مضامین

نبیﷺ کا جنگی ضابطہ دشمن نہیں، ظلم کے خلاف جنگ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

جنگ انسانی تاریخ کا ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار باب ہے جس پر خون سے تحریر کی گئی داستانیں ثبت ہیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ہر عہد میں جنگ کے سائے لمبے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں سکندرِ اعظم کی فتوحات ہیں تو کہیں چنگیز خان کی بربریت؛ کہیں صلیبی جنگوں کی خون آشامی ہے تو کہیں استعمار کی بے رحمی۔ طاقت، مفاد، اقتدار، اور بقاء کے نام پر نوعِ انسان پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے گئے کہ زمین بھی سسک اُٹھی، اور آسمان نے بھی آنکھیں موند لیں۔ جنگ کا میدان صدیوں تک وہ دلدل رہا جہاں صرف شمشیر کی جھنکار گونجتی تھی، اور اخلاق، رحم، عزّت اور انسانیت کے الفاظ بے جان لاشوں کی مانند پڑے رہتے۔ فاتح کو حق ہوتا کہ مفتوح کی حرمت پامال کرے، اس کے مال کو غنیمت سمجھے، اور اس کے خون کو ارزاں جانے۔ تہذیبیں راکھ ہوئیں، نسلیں اجڑیں، عزتیں تاراج ہوئیں، اور انسانیت بارہا شرمندۂ وجود بنی۔

مگر ایسے ہی ایک تاریک افق پر، جب ظلم و جبر کا طوفان انسانیت کی کشتی کو غرق کر رہا تھا، تب نبوت کے آخری تاجدار حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا ظہور ہوا۔ وہ ذات کہ جن کی آمد ہی انسانیت کے لیے پیامِ امن تھی، وہی جب مدینۂ طیبہ سے جنگ کے میدان میں قدم رکھتے ہیں، تو دنیا ایک نئی روشنی سے آشنا ہوتی ہے ایسی روشنی جو تلوار کی دھار پر بھی اخلاق کی ضو فشانی کو برقرار رکھتی ہے، جو نیزے کی نوک پر بھی عدل و رحم کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیتی۔ رحمتِ عالمﷺ نے جب جنگ کی ناگزیری کو قبول کیا، تو محض جنگ نہیں کی بلکہ جنگ کو تہذیب بخشی، اسے ایک ضابطے، ایک شریعت، ایک اخلاقی نظام کے تابع کیا۔ آپؐ نے دنیا کو بتایا کہ میدانِ جنگ میں بھی انسان باقی رہ سکتا ہے، کہ دشمنی کی انتہاء بھی انسانیت کی حدوں سے باہر نہیں جا سکتی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرتِ مبارکہ جنگ کی وحشت کو اخلاق کی لَو میں ڈھال دینے کا نام ہے۔ آپؐ نے دنیا کو سکھایا کہ جنگ کرنا بہادری نہیں، جنگ کے دوران عدل، حلم، رحم اور تہذیب کو زندہ رکھنا اصل شجاعت ہے۔ آپؐ کا ہر میدانِ جنگ درحقیقت انسانیت کی فتح، اور ظلم کی شکست کی علامت ہے۔ اگر آج کی دنیا اس ضابطے کو اپنائے، تو نہ صرف جنگ کے تصور کو اخلاقی رنگ دیا جا سکتا ہے، بلکہ دنیا کو امن، انصاف اور انسانیت کی حقیقی منزل تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔

اسلامی جنگ کا تصور: آغاز ہی سے دفاعی، نہ کہ جارحانہ

جب تاریخِ انسانی کے افق پر ظلمت کی دبیز چادر تنی ہوئی تھی، کمزور اقوام طاقتوروں کے ظلم تلے کچلی جا رہی تھیں، اور جنگ کا مطلب صرف فتح، غنیمت اور اقتدار کی ہوس بن چکا تھا۔ تب اسلام نے جنگ کو محض ایک ہتھیار نہیں، بلکہ ایک مقدّس ذمّے داری کے قالب میں ڈھالا۔ جنگ کو لالچ اور جارحیت کے بجائے، مظلوم کی مدد اور ظالم کے ہاتھ روکنے کا وسیلہ بنایا۔ یہ وہ انقلابی تصور تھا جس نے جنگ کے مفہوم کو ہی بدل کر رکھ دیا۔

نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ہمیں کہیں بھی جنگ کی پہل نظر نہیں آتی۔ آپؐ کی زندگی کا ہر معرکہ، ہر لشکر کشی، اور ہر تیغ کشی صرف اور صرف ناگزیر حالات کا نتیجہ تھی۔ قرآنِ کریم کا حکم بھی اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے: "أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللّٰهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ”۔ "اجازت دی گئی ان لوگوں کو (لڑنے کی) جن پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللّٰہ ان کی مدد پر قادر ہے” (سورۃ الحج: 39)۔ یہ "اجازت” ہے، "حکم” نہیں۔ یہ آغاز نہیں، ردّعمل ہے؛ یہ جارحیت نہیں، مظلومیت کی پکار ہے۔

نبیﷺ کا جنگی ضابطہ: الفاظ نہیں، عمل کی گواہی

تاریخِ انسانی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ خون، بارود، اور بے رحمی کی دھند میں انسانیت کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ مگر ایسی تاریکی میں اگر کوئی مینارِ نور بن کر اُبھرا ہے، تو وہ محمد مصطفیٰﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہوں نے جنگ جیسے پرآشوب لمحوں میں بھی اخلاق، عدل، اور انسانیت کے دامن کو تھامے رکھا۔ آپؐ کا جنگی ضابطہ محض فوجی حکمتِ عملی نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی دستور، ایک آفاقی چارٹر تھا۔

1. غیر مقاتلین کی حرمت: کمزوروں کے لیے ڈھال

جب اسلامی لشکر کسی مہم پر روانہ ہوتا، تو آپؐ کی زبانِ مبارک سے ایک ایسا پیغام سنائی دیتا جو آج بھی انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد بن سکتا ہے: "کسی بوڑھے، بچّے، عورت، یا عبادت گزار راہب کو قتل نہ کرنا” (ابو داؤد)۔

یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ صرف میدانِ قتال تک محدود نہ تھی، بلکہ عورتوں کی آبرو پامال کرنا، بچّوں کو غلام بنانا، اور عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، طاقت کا معمول بن چکا تھا۔ مگر نبی کریمﷺ نے کمزوروں کے حق میں عدل کا پرچم بلند کیا۔ گویا آپؐ نے اعلان کیا کہ "فتح، تباہی کا نام نہیں، بلکہ فلاح کا موقع ہے”۔

عیسائی راہب، جو غاروں میں خدا کو پکارتے تھے، اُن کی عبادت گاہیں مسلمانوں کی تلوار سے محفوظ رہیں، اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے بیت المقدّس کی فتح پر وہاں کی کلیسا میں نماز پڑھنے سے اجتناب کیا، تاکہ بعد کے مسلمان اُسے مسجد میں نہ بدل دیں۔

2. ماحولیات کا تحفّظ: درختوں اور زمین کی زبان سمجھنے والا سپہ سالار

آج جب ماحولیاتی بحران پر بین الاقوامی کانفرنسیں ہو رہی ہیں، نبی کریمﷺ چودہ سو سال پہلے جنگی مہمات کے دوران درختوں کو کاٹنے، کھیتیاں جلانے اور جانوروں کو بلا ضرورت ہلاک کرنے سے منع فرما رہے تھے۔ یہ حکم محض معاشی حکمت نہیں تھی، بلکہ ایک روحانی بیداری تھی کہ "زمین اللّٰہ کی امانت ہے، اور انسان اس کا امین”۔ آپؐ نے فرمایا: "درخت نہ کاٹو، کھیتیاں نہ جلاؤ، جانوروں کو بے وجہ نہ مارو” گویا جنگ میں بھی فطرت کی سانسوں کو باقی رکھنے کا سبق دیا۔

یہ اصول ہمیں حضرت ابوبکرؓ کے اُس خطبے میں بھی ملتا ہے، جو انہوں نے یمامہ کے سفر پر روانہ ہونے والے لشکر کو دیا: "تم درختوں کو نہ کاٹنا، عورتوں اور بچّوں کو قتل نہ کرنا، راہبوں کو ان کی عبادت گاہوں میں نہ ستانا”۔ ایسا لگتا ہے جیسے اسلامی فوج نہیں، ایک نقیبِ اخلاق روانہ ہو رہا ہو۔

3. عہد کی پاسداری: وعدہ، چاہے دشمن سے ہو

دنیا کے بیشتر فاتحین اپنے وعدوں کو طاقت کے سامنے پامال کر چکے ہیں۔ مگر نبی کریمﷺ نے وعدے کو ایسی حرمت عطاء کی، جو صرف الفاظ کی پابندی نہ تھی، بلکہ ضمیر کی شہادت پر مبنی تھی۔ صلح حدیبیہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جو بظاہر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا، جس میں الفاظ کی ترمیم بھی آپؐ نے برداشت کی، صرف اس لیے کہ وعدے کی لاج باقی رہے۔

حضرت علیؓ معاہدے میں "رسول اللّٰہ” لکھنے لگے تو قریش نے اعتراض کیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "علیؓ! یہ لفظ مٹا دو”۔ علیؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللّٰہ! میرا ہاتھ نہیں اُٹھتا”۔ تو آپؐ نے فرمایا: "مجھے دکھاؤ، میں خود مٹا دیتا ہوں”۔ یہ منظر ایک فاتح کا نہیں، ایک نبی کا ہے، جو تاریخ کو سکھا رہا ہے کہ "وفا، طاقت سے نہیں، سچائی سے جنم لیتی ہے”۔

نبی کریمﷺ کے جنگی ضابطے وہ آئینہ ہیں، جس میں انسان اپنی اصلیت دیکھ سکتا ہے۔ آپؐ نے دشمن کو شکست دینے سے پہلے اپنے نفس پر فتح حاصل کی، اور دنیا کو بتایا کہ جنگ کی اصل کامیابی میدان میں نہیں، دلوں میں جیت ہوتی ہے۔ آپؐ کا ہر عمل گواہی دیتا ہے: "یہ ضابطے کتابوں کے لیے نہیں، دلوں میں اُترنے کے لیے ہیں”۔ آج کے شوریدہ حال دور میں جب جنگیں پھر سے ظلم کا بازار بن رہی ہیں، ہمیں نبی رحمتﷺ کی اس سیرت کی طرف پلٹنے کی ضرورت ہے جہاں الفاظ نہیں، کردار بولتے ہیں۔

فتحِ مکّہ: جنگی اخلاق کی معراج

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو آپ کو بے شمار جنگیں ملیں گی فتح کے جشن، شکست خوردہ قوموں پر ظلم، عورتوں کی عصمت دری، معبدوں کی توہین، بچّوں کا قتل۔ مگر "فتحِ مکّہ” ایک ایسی مثال ہے جو جنگوں کی تاریخ میں رحمت، رواداری، اور انسانی عظمت کا مینارِ نور ہے۔ 8 ہجری کا وہ دن جب نبی کریمﷺ دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکّہ میں داخل ہوئے۔ یہ وہی شہر تھا جس نے آپؐ کی راہ میں کانٹے بچھائے، طائف میں پتھر برسائے، شعبِ ابی طالب میں محاصرہ کیا، اور آپؐ کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کو بے دردی سے شہید کر کے لاش کا مثلہ کیا۔ انتقام انسانی فطرت کا مطالبہ تھا، مگر رحمت، نبوی فطرت کا مظہر بنی۔

جب اہلِ مکّہ کو اکٹھا کیا گیا، سب کے چہرے زرد، آنکھوں میں خوف، کہ اب ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ مگر نبی رحمتﷺ نے وہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: "لَا تَثْرِيبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ، اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء”۔ "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ، تم سب آزاد ہو!” (سیرۃ ابن ہشام)۔ یہ الفاظ صرف معافی نہیں تھے، یہ انسانی عظمت کی معراج تھی۔ گویا محمدﷺ کی زبان سے عدل کا موتی نہیں، رحمت کا سمندر بہا۔ وہ مکّہ جو آپؐ کی دشمنی میں سرکش رہا، اُس پر نبیؐ نے اپنے اخلاق سے قابو پایا، نہ کہ اپنی تلوار سے۔

ابو سفیان، جو لشکرِ احزاب کے معماروں میں سے تھا، اُس کے لیے آپؐ نے فرمایا: "جو ابو سفیان کے گھر چلا جائے، وہ محفوظ ہے”۔ یہ اعلان اُس دشمن کو تحفّظ دینے کا اعلان تھا جس نے مدینہ پر حملوں کی بنیاد رکھی۔ یہ صرف معافی نہیں، قیادت کا ظرف تھا۔ ہندہ بنتِ عتبہ جس نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا جب ایمان لے آئی، تو نبی کریمﷺ نے اُسے بھی معاف کردیا۔ یہ صبر کا وہ دریا تھا جس کا کنارہ بھی تاریخ کو نہ مل سکا۔ وحشیؓ، جنہوں نے نیزہ مار کر حضرت حمزہؓ کو شہید کیا، جب ایمان لا کر نبیؐ کے سامنے آئے، تو آپؐ نے کہا:  "اگر تم مجھے نظروں سے اوجھل رہا کرو تو بہتر ہے”۔ یعنی تکلیف کے باوجود، آپؐ نے معافی دے دی۔ صرف دل کی چبھن چھپی رہی، بدلہ نہیں لیا گیا۔

آج جب قومیں طاقت کے نشے میں اپنے ہی بھائیوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہیں، مساجد اور گرجے گرا دیے جاتے ہیں، عورتیں ویرانوں میں چیختی رہ جاتی ہیں وہاں محمدﷺ کے اس طرزِ عمل کی گونج سنائی دیتی ہے: "اصل فتح وہ ہے، جو دلوں کو مسخر کرے، لاشوں کو نہیں!”۔ فتحِ مکّہ میں نہ کوئی قید خانہ بھرا، نہ کسی کو غلام بنایا گیا، نہ مالِ غنیمت کی تقسیم ہوئی بلکہ بت توڑے گئے، مگر دل جوڑے گئے؛ تلوار نیام میں رہی، زبان سے معافی نکلی؛ شہر زیرِ نگیں آیا، مگر دلوں پر حکومت دلوں سے ہوئی۔

فتحِ مکّہ دراصل قرآن کے اس پیغام کا عملی نمونہ ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے (الأنبیاء: 107)۔ یہ رحمت اُس دن سب سے زیادہ واضح ہوئی جب قوت اور اختیار کی معراج پر کھڑے ہو کر نبیﷺ نے سرکشی، انتقام اور ذاتی غصّے کو پاؤں تلے روند ڈالا اور وہ کر دکھایا جو تاریخ کے کسی فاتح نے نہ کیا۔

قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک: نبیؐ کی روشن روایت

جنگ کے بعد جب تلواریں تھم جاتی ہیں، تو سب سے کڑا امتحان فتح یافتہ قوم کے اخلاق کا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کی اصل تہذیب، اصل دین، اور اصل ظرف آشکار ہوتا ہے۔ نبی رحمتﷺ نے قیدیوں کے ساتھ جس سلوک کی بنیاد رکھی، وہ صرف اخلاق نہیں، بلکہ ایک انقلابی فکری موڑ تھا ایسا موڑ جس نے انسانیت کو قید سے آزادی کی نئی تعریف دی۔ غزوۂ بدر اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی۔ جنگ کے بعد 70 کے قریب مشرکینِ مکّہ قید ہوئے۔ ان میں کچھ وہ تھے جنہوں نے اسلام اور نبی کریمﷺ کے خلاف سالہا سال محاذ کھولا تھا۔ مگر جب وہ قید ہو کر آئے، تو نبیﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو حکم دیا: "ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو!” (سیرۃ ابن ہشام)

حضرت ابو العاصؓ، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا، خود فرماتے ہیں: "مدینہ کے مسلمان خود بھوکے رہتے، مگر جو کچھ ہوتا، ہمیں کھلا دیتے۔ روٹی ہمیں دیتے، خود کھجور پر گزارا کرتے”۔ یہ صرف رواداری نہیں تھی، یہ دلوں کو جیتنے کی حکمتِ نبوی تھی۔ نبی کریمﷺ نے قیدیوں کے ساتھ ایک اور حیرت انگیز فیصلہ کیا جو آج بھی ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کے لیے باعثِ تعجب ہے۔ فرمایا: "جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتا ہو، وہ دس مسلمان بچّوں کو پڑھنا سکھا دے تو اُسے آزاد کر دیا جائے گا” (ابو داؤد)۔

تصور کیجیے، یہ وہ زمانہ تھا جب تعلیم ایک نایاب خزانہ تھی، اور قیدیوں سے عام طور پر جسمانی مشقت لی جاتی تھی مگر نبی کریمﷺ نے تعلیم کو آزادی کا ذریعہ بنا دیا۔ یہ تعلیم کا ایسا مقام تھا جو بعد کے ادوار میں "علم دشمنی” کی جنگی نفسیات کے بالکل برعکس تھا۔ آپؐ نے علم کو شمشیر سے بلند تر مقام عطاء کیا۔

قیدیوں کو صرف ظلم سے بچانا مقصد نہ تھا نبیﷺ نے انہیں انسانی شرافت کے ساتھ رکھا۔ ان سے حسنِ سلوک اس درجہ تھا کہ دشمن بھی حیران ہوئے۔ حضرت عباسؓ، جو پہلے قیدیوں میں شامل تھے، فرماتے ہیں: "میں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی جان لیا کہ محمدؐ کا دین سچ ہے، کیونکہ جب میں قیدی تھا، میرے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو کوئی بھی اپنے عزیز کے ساتھ کرتا ہے”۔ یہ وہ سلوک تھا جو صدیوں بعد Geneva Conventions کے دفاتر میں قلمبند ہوا۔ مگر محمدﷺ نے اسے عملی مثال کے طور پر دنیا کے سامنے رکھا۔

نبی کریمﷺ نے ہمیں سکھایا کہ قیدی دشمن نہیں، امانت ہوتا ہے۔ جس طرح مالِ غنیمت میں خیانت حرام ہے، ویسے ہی قیدی کی توہین اور اس پر ظلم حرام ہے۔ آپؐ نے قیدیوں کو عذاب کی علامت نہیں، دعوتِ فکر و اصلاح کا موقع سمجھا۔ "قید خانہ جسم کو روکتا ہے، مگر حسنِ سلوک دل کے دروازے کھول دیتا ہے”۔ آج جب دنیا مہذب ہونے کے دعوے کے باوجود قیدیوں پر تشدّد، نسل پرستی، اور ذہنی اذیت کے طرزِ عمل سے باز نہیں آتی، ہمیں نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ کی طرف پلٹنے کی ضرورت ہے جہاں قید بھی عزّت کا باعث ہے، اور رہائی کا دروازہ علم و اخلاق سے کھلتا ہے، نہ کہ سودے بازی سے۔

رحمۃٌ للعالمین کی جنگی حکمت عملی: رحم، جہاں تلوار رک جائے

کسی بھی جنگی سپہ سالار کا دل عموماً فولادی ہوتا ہے۔ فیصلہ، سرعت، اور سختی، ایک فاتح کے بنیادی اوزار تصور کیے جاتے ہیں۔ مگر نبی اکرمﷺ کی قیادت کا مرکز فولاد نہیں، رحمت تھی ایسی رحمت جو ٹوٹتے دلوں کو جوڑ دے، زخمی روحوں کو سہارا دے، اور دشمن کے سینے میں بھی انسانیت کی چنگاری روشن کر دے۔

طائف کے میدان میں جب نبی کریمﷺ کا خون جسم سے بہتا ہوا زمین کو تر کر رہا تھا، پتھر کھانے کے باوجود دل میں انتقام کی چنگاری نہیں اٹھی۔ بلکہ جب فرشتہ حاضر ہو کر پہاڑوں کو ان پر پلٹ دینے کی اجازت مانگتا ہے، تو آپؐ کی زبان سے وہ کلمات ادا ہوتے ہیں جو صرف رحمۃ للعالمین کی زبان سے ہی نکل سکتے ہیں: "نہیں! مجھے امید ہے کہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اللّٰہ کو مانیں گے”۔ یہ صرف ایک نبی کا صبر نہیں، ایک مصلح کا ویژن تھا، جو آج کی قیادتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

جنگِ اُحد میں نبی کریمﷺ پر ایسا سخت حملہ ہوا کہ آپؐ کے مبارک دانت شہید ہوگئے، چہرہ زخمی ہوگیا، اور آپؐ زمین پر گر پڑے۔ اگر کوئی دوسرا لیڈر ہوتا، تو انتقام کی آگ میں جل کر دشمن کو نیست و نابود کرنے کی دعا کرتا۔ مگر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "اللّٰھم اغفر لقومی فإنھم لا یعلمون”۔ "اے اللّٰہ! میری قوم کو معاف فرما دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں”۔یہ دعا کسی مایوس دل کی آہ نہیں، بلکہ اصلاح کی امید سے لبریز رحمت کی صدا تھی۔

خیبر کی فتح کے بعد ایک یہودی عورت نے نبی کریمﷺ کو زہر آلود گوشت کھلایا۔ ایک صحابی شہید ہو گئے، اور نبی کریمﷺ کو بھی تکلیف پہنچی۔ مگر جب وہ عورت پکڑی گئی، تو آپؐ نے اُسے قتل نہیں کروایا، بلکہ معاف کر دیا۔ تصور کیجیے! ایک فاتح، جو چاہے سزا دے سکتا ہے، مگر وہ معاف کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا دل انتقام کا میدان نہیں، رحمت کا سرچشمہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کے سلوک کی وہ تاثیر تھی کہ دشمن بھی آپؐ کے پاس آ کر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا۔ ہجرت کے وقت، سراقہ بن مالک آپؐ کے تعاقب میں آیا تاکہ انعام حاصل کرے۔ مگر جب آپؐ سے بات کی، تو دشمن کا دل بدل گیا اور وہ واپس چلا گیا، کیونکہ اسے لگا: "یہ وہ شخص نہیں، جس سے ڈرا جائے بلکہ وہ ہے، جس پر جان نچھاور کی جائے”۔

فتحِ مکّہ میں آپؐ کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان کو نہ صرف معاف کیا گیا، بلکہ اُس کے گھر کو امن کا مرکز قرار دے دیا گیا: "جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو، وہ محفوظ ہے”۔ یہ وہ اسلوبِ قیادت ہے جو امن کا دائرہ دشمن کے دروازے تک وسیع کر دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی جنگی حکمت عملی نہ صرف میدان میں کامیاب تھی، بلکہ انسانی دلوں کو جیتنے کی فنکاری سے لبریز تھی۔ آپؐ کے لیے فتح کا مطلب صرف زمین یا قلعہ نہیں تھا، بلکہ "جیت وہ ہے جس میں دشمن بھی مطمئن ہو جائے کہ وہ ہار کر بھی کچھ پا گیا ہے!”۔ رحمت اور حکمت کا یہ امتزاج دنیا کے ہر میدان میں فاتح ہے خواہ وہ میدانِ بدر ہو، خیبر ہو، یا دلوں کا منظر نامہ۔

عصرِ حاضر کے لیے سبق: اخلاقی جنگی ضابطہ، وقت سے بلند تر پیغام

یہ مضمون نبی کریمﷺ کے جنگی ضابطوں کے اُس آفاقی پیغام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صرف ماضی کا تاریخ پارہ نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے لیے ایک زندہ، متحرک، اور بےحد ضروری رہنمائی ہے۔ موجودہ دور میں، جب بارود انسانیت کے دامن کو جلا رہا ہے، اور جنگیں "فتح” سے زیادہ "نفع” کے اصول پر لڑی جا رہی ہیں، تو نبی اکرمﷺ کا عطاء کردہ اخلاقی جنگی منشور ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا انسان کی جان اب بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی وہ چودہ سو سال پہلے تھی؟ آج دنیا ڈرون کی آنکھ سے ہدف کو دیکھتی ہے، مگر اُس کے آنسو نہیں دیکھ پاتی۔ مہنگے ہتھیاروں سے لیس فوجیں، کاغذ پر نقش سرحدوں کے لیے وہ انسان مارتی ہیں، جن سے کبھی ہاتھ بھی نہیں ملایا گیا۔ ایسے میں نبی کریمﷺ کا جنگی ضابطہ انسانیت کے بکھرے پرچم کو پھر سے سمیٹنے کی دعوت دیتا ہے۔

نبی کریمﷺ کے دیے گئے اصول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ غیر مقاتلین کو قتل نہ کرو؛ عہد و پیمان کی پاسداری کرو؛ ماحول، کھیت، اور چرند پرند کو بھی جنگ سے بچاؤ؛ قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھو۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں آج کی دنیا Geneva Conventions، Human Rights Charters اور War Tribunals کے نام سے دریافت کر رہی ہے مگر نبی کریمﷺ نے انہیں نہ صرف 14 صدیاں پہلے متعارف کرایا، بلکہ اپنے عمل سے نافذ بھی کیا۔ آج طاقتور قومیں جنگ کے ذریعے اپنی برتری ثابت کرنا چاہتی ہیں، جبکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "طاقت کا اصل مظاہرہ کسی کو معاف کرنے میں ہے، نہ کہ مٹا دینے میں”۔ جنگِ بدر ہو یا اُحد، فتحِ مکّہ ہو یا خیبر ہر موقع پر نبیﷺ نے ثابت کیا کہ فتح صرف جسموں پر نہیں، روحوں پر بھی ہونی چاہیے۔ اگر جنگ کا مقصد عدل کا قیام ہو، نہ کہ انا کی تسکین، تب ہی وہ اخلاقی عمل کہلانے کے لائق ہے۔

نبی اکرمﷺ کا ضابطہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دشمن کو مارنے سے پہلے سمجھو، اور اگر ممکن ہو، بچاؤ۔ طائف کے مقام پر جب پتھروں سے زخمی نبیﷺ نے بددعا کی بجائے ہدایت کی دعا کی، تو انہوں نے صرف وہاں کے لوگوں کو نہیں، آنے والی نسلوں کو زندگی دے دی۔ غزوۂ اُحد میں زخمی ہونے کے باوجود جب آپؐ نے فرمایا: "اے اللّٰہ! میری قوم کو معاف فرما دے، وہ جانتے نہیں”۔ تو یہ غصّے کے لمحے میں شعور کی روشنی تھی، جو آج کی دنیا کے ایوانوں میں کمزور پڑ گئی ہے۔

اگر آج کی دنیا نبی کریمﷺ کے ان جنگی ضابطوں کو اپنائے! تو بچّوں کے معصوم چہروں پر ڈرون کا سایا نہ ہو؛ تو معبد، مسجد اور چرچ بمباری کے نقشے سے باہر ہوں؛ تو قیدی محض جسمانی سزا کے نشان نہ ہوں، بلکہ اصلاح کے امیدوار ہوں؛ اور فتح، غرور کا نعرہ نہ بنے، بلکہ انصاف کا جواز ہو۔

نبی کریمﷺ نے صرف مسجد کا ماحول پاکیزہ نہیں بنایا، بلکہ میدانِ جنگ کو بھی اخلاق و انسانیت کا گہوارہ بنا دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ تلوار ہاتھ میں ہو، تب بھی دل میں رحم باقی رہنا چاہیے۔ "نبیﷺ کا جنگی ضابطہ انسانیت کا ضابطہ ہے جو نہ قوموں کا پابند ہے، نہ زمانوں کا”۔ آج جب دنیا بارود کے بل پر امن ڈھونڈ رہی ہے، ہمیں نبیﷺ کی سیرت سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ امن صرف طاقت سے نہیں، اصول سے آتا ہے۔ اگر دلوں میں رحم ہو، تو تلواروں کو نیام میں جانا ہی پڑتا ہے۔

                    (ستمبر 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!