مضامین

مخلوط نظامِ تعلیم مغرب کی فکری میراث اور مشرق کی تہذیبی آزمائش

 ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
مخلوط نظامِ تعلیم یعنی وہ نظام جس میں لڑکے اور لڑکیاں بیک وقت ایک ہی ادارے، ایک ہی ماحول، اور ایک ہی فضاء میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، دراصل مغربی تہذیب اور فکری انقلاب کی پیداوار ہے۔ یہ تصور اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں اٹھارویں اور انیسویں صدی کے یورپی فکری انتشار میں پیوست ہیں، جب مغرب میں عقلیت پرستی (Rationalism)، سیکولر ازم (Secularism)، آزادی نسواں (Women’s Liberation)، اور لبرل ازم (Liberalism) کی تحریکوں نے جنم لیا۔
ان تحریکوں نے صدیوں سے قائم مذہبی اور اخلاقی بنیادوں کو "تنگ نظری” اور "پسماندگی” کے القاب سے نوازا۔ انسان کو مذہب اور وحی کی روشنی سے آزاد کر کے محض اپنی عقل، خواہش، اور تجربے کا تابع بنانے کی کوشش کی گئی۔ یوں مغرب میں "آزادی” کے نام پر انسانی اقدار کی زنجیریں توڑنے کی ایک مہم شروع ہوئی۔ اسی فکری پس منظر میں صنفی امتیاز کو بھی غلامی اور قدامت پسندی کا مظہر قرار دیا گیا۔ چنانچہ تعلیم کو بھی اس "آزادی” کے دائرے میں لانے کی بات کی گئی کہ نہ مرد الگ، نہ عورت الگ، بلکہ دونوں "برابر” فضاء میں تعلیم پائیں۔
یہ وہ دور تھا جب یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ ساتھ عورت کا معاشی کردار بڑھا، اور خاندان کے بجائے فرد کو سماجی اکائی مانا جانے لگا۔ تعلیم کو "صنفی حدود” سے آزاد کرنے کی مہم دراصل اسی انفرادی ازادی کے فلسفے کی توسیع تھی۔ یوں رفتہ رفتہ مخلوط نظامِ تعلیم ایک نئے مغربی تمدّن کی علامت بن گیا، ایسا تمدّن جس نے اخلاق کو ذاتی، مذہب کو نجی، اور حیاء کو دقیانوسیت کا نام دیا۔
جب مغربی استعمار نے مشرقی ممالک پر اپنا قبضہ مضبوط کیا، تو اس نے صرف زمینوں پر تسلّط نہیں جمایا بلکہ فکر و شعور اور تعلیم کے نظام کو بھی اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے قیام کے بعد لارڈ میکالے جیسے مفکرین نے اعلان کیا کہ ہمیں ایسے افراد تیار کرنے ہیں جو رنگ و نسل سے تو ہندوستانی ہوں مگر سوچ اور مزاج سے انگریز بن جائیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مغربی طرزِ تعلیم کو "ترقی” اور "مہذب معاشرت” کا مترادف قرار دیا گیا، اور اسی کے ساتھ مخلوط تعلیم کا بیج ہمارے سماج میں بو دیا گیا۔
شروع میں اسے صرف چند مخصوص کالجوں تک محدود رکھا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام ایک "معاشرتی معیار” سمجھا جانے لگا۔ تعلیم کا مقصد علم و اخلاق کی تکمیل کے بجائے ظاہری تمدن اور مادی ترقی کے حصول تک محدود ہو گیا۔ یوں ہماری درسگاہیں جو کبھی تزکیۂ نفس، کردار سازی، اور علمِ نافع کا مرکز ہوا کرتی تھیں، رفتہ رفتہ اخلاقی زوال، نظریاتی ابہام، اور ثقافتی مغالطوں کا شکار ہوگئیں۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ مخلوط نظامِ تعلیم نے مشرقی معاشروں کے دل و دماغ میں تہذیبی اضطراب پیدا کر دیا۔ ایسی نسل پروان چڑھی جو بظاہر تعلیم یافتہ ہے مگر اپنی اخلاقی جڑوں اور روحانی اساس سے کٹی ہوئی ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو آج ہمارے سماج میں دکھائی دیتا ہے۔ جہاں علم تو ہے مگر حکمت نہیں، ترقی تو ہے مگر سکون نہیں، اور آزادی کے نام پر حیاء و اقدار کی قربانیاں عام ہو چکی ہیں۔
اسلام کا نقطۂ نظر بالکل متوازن ہے، وہ عورت کو علم کے حق سے محروم نہیں کرتا، مگر ساتھ ہی صنفی فطرت اور حیاء کے تقدّس کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ علم نور ہے، اور نور صرف اس دل میں فروزاں رہ سکتا ہے جو پاکیزہ نگاہ اور صالح نیت سے معمور ہو۔ اسی لیے تعلیم کو عبادت قرار دیا گیا، اور عبادت کے لیے پاکیزگی شرط ہے۔
مخلوط نظامِ تعلیم کے نقصانات محض اخلاقی زوال تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ہمہ گیر مسئلہ ہے جس نے انسانی زندگی کے نفسیاتی، سماجی، تعلیمی اور تہذیبی تمام گوشوں کو گہرائی سے متاثر کیا ہے۔ یہ نظام بظاہر آزادی، مساوات اور ترقی کے خوش نما نعروں کے ساتھ متعارف ہوا، مگر درحقیقت اس کے اثرات نے شخصیت کی گہرائیوں میں ایسی دراڑیں ڈال دیں جنہوں نے نہ صرف فرد کی فطرت بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی متزلزل کر دیا۔
۱۔ نفسیاتی اثرات
مخلوط ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل ایک مستقل نفسیاتی کشمکش کا شکار رہتی ہے۔ ایک طرف فطرت کی وہ پکار ہے جو حیا، احتیاط اور باطنی سکون کی متقاضی ہے، اور دوسری طرف ماحول کی وہ فضا ہے جو اختلاط، آزادی اور اظہارِ نفس پر زور دیتی ہے۔ یہ دو متضاد کیفیات نوجوان ذہن میں ایک اندرونی انتشار پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ مکمل طور پر مذہبی رہ پاتا ہے اور نہ مغربی بن پاتا ہے۔ یوں شخصیت کا توازن بگڑ جاتا ہے، اور احساسِ کمتری، خودفریبی، یا جذباتی بے سمتی اس کے وجود کا حصّہ بن جاتی ہے۔
بعض طلبہ و طالبات اس ماحول میں مسابقت کے بجائے مظاہرے کی نفسیات اختیار کر لیتے ہیں، تعلیم کے بجائے توجہ حاصل کرنے کی خواہش غالب آ جاتی ہے۔ نتیجتاً علم کی سنجیدگی، غور و فکر کا ذوق، اور تعمیری مطالعہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
۲۔ سماجی اثرات
مخلوط نظامِ تعلیم نے معاشرے کی خاندانی بنیادوں کو بھی کمزور کیا ہے۔ جب مرد و عورت کی حدود غیر واضح ہو جائیں تو اعتماد، عفت اور ذمّہ داری جیسی قدریں دھندلا جاتی ہیں۔ ایسا ماحول بالآخر غیر سنجیدہ تعلقات، اخلاقی آزادی، اور ازدواجی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ خاندان جو معاشرت کی بنیادی اکائی ہے، وہ اب "احساس” کے بجائے "استفادہ” کا رشتہ بننے لگتا ہے۔ یوں ایک ایسی نسل پیدا ہوتی ہے جس کے نزدیک محبت ایک وقتی جذبہ، اور ازدواج ایک سماجی معاہدہ بن کر رہ جاتا ہے۔
۳۔ تعلیمی اثرات
تعلیم کا اصل مقصد فکر و شعور کی تربیت اور کردار سازی ہے، مگر مخلوط نظام میں یہ مقصد ماند پڑ جاتا ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کا فاصلہ کم ہو جاتا ہے، اور تعلیمی ادارے علم و تحقیق کی بجائے اختلاط کے مراکز بننے لگتے ہیں۔ جہاں فضاء میں شرم و حیاء کا فقدان ہو، وہاں غور و تدبّر کے بجائے ظاہری نمود و نمائش پروان چڑھتی ہے۔ نتیجتاً درسگاہیں "علمی ماحول” سے محروم ہو کر سماجی میل جول کے مراکز بن جاتی ہیں۔
۴۔ تہذیبی اثرات
یہ شاید سب سے سنگین پہلو ہے۔ مخلوط نظامِ تعلیم نے مشرقی تہذیب کے اس بنیادی وصف "حیاء و وقار” کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسلامی تہذیب کی روح عفت و احترامِ نسواں پر قائم ہے، جب کہ مغربی تہذیب نے عورت کو آزادی کے نام پر نمائش کی علامت بنا دیا۔ جب یہی تصور ہمارے تعلیمی اداروں میں در آیا، تو اخلاقی اور تہذیبی توازن درہم برہم ہو گیا۔ اب نوجوان نسل کے لیے حیاء پر فخر نہیں بلکہ بے باکی پر ناز کا رواج ہے۔ یہی وہ تہذیبی المیہ ہے جس نے ہماری نسلوں کو خود اپنی شناخت سے بیگانہ کر دیا ہے۔
مخلوط نظامِ تعلیم کا نقصان صرف اتنا نہیں کہ چند اخلاقی اصول پامال ہو گئے، بلکہ یہ نظام انسانی زندگی کے پورے فکری اور روحانی ڈھانچے پر حملہ آور ہوا ہے۔ یہ اس "آزادی” کی صورت میں آیا جو دراصل پابندیِ فطرت ہے، اور اس "ترقی” کے نام پر رائج ہوا جو دراصل تنزّلِ اقدار ہے۔ اسلام نے جس علیحدگی کو تکریمِ نسواں اور تحفّظِ اخلاق کے لیے ضروری سمجھا، مغرب نے اسے "قید” قرار دے دیا۔ نتیجتاً آج دنیا علم کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے، مگر حکمت و طہارت کی پیاسی ہے۔
جب نوجوان نسل صنفی حدود کے بغیر ایک ہی فضاء میں تعلیم حاصل کرتی ہے تو نگاہ، فکر اور جذبات کی پاکیزگی مجروح ہوتی ہے۔ وہ ماحول جو علم و تربیت کا گہوارہ ہونا چاہیے، رفتہ رفتہ ظاہری دلکشی، نمائش اور جذباتی وابستگیوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ قرآن نے اسی تناظر میں فرمایا: "مومن مردوں کو حکم ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں” (النور: 30)۔ لیکن جب ماحول ہی ایسا ہو جہاں پردہ اور حیاء کا تصور مٹ جائے، تو یہ تعلیم نہیں بلکہ فکر و کردار کی آلودگی کا باعث بن جاتی ہے۔ مخلوط ماحول میں اکثر طلبہ و طالبات کی توجہ علم و تحقیق سے ہٹ کر ظاہری میلانات کی طرف چلی جاتی ہے۔ مطالعہ و تحقیق کے بجائے "تاثر پیدا کرنے” اور "توجہ حاصل کرنے” کی نفسیات فروغ پاتی ہے، جس کے نتیجے میں علم کی سنجیدگی اور روح مجروح ہوتی ہے۔
مشرقی تہذیب کا خاصہ حیاء، وقار اور صنفی تقدّس ہے۔ مخلوط تعلیم نے ان اقدار کو گہری ضرب لگائی۔ آج کی نسل اپنے تہذیبی ورثے سے بے خبر ہو کر مغربی طرزِ معاشرت کی نقالی کو فخر سمجھنے لگی ہے۔ یہ دراصل تہذیبی غلامی کی ایک نرم مگر مہلک صورت ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی ماحول میں رہ کر نفسیاتی دباؤ، احساسِ کمتری، یا خود اعتمادی کی غلط تصویر کا شکار ہوتے ہیں۔ خصوصاً وہ طبقہ جو مذہبی اور اخلاقی اقدار سے جڑا ہوا ہے، اندرونی کشمکش اور احساسِ گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہ سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہوگی کہ مخلوط نظامِ تعلیم صرف مسلمانوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ درحقیقت، ہندو، عیسائی، سکھ، اور دیگر مذاہب کے سنجیدہ مفکرین اور مصلحین نے بھی اس پر اپنی فکری بےچینی کا اظہار کیا ہے۔ جب معاشرتی نظم میں صنفی فطرت کے توازن کو بگاڑ دیا جائے، تو اس کا نقصان پوری انسانیت کو ہوتا ہے، مذہب، قوم، یا طبقے کی تفریق کے بغیر۔
ہندو دھرم میں عورت کو "گھر کی لکشمی” کہا گیا ہے، یعنی برکت، سکون، اور تقدیس کی علامت۔ ایسے معاشرے میں جہاں "ناری کی لاج” اور "پتِ ورتا دھرم” یعنی شوہر کے لیے عورت کی وفاداری کو ایک مقدّس فریضہ مانا گیا ہو، وہاں لڑکے اور لڑکی کے آزادانہ اختلاط کو ہمیشہ ایک سنسکارک انحراف سمجھا گیا ہے۔ قدیم ہندوستانی گُروکل نظام میں تعلیم کی بنیاد ہی علیحدگی پر تھی۔ لڑکے و لڑکیاں الگ اداروں میں سادھوؤں یا آشرموں سے تعلیم پاتے تھے، تاکہ "من” کا ارتکاز علم پر رہے، نہ کہ جنس کے جذبے پر۔ یہی وہ سماجی حکمت تھی جس نے ہزاروں برس تک ہندوستانی تمدّن کے خمیر میں حیا، ضبط اور توازن کے عناصر کو باقی رکھا۔
اگر مغرب کی طرف رخ کریں تو وہاں بھی عیسائیت کے ابتدائی اداروں میں co-education ایک ناقابلِ تصور بات تھی۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپی خانقاہی اسکولوں (Monastic Schools) میں طلبہ اور طالبات کی علیحدگی کو اخلاقی تحفّظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی تک برطانیہ اور امریکہ کے معروف کیتھولک اسکول لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ تھے۔ ان اداروں کا استدلال محض مذہبی نہیں تھا، بلکہ نفسیاتی اور اخلاقی بنیاد پر تھا کہ بلوغت کے بعد مخالف جنس کا مسلسل اختلاط توجہ کی تقسیم، اخلاقی لغزش، اور احساسِ حیا کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی کیتھولک نَن اسکولز (Nun Schools) اور برادرز کالجز اسی اصول پر کاربند ہیں۔
اسلام نے اس مسئلے کو صرف ممانعت کے درجے میں نہیں رکھا بلکہ اس کے پسِ منظر میں فطرتِ انسانی کی گہری بصیرت رکھی ہے۔ قرآن کریم میں غضِ بصر (نگاہ نیچی رکھنے) اور حجاب کا حکم صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ مرد کے لیے بھی دیا گیا، کیونکہ یہ دونوں اصناف فطری طور پر ایک دوسرے کی طرف جذباتی و جمالیاتی کشش رکھتی ہیں۔ اسلام نے یہ تسلیم کیا کہ اختلاط کی جگہوں پر جذبات کی آزمائش بڑھ جاتی ہے، اور علم یا عبادت جیسے مقدّس اعمال بھی خواہشات کی مداخلت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے "تعلیم” کو عبادت کا درجہ دیا، لیکن اس کے گرد اخلاقی نظم قائم کیا، تاکہ علم و کردار میں توازن برقرار رہے۔
یہ تصور کہ مخلوط نظامِ تعلیم کا مسئلہ صرف مذہبی ہے، دراصل فکری سطح پر ایک مغالطہ ہے۔ اخلاقیات، ضبطِ نفس، اور صنفی توازن ایسے اصول ہیں جو ہر معاشرے کی انسانی بنیادوں سے وابستہ ہیں۔ اگر کسی سماج میں نوجوان نسل کو ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں جذبات، لباس، اور نظریں مسلسل آزمائش میں رہیں، تو وہاں علم، کردار، اور شرافت تینوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی تہذیبوں میں چاہے وہ اسلامی ہوں یا ہندو تعلیم کا مقصد محض روزگار نہیں بلکہ انسان کی تہذیبی تشکیل ہوتا تھا۔
یوں یہ کہنا بجا ہے کہ مخلوط نظامِ تعلیم کا مسئلہ کسی مذہب کی "تنگ نظری” نہیں، بلکہ انسانی فطرت کی حکمت کا سوال ہے۔ جس طرح ہر دریا کے کنارے ہوتے ہیں تاکہ اس کا بہاؤ تباہی کا باعث نہ بنے، اسی طرح انسانی میل جول کے بھی کچھ اخلاقی کنارے ہیں۔ جب یہ کنارے ٹوٹ جائیں تو بہاؤ بے سمت ہو جاتا ہے اور معاشرتی سیلاب سب کچھ بہا لے جاتا ہے: شرم، حیاء، اقدار، اور شخصیت کا وقار۔
اسلام میں تعلیم کا مفہوم محض معلومات کا حصول نہیں بلکہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار، اور معرفتِ الٰہی ہے۔ قرآن نے فرمایا: "کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور نامراد وہ ہوا جس نے اسے آلودہ کیا”۔ یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ تعلیم کا حقیقی ہدف علم نہیں، بلکہ علم کے ذریعے اخلاق و روح کا عروج ہے۔ اگر تعلیم اس تزکیہ سے خالی ہو جائے تو وہ چراغ نہیں رہتی، صرف آگ بن جاتی ہے جو کبھی غرور کو بھڑکاتی ہے، کبھی نفس کو۔
اسلام نے عورت اور مرد، دونوں کے لیے علم کو لازم ٹھہرایا۔ رسولِ اکرمﷺ کا فرمان ہے: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے”۔ یہ مساوات اپنی جگہ مقدّس ہے، مگر اسلام نے یہ بھی سمجھایا کہ مساوات اور یکسانیت میں فرق ہے۔ جس طرح سورج اور چاند دونوں روشنی دیتے ہیں مگر اپنی اپنی حد میں ایک دن کے لیے، دوسرا رات کے لیے اسی طرح مرد اور عورت دونوں علم کی روشنی پھیلانے والے ہیں، مگر اپنی فطری ذمّہ داریوں اور اخلاقی حدود کے اندر۔ اسلام نے کبھی عورت کو تعلیم سے روکا نہیں، بلکہ اس کے ماحول کو پاکیزہ بنانے کا حکم دیا، تاکہ علم کا عمل فتنہ نہیں، عبادت بنے۔
مخلوط نظامِ تعلیم دراصل اس جدید دنیا کی پیداوار ہے جس نے روح کی غذا کے بجائے جسم کی خواہشات کو مرکزِ تعلیم بنا لیا ہے۔ جب درسگاہیں کردار سازی کے بجائے نمائش اور میل جول کے میدان بن جائیں، تو وہاں علم کا نور ماند پڑ جاتا ہے۔ یونانی فلسفی افلاطون نے کہا تھا: "تعلیم وہ ہے جو روح کی سمت طے کرتی ہے، نہ کہ جسم کی چال”۔ لیکن جدید تعلیم نے روح سے غفلت برت کر انسان کو محض ذہانت کا پیکر بنا دیا، اخلاق کا نہیں۔ آج کے تعلیمی اداروں میں "آزادی” کے نام پر جو ماحول پروان چڑھ رہا ہے، وہ دراصل اخلاقی انہدام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہی آزادی ہے جو پردے کو قید اور حیاء کو کمزوری سمجھتی ہے، حالانکہ یہی دو اقدار انسانیت کی سب سے بڑی قوت ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو اس کے اصلی محور "اخلاق و تزکیہ” کی طرف واپس لائیں۔ ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں علم کی فضا میں وقار، حیاء، اور باہمی احترام کا نور پھیلا ہو۔ جہاں درسگاہیں محض پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز نہ ہوں بلکہ روحانی تربیت کے مکتبے بن جائیں۔
اسلامی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں؛ مدینہ کے صفہ کے مکتب میں علم کے ساتھ زہد، اخلاق اور خدمتِ خلق کی تعلیم دی جاتی تھی۔ قرطبہ، بغداد، اور سمرقند کے مدارس میں ادبِ گفتگو، پاکیزگیِ لباس، اور احترامِ معلم کو نصاب کا حصّہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہی علیحدگی نہیں تھی جو نفرت سے جنم لے، بلکہ وہ تقدیس تھی جو دلوں کو پاک رکھے۔
تعلیم اگر حیاء سے خالی ہو جائے تو علم فتنہ بن جاتا ہے؛ اور اگر تزکیہ سے جڑ جائے تو عبادت کا درجہ پا لیتا ہے۔ اسی لیے علیحدہ، پاکیزہ نظامِ تعلیم محض "مذہبی خواہش” نہیں، بلکہ انسانیت کی بقاء کا ضامن ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو ذہن کو روشنی، دل کو صفا، اور معاشرے کو امن عطاء کرتا ہے۔ "حیاء وہ زیور ہے جو عورت کو ملکہ بناتا ہے، اور علم وہ نور ہے جو مرد کو بندگی سکھاتا ہے۔ جب یہ دونوں صفات ایک توازن میں جمع ہوں، تو تمدّن کو تقدّس نصیب ہوتا ہے”۔
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!