مہاراشٹرا

مراٹھا ریزرویشن تحریک: منوج جرانگے کی بھوک ہڑتال تیسرے دن میں، حکومت پر بڑھتا دباؤ

ممبئی: مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کی مانگ نے ریاستی سیاست کو ایک بار پھر گرما دیا ہے۔ سماجی کارکن منوج جرانگے کی غیر معینہ بھوک ہڑتال اتوار کو تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے، جس کے سبب حکومت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جرانگے جمعہ سے جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مراٹھا سماج کو کنبی (کسان طبقہ) کے طور پر تسلیم کر کے او بی سی زمرے میں شامل کیا جائے اور انہیں 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری طور پر ایک سرکاری حکمنامہ (جی آر) جاری کرنا ہوگا، جس میں صاف طور پر درج ہو کہ مراٹھا اور کنبی ایک ہی ہیں۔

اس معاملے پر حکومت بھی سرگرم ہو گئی ہے۔ ہفتے کی رات دیر گئے آبی وسائل کے وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹلنے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ایک گھنٹے تک ملاقات کی، جس میں بی جے پی کے سینئر رہنما گیریش مہاجن بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ میں مسئلے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وکھے پاٹل اس وزارتی ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں جو مراٹھا ریزرویشن اور برادری کی سماجی و تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ امکان ہے کہ کمیٹی آج دوبارہ میٹنگ کرے گی تاکہ اس مسئلے کا راستہ نکالا جا سکے۔

دریں اثنا، ہفتے کو حکومت کے نمائندے، جن میں ہائی کورٹ کے سبکدوش جسٹس سندیپ شنڈے بھی شامل تھے، جرانگے سے ملاقات کے لیے آزاد میدان پہنچے۔ تاہم جرانگے نے واضح کہا کہ صرف گفتگو سے بات نہیں بنے گی بلکہ فوری فیصلہ اور جی آر جاری کرنا ہی واحد حل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ او بی سی زمرے میں پہلے ہی 350 سے زائد برادریاں شامل ہیں۔ ایسے میں مراٹھا برادری کو کنبی تسلیم کر کے ریزرویشن دینا ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ عدالت میں بھی اس پر کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اس کے باوجود جرانگے کی بھوک ہڑتال اور ہزاروں حامیوں کی حمایت نے حکومت کے لیے چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!