اسلامی

مدارس ملت اسلامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،قرآن سے وابستگی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت!

جامع العلوم بنگلور کا سالانہ اجلاس عام و دستاربندی سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی و مفتی محمدمقصود عمران رشادی کا خطاب

بنگلور، 06؍ فروری (پریس ریلیز): شہر گلستان بنگلور کے مشہور و معروف قدیم دینی ادارہ مدرسہ جامع العلوم عربک کالج کا سالانہ اجلاس عام و دستاربندی شب برأت کی مقدس رات ایک عظیم الشان اور روح پرور اجتماع کی صورت میں جامع مسجد سٹی، بنگلور میں منعقد ہوا، جس میں شہر و اطراف کے ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی۔ اس پرنور اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ اجلاس کے موقع پر تین حفاظ کرام کی دستاربندی عمل میں آئی، اور آٹھ حافظہ طالبات کو انکی معلمات وسرپرستان کی موجودگی میں مدرسہ کی جانب سے اعزازات اور اسناد سے نوازاگیا۔

اس طرح مجموعی طور پر گیارہ حفاظ و حافظات کی تکمیل حفظ پر یہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز مہتمم جامع العلوم، مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور) کے مختصر مگر جامع خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے ادارہ کا تعارف پیش کیا اور تمام معزز مہمانان و شرکائے اجلاس کا پُرتپاک استقبال کیا۔اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے اپنے کلیدی خطاب میںفرمایا کہ قرآن کریم کی حفاظت درحقیقت انہی حفاظ کے ذریعے ہوتی ہے، اور مدارس ملت اسلامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

آج بھی امت کو درپیش ہر بڑے مسئلہ میں رجوع انہی اداروں کی طرف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امت بے دینی کے سیلاب میں بہتی جا رہی ہے اور مسلمانوں کی صبح و شام نافرمانی میں گزر رہی ہے۔ مولانا رحمانی نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ چین میں کمیونزم کے بانی نے ظالم حکومت کے جبر و استبداد کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور اپنے ملک کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچایا۔ جب مسلمانوں نے ان سے ترقی کا راز پوچھا تو اس نے جواب دیا: قرآن تم پر نازل ہوا، مگر اس پر عمل ہم نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج منظم اور منصوبہ بند انداز میں بے حیائی کو فروغ دے کر بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں اسلام سے دور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جب تک ایمان کے ساتھ ایمانی کردار پیدا نہیں ہوگا، اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اپنا قیمتی وقت موبائل میں ضائع کر رہا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان صالح بنے، قرآن سے اپنا مضبوط تعلق جوڑے، کیونکہ قرآن سے وابستگی ہی دونوں جہانوں میں کامیابی کی ضامن ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مدرسہ جامع العلوم عربک کالج ایک مثالی دینی ادارہ ہے، جہاں تعلیم کے مختلف شعبوں اور شقوں میں منظم تعلیمی نظام قائم ہے۔

اجلاس کے آخر میں جامع مسجد اینڈ مسلم چیریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کے سکریٹری الحاج سید نور الامین انور نے تمام معزز مہمانان اور شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا، اجلاس کی نظامت مدرسہ کے نائب مہتمم اور جامع مسجد سٹی کے نائب امام مولانا ضمیر احمد رشادی نے انجام دی۔ جبکہ اجلاس میں جامع کے اساتذہ، طلباء ، ان کے سرپرستان ،ٹرسٹیان کے علاوہ کثیر تعداد مصلیاجامع مسجد بھی شریک رہے، جس میں سید عبدالغفور نائب سیکرٹری ،تنظیم احمد خان، سید منیراحمد، وی آرمحمد ہارون، محمد فیاض شریف وزڈم گروپ آف انسٹی ٹیوشن قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی رقت آمیز دعا پر یہ روح پرور اور ایمان افروز محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!