ اردو زبان نے ہمیں قرآن و حدیث کی لطافتوں سے آشنا کیا، عشقِ مصطفویﷺ کے نغمے سنائے، اور اقباؔلؒ کی صورت میں وہ متاعِ فکر عطاء کی جو آج بھی انسان کو اس کے اصل مقام اور مقصدِ زندگی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
یہ محفل، یہ سخن، یہ محبت اور یہ تہذیبی جوڑ یہ سب اللّٰہ کی دین ہیں۔ اقباؔلؒ نے فرمایا تھا کہ:
دلِ بیدار فقرِ زندہ کی ہے شمشیرِ بے نیام
اور اسی دلِ بیدار کا نور زبان اور فکر کو زندگی بخشتا ہے۔
ہم پر لازم ہے کہ ہم اس چراغ کو دلوں میں روشن رکھیں، نوجوان نسل کو صرف لفظوں سے نہیں بلکہ احساس، خودی، عمل اور کردار سے روشناس کروائیں۔ اس مشاعرہ و بزم کا مقصد بھی یہی تھا کہ دلوں کو جگایا جائے، نگاہوں کو بلند کیا جائے، اور انسان کے اندر چھپی وہ عظمت دوبارہ بیدار کی جائے جسے اقباؔلؒ نے فنا نہیں ہونے دیا۔
اور ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ محبت کا رشتہ، جیسا کہ جناب اقبال کندہ صاحب کے جذبے نے ہمارے سامنے پیش کیا، سفر نہیں کرتا—بلکہ دلوں کو سفر کرواتا ہے۔ یہ وہ روحانی تعلق ہے جسے نہ زمانہ مٹا سکتا ہے اور نہ فاصلے توڑ سکتے ہیں۔ یہی دین کا اصل جمال ہے: دلوں کو قریب کرنا، تعلق کو صاف رکھنا، اور علم کو محبت کے ساتھ بانٹنا۔
الحمد للّٰہ! اس بزمِ ادب و نغمہ میں ملک کے نامور اساتذۂ سخن اور جواں فکر شعراء کرام نے اپنی اپنی شعری کاوشوں کو نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا۔ ہر شاعر کا کلام اپنے اندر ایک نیا رنگ، ایک نئی خوشبو اور ایک خاص فکری لطافت رکھتا تھا۔ کہیں عشقِ الٰہی کی حرارت محسوس ہوئی، کہیں انسانی احساسات کی شفاف تہذیب جھلکتی دکھائی دی، اور کہیں اقباؔلؒ کی خودی و خودآگہی کی بازگشت سماعتوں میں رس گھولتی رہی۔
محفل میں شعر کا بہاؤ تھا، دلوں میں قبولیت کی کیفیت تھی، اور فضاء میں ایک باریک سی روحانی نزاکت لہروں کی طرح پھیل رہی تھی۔
اس سعد و بابرکت نشست کے انتظام و انصرام بھی لائقِ تحسین رہے۔ منتظمینِ بزم نے اپنی خوش اخلاقی، ترتیب و تہذیب، مہمان نوازی اور فنی باریکیوں کے ساتھ تقریب کو نہ صرف شاندار بنایا بلکہ ہر شریکِ محفل کے دل میں اپنے لیے قدر و اعتماد کی روشنی بھی پیدا کر دی۔ ان کی توجہ، حسنِ ترتیب اور لطیف انتظامات سے محفل کی رونق دوبالا ہو گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ محفل صرف اشعار کی محفل نہیں، بلکہ دلوں کے ربط، اذہان کی بیداری اور روحوں کی لطیف گفتگو کا ایک حسین منظر تھی۔
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس بزم کی برکت سے ہمارے دلوں میں خلوص، ادب، محبتِ رسولﷺ اور اقباؔلؒ کی فکری روشنی کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ ہماری زبان ہماری پہچان بنے، ہمارا ادب ہمارے اخلاق میں ظاہر ہو، اور ہماری مجالس دلوں کو جوڑنے اور روحوں کو جگانے کا ذریعہ بنی رہیں۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




