مولانا آزاد وچار منچ، کاسودہ کی جانب سے ذہنی معذور کے ساتھ ’’یومِ تعلیم‘‘ کا انسانیت نواز انعقاد
'تعلیم کی روح… محروم طبقات تک رسائی اور محبت کا عملی پیغام'.

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
مولانا ابوالکلام آزاد کا یومِ پیدائش بنام یومِ تعلیم کے موقع پر مولانا آزاد وچار منچ، کاسودہ شاخ نے وہ مثال قائم کی جس نے تعلیم کے حقیقی مفہوم کو نئی معنویت عطا کر دی۔’’تعلیم صرف مدارس و اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں ‘‘ اسی نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وچار منچ نے ارنڈول تعلقہ کے ایک ایسے ادارے سہواس پری پیئرڈ متی مند اسکول (ذہنی معزورین اسکول)میں یومِ تعلیم منایا جہاں ذہنی معذور بچے زیرِ تربیت ہیں، اور جنہیں سماج عمومی طور پر نظرانداز کرتا آیا ہے۔
کارکنانِ منچ نے مولانا آزاد کی تعلیمات افکار اور سماجی مساوات کے نظریات کو انہی بچوں کے درمیان پیش کرتے ہوئے انسانیت، محبت اور شمولیت کا روشن پیغام دیا۔ اس عملی قدم نے واضح کیا کہ تعلیم کا حقیقی مقصد وہی ہے جو مولانا آزاد نے اپنی پوری زندگی بیان کیا۔”تعلیم ہر اس شخص کا حق ہے جو اس سماج کا حصہ ہے، خواہ وہ کسی بھی محرومی یا کمزوری کا شکار کیوں نہ ہو“۔پروگرام کی صدارت صحافی نورالدین ملاجی نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ:“ضرورت مند اور کمزور طبقات پر توجہ دینا ہی تعلیم کی اصل روح ہے۔
مولانا آزاد کا پیغام یہی تھا کہ تعلیم روشنی ہے، اور یہ روشنی ہر ایک تک پہنچنی چاہئے۔” موصوف نے یہ بھی تیقن کیا کہ وہ ان ذہنی معزورین کو ہر طرح کا تعاون کریں گے بالخصوص سنجۓ گاندھی سرکاری اسکیم کا فائدہ ہر مستحق کو پہنچنے اس کی خصوصی کوشش کریں گے ۔اس موقع پر علاءالدین صلاح الدین، محمد ساجد، احمد رضا ذوالفقار سید حمزہ خان توکل شیخ کے ساتھ ادارے کے عہدیداران، ساونت سر،وشوناتھ سر،سندیپ سردار ، دیگر اساتذہ کرام و اراکین بھی موجود رہے۔ منچ کے اس قدم کو مقامی سطح پر زبردست تحسین ملی، جس نے ثابت کر دیا کہ سماج کے پسماندہ اور نظرانداز طبقات کی دلجوئی ہی حقیقی تعلیم، انسانیت اور روحانیت کا عملی اظہار ہے۔اختتام پران میں پھلوں کی تقسیم کی گئی ۔




