نبیﷺ کی اُمّت داعی اُمّت

نبی کی امت دراصل داعی امت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا دین بغیر کسی کمی بیشی کے انسانوں تک پہنچا دیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ ﷺ کو جو دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا وہ آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ اب یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ قرآن مجید نے واضح کیا ہے کہ شہادت علی الناس کی ذمہ داری اب امت محمدیہ پر ہے۔ اگر امت اس فریضے کو انجام دے گی تو اللہ تعالیٰ کے محبوب ٹھہرے گی، لیکن اگر اس سے غفلت برتی تو سخت باز پرس ہوگی اور اللہ کی گرفت سے کوئی چیز انہیں بچا نہیں سکے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر امت کو وصیت فرمائی کہ "جو یہاں موجود ہے وہ غیر موجود تک پہنچا دے۔” یہ وصیت آج بھی ہر مسلمان کے لیے رہنمائی ہے کہ دین کی دعوت کو دوسروں تک پہنچانا اس کا لازمی فریضہ ہے۔ امت اگر اس ذمہ داری کو ترک کرے گی تو قیامت کے دن جواب دہی سے بچ نہیں سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائے، بالکل اسی طرح جیسے اللہ کے پیغمبروں نے انجام دیا۔
دعوت دین دراصل رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی سنت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اسی فکر اور جدوجہد میں گزرا کہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلایا جائے اور ان کا رشتہ خالق حقیقی سے جوڑا جائے۔ یہی مشن آپ ﷺ کے پورے تئیس سالہ دور نبوت میں نمایاں رہا۔ آج امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عظیم فریضے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے اور اسے صرف فرصت کے اوقات تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنی پہلی ترجیح قرار دے۔ یہی وہ کام ہے جو ہماری نجات، کامیابی اور سرخروئی کا ضامن ہے۔
اسی پس منظر میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) ساؤتھ مہاراشٹر زون نے 15 روزہ "دعوتی مہم” کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کے تحت ناندیڑ ضلع کی سطح پر ایک تفہیمی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں SIO ناندیڑ ڈسٹرکٹ کے تمام اراکین اور ذمہ داران شریک ہوئے۔ اس پروگرام کا مقصد امت کو اس کی اصل ذمہ داری یعنی "دعوت الی اللہ” کی یاد دہانی کرانا اور طلبہ و نوجوانوں میں اس فکر کو زندہ کرنا تھا کہ وہ اپنی زندگیوں میں دین کی تبلیغ اور دعوت کو اولین حیثیت دیں۔
یہ مہم دراصل اس بات کا عملی اظہار ہے کہ امت اپنی عظیم ذمہ داری کو پہچانے اور رسول اللہ ﷺ کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے بڑھائے۔ یہی وہ عمل ہے جو امت کو اللہ کے ہاں سرخرو کرے گا اور انسانیت کے لیے ہدایت و نجات کا ذریعہ بنے گا۔




