مقرر ذیشان حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصودعمران رشادی کی خدمات ناقابل فراموش!
مرکز تحفظ اسلام ہند نے حضرت مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی کی خدمات جلیلہ پر پیش کی تہنیت!


بنگلور، 16/ نومبر (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں مرکز تحفظ اسلام ہند کے چوتھے سالانہ مشاورتی اجلاس کے دوران اراکین مرکز نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب، مقررذیشان حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی کی بے لوث خدمات پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُن کی شال پوشی کی، اور ان کی خدمت میں مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی مرتب کردہ ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا۔جس میں حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی کی خدمات کو سراہتے ہوئے تحریر کیا گیا تھا کہ حضرت کی شخصیت ملک ہند میں محتاج تعارف نہیں۔ وہ اس عہدپرفتن میں ملت اسلامیہ ہندیہ کے اُن مخلص، غیور اور بصیر قائدین میں سے ہیں جنہوں نے
علم، عمل، اخلاص اور بصیرت کے حسین امتزاج سے امت کو فکری، روحانی اور عملی رہنمائی فراہم کی۔ان کی گوناگوں خدمات صرف منبر و محراب تک محدود نہیں بلکہ سماج کے ہر طبقہ میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی سیرت و کردار میں علم و عمل کی روشنی، استقامت، تدبّر اور ملی درد کا ایسا حسین امتزاج ہے جو دلوں کو منوّر اور دلوں کو جوڑنے والا ہے۔سپاس نامہ میں تحریر تھا کہ مولانا رشادی کی خطابت میں علمی گہرائی، دینی غیرت، فکری بصیرت اور تاثیر کا وہ رنگ ہے جو سامع کے قلب پر اثر ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی فکر روشن سے نوجوانوں کے دلوں
میں دین سے محبت، خدمت امت کا جذبہ، اور قیادت و حوصلے کی روح پھونک دی ہے۔اُن کے بیانات صرف خطابت نہیں، بلکہ ایمان افروز تربیت ہیں؛ ان میں حکمت، توازن اور فہم سیاسی کا ایسا نادر امتزاج ہے جو امت کو حالات کا صحیح تجزیہ کرنے، اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلے میں باوقار طرزِ عمل اختیار کرنے، اور امت کی وحدت قائم رکھنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔دینی و تعلیمی میدان میں بھی حضرت کی خدمات قابل رشک ہیں۔
جامع العلوم عربک کالج بنگلور اور جامع العلوم گروپ آف انسٹی ٹیوشنز بنگلور کے ذریعہ آپ نے نسل نو کی علمی و فکری تربیت کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اُن کی سرپرستی میں وہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ آج دین، دعوت، تعلیم اور سماج کی خدمت کے مختلف میدانوں میں روشن کردار ادا کر رہے ہیں۔اسی طرح سماجی و اصلاحی میدان میں آپ کی مساعی نہایت نمایاں ہیں۔ انہوں نے ملت کو انتشار سے بچانے، اتحاد و یکجہتی کا پرچم بلند رکھنے، اور عوام و خواص کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ آپ کی قیادت نے ملت کو شعور، حوصلہ اور یکجہتی

کا درس دیا۔الحمدللہ! ”مرکز تحفظ اسلام ہند“ کے لیے حضرت کی سرپرستی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس ادارے کی فکری، علمی اور تنظیمی ترقی میں آپ کا کردار کلیدی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ آپ کی رہنمائی، دعاؤں اور مشوروں کی بدولت مرکز نے قلیل مدت میں وہ مقام حاصل کیا ہے کہ آج اسے ملت کے نوجوانوں کا ایک معتبر، منظم اور بامقصد پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔اُن کی خدمت دین اور خدمت ملت کا یہ تسلسل صرف مرکز کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اُن کی ذات امت کے لیے امید، بیداری اور استقامت کا سرچشمہ ہے، اور بفضل باری تعالیٰ آپ کی ان اہم اور نمایاں خدمات سے نہ صرف ملت اسلامیہ ہندیہ بلکہ پورا عالم اسلام مستفید ہو رہا ہے۔ان کی اِن نمایاں خدمات پر ”مرکز تحفظ اسلام ہند“
انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے سایہئ عافیت و شفقت کو ملتِ اسلامیہ اور عالمِ انسانیت پر دراز فرمائے، اور ان کے علوم و معارف اور فیوض و برکات کو ملک و عالم میں عام و تام فرمائے۔ آمین۔قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی کے علاوہ اراکین مرکز، بالخصوص ڈائریکٹر محمد فرقان، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، نگران قاری عبدالرحمن الخبیر قاسمی، اراکین مولانا محمد نظام الدین مظاہری، مولانا سید اسرار احمد قاسمی، تبریز عالم، حافظ محمد عمران، حافظ سمیع اللہ،
مولانا شیخ محمود الرحمن قاسمی، حافظ نوراللہ، سید توصیف، محمد فرحان خان، شبلی محمد اجمین، عاصم پاشاہ، محمد حفظ اللہ، حارث شوکت علی پٹیل، عمران خان، شبیر احمد، محمد لیاقت، محمد فیض، مفتی محمد عمر قاسمی، مولانا مختار احمد قاسمی، مفتی محمد اسعد قاسمی بستوی، مولانا عبدالاحد بستوی، محمد تقی، ضیاء الرحمن، عطاء الرحمن، مولانا محمد آصف انعامی، مولانا ابوالحاتم کاشفی، محمد عرفات کے علاوہ مولانا محمد ریاض الدین مظاہری، مولانا ایوب رشادی، شہباز عالم وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔




