ناندیڑ سٹی نیوز کی نئی تاریخ – انسٹاگرام پر چار لاکھ فالوورز کی شاندار کامیابی

ناندیڑ سٹی نیوز نے ایک اور سنہری سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔ انسٹاگرام پر چار لاکھ (400K) فالوورز مکمل ہونا صرف ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عوام الناس نے ناندیڑ سٹی نیوز پر اعتماد کیا، اس کے ساتھ جڑے رہے اور اس کے مشن کو اپنا سمجھا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں ہر خبر سیکنڈوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، وہاں ناندیڑ سٹی نیوز نے اپنی محنت، سچائی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے جذبے کے ساتھ اپنے لئے ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کی اصل طاقت اس کے قاری اور ناظر ہوتے ہیں۔ ناندیڑ سٹی نیوز نے اپنے آغاز سے ہی مقامی خبروں کو ترجیح دی، عوامی مسائل کو زبان دی، مظلوم اور بے سہارا طبقات کی آواز کو بلند کیا، اور سیاست، تعلیم، صحت، روزگار، تہذیب اور کلچر کے میدانوں میں ایسی رپورٹنگ کی جو براہِ راست عوام کی زندگی سے جڑی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے نہ صرف اس پلیٹ فارم کو سراہا بلکہ اسے آگے بڑھانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
چار لاکھ فالوورز اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ ناندیڑ کے عوام نے ناندیڑ سٹی نیوز کو محض ایک نیوز پیج نہیں بلکہ اپنی اجتماعی آواز سمجھا۔
صحافت کے میدان میں سب سے بڑی طاقت "اعتماد” ہے۔ جھوٹی خبروں، افواہوں اور فیک پروپیگنڈا کے اس دور میں ناندیڑ سٹی نیوز نے ہمیشہ سچائی کو اولیت دی۔ مشکل حالات ہوں، سیاسی ہنگامے ہوں یا سماجی ناانصافیاں اس پلیٹ فارم نے بلا خوف اور بلا جھجک سچائی کو سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ناندیڑ سٹی نیوز کو ایک "ایماندارانہ” اور "ذمہ دار” صحافتی ادارہ سمجھتے ہیں۔
ناندیڑ ایک تاریخی اور تعلیمی شہر ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ناندیڑ سٹی نیوز نے نوجوانوں کی آواز کو ہمیشہ آگے بڑھایا۔ چاہے وہ تعلیمی مسائل ہوں، بے روزگاری کے چیلنجز ہوں یا طلبہ تحریکیں، اس پلیٹ فارم نے ہر موقع پر نوجوانوں کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ کسانوں، مزدوروں، اقلیتی طبقات، خواتین اور دبے کچلے طبقات کی مشکلات کو اجاگر کرنا بھی اس چینل کی ایک نمایاں خصوصیت رہی۔
ناندیڑ اپنی وراثتی تاریخ، گورودوارہ ہزوری صاحب، اولیاء کرام کے مزارات، میلوں ٹھیلوں اور مختلف تہذیبی میل جول کے لئے مشہور ہے۔ ناندیڑ سٹی نیوز نے ہمیشہ اپنی رپورٹنگ میں اس ثقافتی ورثے کو زندہ رکھا۔ چاہے وہ بیل پولاجیسا دیہی تہوار ہو یا میلادالنبیؐ، گنیش اتسو یا گرونانک جینتی – ہر موقع پر یہ پلیٹ فارم عوامی جذبات کی سچی عکاسی کرتا رہا۔
ناندیڑ سٹی نیوز کی ایک بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے عوامی مسائل کو صرف رپورٹ نہیں کیا بلکہ ان کے حل کے لئے عوامی دباؤ بھی پیدا کیا۔ بے شمار ایسے مواقع آئے جب کسی عام شہری کی چھوٹی سی شکایت اس پلیٹ فارم کے ذریعے سامنے آئی اور وہی خبر اتنی بڑی تحریک بنی کہ حکومتی اداروں کو فوری ایکشن لینا پڑا۔ اس طرح ناندیڑ سٹی نیوز ایک "خبر رساں ادارہ” ہی نہیں بلکہ "سماجی انصاف کی تحریک” بھی بن گیا۔
چار لاکھ فالوورز محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ فالوورز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ناندیڑ سٹی نیوز اپنی غیرجانبداری، سچائی اور عوام دوستی کی روایت کو مزید مضبوط کرے۔ آج جبکہ سوشل میڈیا پر صرف تفریح اور سنسنی خیزی کو اہمیت دی جاتی ہے، وہاں ناندیڑ سٹی نیوز کو یہ چیلنج بھی درپیش ہے کہ وہ خبر اور صحافت کو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ آگے بڑھائے۔
یہ کامیابی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی ہے جس نے ناندیڑ سٹی نیوز کو فالو کیا، اس کی پوسٹ کو شیئر کیا، اس پر تبصرہ کیا اور اپنی آواز اس کے ذریعے بلند کی۔




