وقف اللہ کی ملکیت ہے، جس کو ہڑپنے کی کوشش ناقابل برداشت ہے!
چکمگلور کی تاریخی سرزمین سے وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف صدائے احتجاج!

مفتی افتخار احمد قاسمی، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی و دیگر کا ولولہ انگیز خطاب!
چکمگلور، 25/ اگست (پریس ریلیز): کرناٹک کے ضلع چکمگلور کے آزاد پارک کی تاریخی سرزمین پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کی ضلعی کمیٹی کی جانب سے ایک عظیم الشان احتجاجی”وقف بچاؤ دستور بچاؤ کانفرنس“ منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کرتے ہوئے وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ یہ ترمیم مسلمانوں کے دینی، سماجی اور تعلیمی ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ مسلمانوں پر حالات کا آنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ آزمائشیں اللہ کی طرف سے ایمان اور صبر کا امتحان ہیں، جنہیں مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا ہوگا۔
آج ہمارے دین میں مداخلت کی جارہی ہے، ہماری مساجد، اذان، مکاتب اور حجاب پر قدغن لگانے اور وقف املاک کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ سب ایک منظم سازش کا حصہ ہے جسے ہم آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ناکام بنائیں گے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ وقف اللہ کی امانت ہے، انسانوں کی بنائی ہوئی چیز نہیں، لہٰذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔ اگر حکومت اس غیر آئینی وقف ترمیمی قانون کو واپس نہیں لیتی تو ملت اسلامیہ آئینِ ہند اور اپنے دینی تشخص کے تحفظ کیلئے مجبوراً اپنی جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کا دور کبھی باقی نہیں رہتا، عنقریب یہ اندھیرا چھٹنے والا ہے اور روشنی کی صبح قریب ہے۔
اس موقع پر جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی ترقی اور حفاظت میں مسلمانوں کا کردار کلیدی رہا ہے۔ آزمائشیں ہمیشہ آتی رہی ہیں، ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ ان کا سامنا کرنا ہوگا۔ کچھ طاقتیں مذہب کی آڑ میں اختلاف اور نفرت کو بڑھاوا دینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اتحاد قائم رکھتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون 2025 دراصل وقف قوانین کو کمزور کرنے اور وقف املاک کو ہڑپنے کی ایک سازش ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کو یہ کالا قانون واپس لینا ہوگا اور وقف کی حفاظت کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ یہ غیر آئینی قانون ختم نہ کیا جائے۔
بورڈ کے رکن مولانا غیاث احمد رشادی نے کہا کہ ملت بہت سے مسائل میں گھری ہوئی ہے لیکن مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ ایمان و یقین پر ثابت قدم رہتے ہوئے دین و شریعت پر عمل پیرا ہونے سے حالات درست ہوں گے اور ظالموں کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ وقف ہماری مذہبی متاع ہے اور اس کو ہڑپنے کی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔اس کانفرنس میں اے پی سی آر کرناٹک کے صدر ایڈوکیٹ سدھیر کمار مرلی اور سماجی رہنما انگڑی چندرو نے کنڑی زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقف ترمیمی بل کی بھرپور مخالفت میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ تعارفی کلمات رضوان خالد امیر جماعت اسلامی چکمگلور نے کنڑی زبان میں پیش کیے۔ نظامت کے فرائض مفتی اصغر علی قاسمی نے انجام دیے جبکہ اجلاس کا اختتام کنوینر اجلاس مولانا خواجہ محی الدین رشادی کے کلماتِ تشکر اور دعا پر ہوا۔یہ عظیم الشان کانفرنس وقف کے تحفظ اور دستور کی بقا کیلئے مسلمانوں کے متحدہ عزم اور اجتماعی شعور کا شاندار مظہر بنی اور حکومت کو دوٹوک پیغام دیا گیا کہ وقف ترمیمی قانون کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جائے گا۔




