ضلع

مسجدوں کے رجسٹریشن اور لاؤڈاسپیکر کے مسئلے پر جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کا مشاورتی اجلاس 

 مسجدوں کے رجسٹریشن اور لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پولیس انتظامیہ کی جانب سے نافذ کی جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کرنے کے مقصد سے جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے آج ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علما، مسجد کمیٹیوں کے ذمہ داران اور شہر کی ملی و سماجی تنظیموں کے منتخب نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں مہمان مقرر کی حیثیت سے جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے شعبہ اوقاف کے ریاستی سکریٹری مولانا فہیم فلاحی کو جالنہ سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر امیر مقامی عابد خان ،  سکریٹری ملکی و ملی امور جماعت اسلامی ہند ناندیڑ محمد الطاف حسین، مولانا سلیمان رحمانی اور جماعت اسلامی ناندیڑ کے ناظم ضلع عبدالغفار چودھری بھی موجود تھے۔ اجلاس کا آغاز مولانا سلیمان رحمانی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔افتتاحی کلمات میں  سکریٹری ملکی و ملی امور جماعت اسلامی ہند ناندیڑ الطاف حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت فرقہ پرستی اور تنگ نظری کی حامل ہے، اور مسلمانوں کو قانونی و تکنیکی مسائل میں الجھا کر ان پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بیف بین، مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کی سختی، اور وقف ترمیمی قانون کی آڑ میں مدارس و مساجد کے انتظامی معاملات میں مداخلت اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ایسے میں ملت کے باشعور افراد کو مل بیٹھ کر ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔مہمان مقرر مولانا فہیم فلاحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقف ترمیمی قانون ایک بڑی آزمائش بن کر سامنے آیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور کسی بھی وقت فیصلہ آسکتا ہے۔ تاہم حکومت نے عدالت کے فیصلے سے قبل ہی وقف پورٹل شروع کرکے وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جس سے عوام میں اضطراب پیدا ہوا ہے۔ اگر چھ ماہ میں رجسٹریشن نہ کیا گیا تو کارروائی کا خوف ہے، اور اگر جلدبازی میں رجسٹریشن کرایا گیا تو یہ قانون کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا، نئے وقف پورٹل پر رجسٹریشن نہ کیا جائے۔ البتہ جن آٹھ دستاویزات کی حکومت نے طلبی کی ہے، ان کی تیاری ہر ادارے کو ابھی سے کر لینی چاہیے، تاکہ مستقبل میں اگر رجسٹریشن لازمی ہو تو بروقت کارروائی کی جا سکے۔مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کے بارے میں مولانا فہیم فلاحی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت نوٹس دے کر سختی ضرور کی جا رہی ہے۔ اگر پولیس زبانی طور پر لاؤڈاسپیکر ہٹانے کا کہے تو ان سے تحریری نوٹس طلب کیا جائے، کیونکہ صرف زبانی کہنے پر عمل کرنا درست نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس مسئلے پر ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے، اور عنقریب اس پر بھی فیصلہ آنے والا ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ پولیس کی سختی کم ہوگی اور ہٹائے گئے لاؤڈاسپیکر دوبارہ نصب ہو سکیں گے۔اجلاس کے اختتام پر امیر مقامی عابد خان پٹھان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف لئے جارہے ان غیر منصفانہ فیصلوں کے ذریعے مسلمانوں کو تکنیکی اور قانونی مسائل میں الجھاکر انہیں ان کے اصل مقصد یعنی دعوت دین کے فریضے کی ادائیگی سے روکنا ہے ۔

وہ نہیں چاہتے مسلمان اسلام کی دعوت کو عام کرنے کاکام کریں اور برادران وطن تک اسلام کا پیغام پہنچے ۔ ایسے میں ہمیں جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے لئےجارہے  ان غیر منصفانہ فیصلوں ، قانونی مسائل کو بھی حل کرنا ہے ساتھ ہی اپنے فرائض منصبی کو بھی ادا کرتے رہنا ضروری ہے ۔اجلاس کے اختتام پر طے کیا گیا کہ مقامی سطح پر مسجد کمیٹیوں، ملی و سماجی تنظیموں اور علما کو ساتھ لے کر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، تاکہ ان مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں کی جا سکیں۔ عنقریب ضلع کی سطح پر ایک بڑا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں ماہرین کو مدعو کرکے مزید رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں شریک افراد نے اپنے سوالات پیش کیے جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!