قومی

وقف امانت ہے

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں (مہاراشٹر)

وقف امانت ہے، یہ عطائے ربِ رحیم ہے، یہ دین کی بقا کا، ہمارے ایمان کا نعیم ہے۔ یہ مساجد کی روشنی، یہ مدارس کی ضیا، یہ خانقاہوں کا سکون، یہ مزارات کی فضا۔ یہ قبرستانوں میں سوئے بزرگوں کا امان، یہ ہماری نسلوں کی دعا، ہمارا ایمان۔ وقف ہے اللہ کی راہ کا نورِ مسلسل، جس میں شامل ہے اجداد کا اخلاصِ مکمل۔ ہم ہیں اس کے وارث، ہم ہیں اس کے نگہبان، یہ امانت ہمیں ملی ہے خدا کے فرمان۔

دستورِ ہند نے دی اس کے تحفظ کی ضمانت، کہ امانت رہے محفوظ، یہی ہے دیانت۔ مر جائیں گے، مٹ جائیں گے، مگر یہ عہد رہے گا، وقف کی حرمت پہ پہرہ، ہر دم یہ وعدہ رہے گا۔ یہ زمینیں، یہ عمارتیں، یہ آثارِ وفا،یہ سب امانت ہیں ‘ عبادت کی صدا۔ اے اہلِ ایماں! سنبھالو یہ امانت صدق دل سے، یہ وقف ہے رب کی رضا، دستور کے عمل سے۔ یہ دستور بھی امانت، یہ ایمان کی علامت، ہم ہیں اس کے محافظ ‘ یہی ہے ہماری خدمت۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!