غیر جانبداری یا خاموش اتحاد


عبید باحسین
مہاراشٹر کی میونسپل سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ پارلیمانی جمہوریت کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کر رہے ہیں جسے اکثر “غیر جانبداری کی سیاست” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ریاست کے مختلف بلدیاتی اداروں، بشمول امراوتی، اکولا اور چندرپور میں جو سیاسی منظرنامہ ابھرا ہے، وہ محض مقامی سطح کی انتظامی رسہ کشی نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے منتخب نمائندوں کی جانب سے اختیار کی گئی “غیر جانبداری” یا “خاموشی” نے عملی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا یہ اقدامات اتفاقیہ ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر جانبداری واقعی غیر جانبدارانہ نتائج پیدا کر رہی ہے؟
جمہوریت میں حقِ رائے دہی سے گریز یا ایوان سے غیر حاضری کو بسا اوقات ایک سیاسی احتجاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم جب مقابلہ عددی لحاظ سے سخت ہو، تو ہر وہ ووٹ جو نہیں ڈالا جاتا، درحقیقت برسرِ اقتدار یا اکثریتی گروہ کی عددی برتری کو مضبوط کرتا ہے۔ امراوتی میں فروری 2026 کے میئر انتخاب کی مثال لیجیے، جہاں مجلس کی پالیسی کے برعکس ایک کارپوریٹر کا ووٹ بی جے پی کے حق میں گیا۔ اسی طرح چندرپور اور دیگر بلدیاتی اداروں میں اپوزیشن بلاک کو کمزور کرنے والی حکمت عملی نے ایک خاص سیاسی سمت کی نشاندہی کی ہے۔

مجلس کے حامی یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ شہری اداروں میں ترقیاتی سیاست نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہونی چاہیے اور مقامی فنڈز کے حصول کے لیے برسرِ اقتدار جماعتوں سے مفاہمت ناگزیر ہوتی ہے۔ یہ مؤقف اپنی جگہ وزن رکھتا ہے۔ تاہم اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ووٹر اپنے نمائندوں کو ایک مخصوص سیاسی متبادل کے طور پر منتخب کرتا ہے۔ اگر منتخب نمائندہ فیصلہ کن لمحات میں اسی قوت کو فائدہ پہنچاتا ہے جس کی وہ عوامی سطح پر مخالفت کا دعویٰ کرتا ہے، تو یہ صورتِ حال عوامی مینڈیٹ سے فکری تضاد پیدا کرتی ہے۔
مہاراشٹر میں اس نوعیت کی حکمت عملی سیاسی شعور رکھنے والے حلقوں کے لیے لمح? فکریہ ہے۔ سیاست صرف تقریروں اور جذباتی بیانیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ان فیصلوں کا مجموعہ ہے جو بند کمروں اور ایوان کے چیمبروں میں کیے جاتے ہیں۔ اگر غیر جانبداری کا تسلسل مستقل بنیادوں پر ایک ہی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچا رہا ہو، تو اسے محض حکمت عملی کہنا کافی نہیں رہتا۔
شفافیت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی مؤقف اور بعد از انتخاب فیصلوں میں ہم آہنگی پیدا کریں، کیونکہ رائے دہندگان اب صرف نعروں پر نہیں بلکہ ایوان میں ڈالے گئے یا روکے گئے ووٹوں کی بنیاد پر اپنا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے یہی بحث جاری ہے کہ آیا یہ واقعی غیر جانبداری ہے یا ایک خاموش اتحاد۔ سیاست میں خاموشی بھی ایک بیانیہ ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ تقریر سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔




