قریشی برادری کی ہڑتال اختتام پذیر، گؤ رکشکوں کی ہراسانی پر برادری نے کیا تھا احتجاج -عوام کا کہنا گوشت کی قیمتوں میں کمی کی جائے
ڈپٹی وزیراعلیٰ اجیت پوار اور مرکزی وزیر نیتن گڈکری کی مداخلت سے کامیاب مذاکرات

ناندیڑ سمیت ریاست بھر میں گوشت کی سپلائی بحال، شہری خوش – کسان کم قیمت پر جانور فروخت کرنے پر مجبور
ناندیڑ: (اسٹاف رپورٹر) مہاراشٹر کی قریشی برادری کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ریاست گیر ہڑتال بالآخر ختم ہوگئی۔ قریشی برادری نے یہ ہڑتال محض نرخوں کے تعین کے لیے نہیں بلکہ گؤ رکشکوں کی جانب سے مسلسل ہراسانی اور غیر ضروری پابندیوں کے خلاف بھی کی تھی۔ برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر ان کے افراد کو نشانہ بنایا گیا، جانوروں کی ٹرانسپورٹ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔
طویل مذاکرات کے بعد ڈپٹی وزیراعلیٰ اجیت پوار اور مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نیتن گڈکری نے قریشی نمائندوں کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات پر حکومت سنجیدگی سے غور کرے گی اور برادری کو بلا وجہ ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی گوشت کی سپلائی دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔
ہڑتال کے خاتمے کے بعد ناندیڑ شہر کی مختلف محلوں اور مارکیٹوں میں بڑے کا گوشت دستیاب ہونا شروع ہوگیا ہے۔ شہریوں نے قریشی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ہڈی والا گوشت 200 روپے فی کلو اور بغیر ہڈی والا 240 روپے فی کلو مقرر کیا جائے تاکہ عام عوام کو ریلیف حاصل ہو سکے۔
بازاری ذرائع کے مطابق فی الحال منڈیوں میں جانوروں کی وافر مقدار موجود ہے۔ کسان طبقہ زرعی اخراجات اور مالی مشکلات کے باعث جانور کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہے، جس کے نتیجے میں گوشت کی قیمتوں میں کمی رہے عوام کی جانب سے کہاجا رہا ۔
سماجی و عوامی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف گوشت کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کے لیے مستقل اقدامات کرے بلکہ قریشی برادری کو گؤ رکشکوں کی ہراسانی سے بھی محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانونی تحفظ فراہم کرے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی کشیدگی یا ہڑتال کی نوبت نہ آئے۔




