میدک میں باپ بیٹے کی دل دہلا دینے والی داستان — غربت، بے بسی اور محبت کا ایسا انجام جس نے سب کو رُلا دیا

تلنگانہ کے ضلع میدک کے نرساپور میں پیش آئے ایک افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔ یہ کہانی صرف ایک باپ اور بیٹے کی نہیں، بلکہ ان ہزاروں چہروں کی بھی ہے جو غربت اور قرض کے شکنجے میں تڑپ رہے ہیں۔
48 سالہ سید عارف، جو روزانہ اپنی آٹو رکشہ کے ذریعے چند روپے کماتے تھے، زندگی کی سختیوں کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہے تھے۔ مگر تقدیر کے وار اتنے کاری ثابت ہوئے کہ اُن کی ہمت آخر کار جواب دے گئی۔ چند ہفتے قبل پیش آئے ایک حادثے نے ان کی ہڈی پسلی توڑ دی، روزی کا ذریعہ چھن گیا، اور قرض خواہ روز دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔
ایک شام جب وہ مایوسی کی تاریک وادی میں ڈوبے بیٹھے تھے، گھر والوں سے بس اتنا کہا:
"اب میں مزید نہیں جی سکتا…” اور زہر کی شیشی لبوں سے لگا لی۔
یہ منظر ان کے کم عمر بیٹے صیان کے لیے قیامت بن گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے باپ لڑکھڑا رہا تھا، اور وہ چیختے ہوئے بولا: "ابّو، آپ کے بغیر میں کیسے جیوں؟” پھر باپ کے ہاتھ سے زہر چھین کر خود بھی پی گیا۔
گھر میں چیخ و پکار مچ گئی، محلے والے دوڑے آئے، دونوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ والد عارف کی سانسیں تھم گئیں، اور ننھا **صیان** زندگی اور موت کے بیچ جھول رہا ہے۔
اس المیے نے نہ صرف نرساپور بلکہ پورے تلنگانہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں: آخر کب تک غربت اور قرض کے بوجھ تلے ایسے خاندان کچلے جاتے رہیں گے؟ کب کوئی ہاتھ ان بے بسوں کو سہارا دے گا؟
یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی محبت اور مایوسی دونوں ایک ہی پیالے میں گھل جاتے ہیں— اور انسان یہ نہیں جان پاتا کہ کون سی چسکی زہر بن جائے گی۔




