مہاراشٹرا

علی گڑھ معاملے پر صدرِ جمہوریہ کی مداخلت

جاوید ذکریا کی شکایت پر کارروائی کے لیے معاملہ حکومتِ اترپردیش کو روانہ

آکولہ ،۵؍نومبر(ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ) اترپردیش کے علی گڑھ میں مذہبی کشیدگی پیدا کرنے والے ایک واقعے کے سلسلے میں آکولہ کے معروف سماجی کارکن اور زکریا فاؤنڈیشن کے صدر جناب جاوید زکریا نے براہِ راست صدرِ جمہوریہ ہند کو ایک مفصل عرضداشت ارسال کی تھی۔ اس عرضداشت پر صدرِ جمہوریہ کے سکریٹریٹ نے سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے معاملہ کارروائی کے لیے حکومتِ اترپردیش کو ارسال کر دیا ہے۔علی گڑھ میں چند مندروں کی دیواروں پر” ”I Love Muhammadلکھ کر مذہبی منافرت پھیلانے اور ایک مخصوص طبقے کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

بعد ازاں پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ حرکت اسی طبقے کے چند افراد نے ذاتی زمین کے جھگڑے اور شخصی رنجش کو مذہبی رنگ دینے کے مقصد سے انجام دی تھی۔جاوید زکریا نے اپنی عرضداشت میں کہا تھا کہ اس نوعیت کے واقعات معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں اور ملک کی سماجی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مذہبی اشتعال انگیزی کے ایسے معاملات پر سخت کارروائی کی جائے اور سماج میں بھائی چارہ، امن اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے عوامی بیداری مہم چلائی جائے۔

اس عرضداشت پر کارروائی کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ کے سکریٹریٹ کی معاون سکریٹری محترمہ لکشمی مہارابوشنم نے یہ معاملہ اترپردیش کے چیف سکریٹری کو ارسال کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ اس ضمن میں مناسب کارروائی کی جائے اور کارروائی کی تفصیلات براہِ راست عرضی گزار کو فراہم کی جائیں۔اس فیصلے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے جاوید زکریا نے کہا:”یہ معاملہ صرف علی گڑھ کا نہیں، بلکہ پورے ملک کی سماجی ہم آہنگی اور امن و سلامتی کا ہے۔

مذہب انسانوں کو جوڑنے کے لیے آیا ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔”آکولہ کے شہریوں اور مختلف سماجی تنظیموں نے جاوید زکریا کی اس مثبت پہل کا خیرمقدم کیا ہے۔ سبھی کا ماننا ہے کہ یہ قدم قومی یکجہتی، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!