مہاراشٹرا

ناگپور کانگریس میں چپقلش: سنیل کیدار پر بی جے پی سے ملی بھگت کے الزامات، مجیب پٹھان نے راہل گاندھی و کھڑگے کو خط لکھا

ناگپور ،۲۰؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ)مہاراشٹر میں نگر پریشد انتخابات جوں جوں قریب آ رہے ہیں، ناگپور ضلع کی کانگریس میں اندرونی ٹکراؤ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ پارٹی کے اندر گروہ بندی ٹکٹ بٹوارے پر تنازع، اور سینئر رہنماؤں کے فیصلوں پر کارکنوں کی ناراضگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بوٹی بوری سمیت ضلع کے کئی علاقوں میں کانگریس کی کمزور ہوتی پوزیشن کے پس منظر میں یہ جھگڑا اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

اس تنازع کی بنیاد اس وقت پڑی جب کانگریس کے سابق جنرل سیکریٹری مجیب پٹھان نے پارٹی لیڈر راہل گاندھی اور صدر ملکارجن کھڑگے کو ایک خط لکھ کر سابق وزیر سنیل کیدارپر سنگین الزامات عائد کیے۔ پٹھان کے مطابق بوٹی بوری میونسپل کونسل انتخابات میں کیدار نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے آر ایس ایس سے قریب ایک شخص کو کانگریس کے نام پر میدان میں اتارا۔ مزید یہ کہ میئر کے عہدے کے لیے کانگریس کے چار ممکنہ امیدواروں میں سے کسی کو بھی آفیشل AB فارم جاری نہ کرنے کے فیصلے نے ماحول کو مزید مشکوک بنا دیا اور نتیجتاً بوٹی بوری میں

’پنجہ‘ نشان ہی غائب ہو گیا۔ اس کے باعث مقامی کانگریسی کارکنوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔الزامات یہیں تک محدود نہیں رہے۔ کانگریس کے سابق ضلع صدر بابا اشٹیکر نے بھی سنیل کیدار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1200 کروڑ روپے کے بینک اسکیم کی ریکوری کا معاملہ زیر التوا ہے، ایسے میں کیدارکی جانب سے بی جے پی کے حق میں فضا تیار کرنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اشٹیکر کے مطابق، وفادار کانگریسی کارکنوں کو نظر انداز کرکے باہر سے لائے گئے افراد کو ٹکٹ دینا، جن میں سے کئی سابق بی جے پی کارکن رہے ہیں، پارٹی کے لیے

ایک بڑا دھچکا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ ڈگڈوہ اوربوٹی بوری دونوں مقامات پر کانگریس نے بالواسطہ طور پر سابق بی جے پی کارکنوں کو فائدہ پہنچایا۔کانگریس کی اس اندرونی گروہ بندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کامٹی کے سابق میئر انصاری نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر این سی پی (شرد پوار گروپ) کا دامن تھام لیا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی پالیسی نے وفاداروں کو مایوس کیا ہے اور اس کے منفی اثرات براہِ راست تنظیم کی طاقت پر پڑ رہے ہیں۔ انہی حالات کے پیشِ نظر ضلع کے متعدد عہدیداران نے ریاستی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال سے سنیل کیدار کے خلاف

فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایکشن نہ لیا گیا تو وہ دہلی جا کر ہائی کمان سے براہِ راست شکایت کریں گے۔نگر پریشد انتخابات کے بالکل قریب کانگریس کے اندر پیدا ہونے والی یہ کشمکش پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اندرونی اختلافات نے کانگریس کی انتخابی تیاریوں کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر بوٹی بوری میں جہاں پارٹی کا انتخابی ڈھانچہ پہلے ہی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ اب سب کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دہلی ہائی کمان اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور آنے والے دنوں میں پارٹی اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپناتی ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!