مضامین

وقف ترامیم کو رد نہیں کرکے عدالت نے اپنا منشا ظاہر کردیا

ندیم عبدالقدیر
(فیچرایڈیٹر،روزنامہ اردو ٹائمز،ممبئی )
جس طرح بڑی کامیابی چھوٹی چھوٹی قسطوں میں آتی ہے اسی طرح بڑی تباہی بھی آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی شکستوں اور محرومیوں کی قسطوںمیں اترتی ہے اور ایک دن جب آنکھ کھلتی ہے تو پورا سرمایہ، پوری عزت، پوری پہچان چھن چکی ہوتی ہے۔وقف املاک کے معاملے پر سپریم کورٹ کی عبوری ہدایات مسلمانوں سے اُن کی لاکھوں ایکڑ زمینیں چھیننے کی تاریخی بربادی کی ایسی ہی ایک اور قسط ہے ۔ انصاف کے تقاضے کے مطابق تو مودی حکومت کا متنازع وقف قانون اس قدر یکطرفہ اور مسلمانوں کی زمینیں چھیننے کی غنڈہ گردی سے لیس تھا کہ اسے پہلی ہی سماعت میں ردّی کی ٹوکری کی نذر کردینا چاہئے تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے اس قانون کی سب سے متنازع شق ’’وقف بائے یوزر‘‘ پر بھی کوئی روک نہیں لگائی۔ یعنی جہاں پہلے سے مسجدیں ، مدرسے ، قبرستان ، عید گاہیں ،خانقاہیں ، مزاریں ، درگاہیں یا مکانات موجود ہیں ان زمینوں کو بھی حکومت وقف سے لے کر اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکتی ہے ۔ یہی وہ زخم ہے جو آنے والے برسوں میں ناسور بن جائے گا۔مودی حکومت کا متنازع وقف قانون مسلمانوں کی زمینوں پر قبضے کا قانونی جواز تھااور اب سپریم کورٹ کی عبوری ہدایات اس قبضے کو راستہ فراہم کرنے والی خاموش تائید۔

دراصل وقف املاک پر قبضہ کے معاملے پر مسلم قوم کے دانشور نما جاہلوں نے اتنی سینہ کوبی کی تھی کہ حکومت کو اس معاملے میں دخل اندازی کرنے کا بہت ہی آسان سا بہانہ مل گیا۔ ۔ مودی حکومت نے وقف قانون میں متنازع ترامیم کی حمایت میں وہی سارے جواز پیش کئے جو جملے ہماری قوم کے جاہلوں کی فوج اپنی تقریروں ، مضامین اور نجی محفلوں میں بیان کرتی رہتی تھی۔ مثلاً ’’’ہندوستان میں ریلوے کے بعد سب سے زیادہ زمینیں وقف کےپاس ہیں، وقف کی زمینوں کا اگر صحیح استعمال کیاجائے تو مسلمانوں کی معاشی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی وغیرہ‘‘۔ یہ سارے من گھڑت دعوے مودی حکومت کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں تھے اور حکومت نے اس نعمت کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں کوئی غلطی نہیں کی ۔

نریندر مودی اپنی ایک تقریر میں ان جملوں کو دہرا بھی چکےہیں۔ ہماری قوم کے جاہل مفکرین ، مدبرین،دانشوروں اور صحافیوں کی فوج یہ بھول گئی کہ کسی دیگر قبضہ کرنے والے سے تو زمینیں واپس لی بھی جاسکتی ہیں، لیکن حکومت سے کوئی زمین چھڑانا تقریباً ناممکن ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وقف کی زمینیں ایک ایسے شیر کے منہ میں جانے والی ہیں جہاں سے کچھ بھی واپس نہیں آسکتا ہے ۔ یہ سب اُس من گھڑت دعوے کے سبب ہونے جارہاہے جس کے مطابق ’’قوم وقف املاک کا صحیح استعمال نہیں کررہی ہے ‘‘۔(گویا اب حکومت ان زمینوں کا بالکل صحیح استعمال کرے گی)۔ حکومت صرف اُن املاک کو ہی نہیں ہتھیائے گی جن پر ناجائز قبضے ہیں، بلکہ اُن زمینوں پر بھی ہاتھ ڈال دے گی جہاں برسوں سے مسجدیں، مدرسے، قبرستان، عیدگاہیں ،خانقاہیں اور مکانات آباد ہیں ۔ویسے بھی مودی حکومت مسلمانو ں سے زمینیں خالی کرانے کے معاملے میں بہت مہارت رکھتی ہے بلکہ یہ معاملہ اس کی سیاست کا انتہائی اہم موضوع ہے۔ وقف معاملے میں بھی وہ اپنی اسی مہارت کا زبردست اظہار کررہی ہے او ر یقیناً مستقبل میں اس کا دائرہ مزید پھیلے گا۔

عدالت نے متنازع وقف قوانین پر سماعت کرکے اور اس کے کچھ حصوں پر روک لگاکر ایک طرح سے باقی قانون پر عدلیہ کی منظوری کی مہر بھی لگادی ہے ۔ قوم کے جاہلوں کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑ جانی چاہئےجنہیںوقف املاک پر قبضے کی سینہ کوبی کرنے کا شوق تھا۔ اپنے اس ’شوقِ کھجلاہٹ‘ میں ان لوگوں نے قوم کا اتنا بڑا نقصان کیا ہے جس کی تلافی شاید صدیوں میں بھی ممکن نہیں۔
سپریم کورٹ نے کچھ راحت ضروری دی ہے جیسے کلکٹر کےاختیارات معقول حد تک کم کردئیے گئے۔وقف کرنے والے کیلئے پانچ سال سےمسلمان ہونے کی شرط ہٹادی ، وقف بورڈ میں غیر مسلم ممبران کی حدبھی کافی حدتک کم کردی۔کسی بھی متنازع معاملے میں فیصلہ آجانے تک مذکورہ املاک سے وقف کو بے دخل نہیں کرنے کی ہدایت وغیرہ ۔تاہم، رجسٹریشن کی شرط کو عدالت نے جوں کے توں برقرار رکھا ہے اور یہ رجسٹریشن ہی سب سے کٹھن مرحلہ ہے کیونکہ رجسٹریشن کیلئے کاغذات کی ضرورت ہے اور صدیوں پرانی ہزاروں مسجدوں، مدرسوں، قبرستانوں اور عیدگاہوں کے کاغذات ملنا محال ہے ۔ اس طرح رجسٹریشن نہیں ہوگا اور رجسٹریشن نہیں ہوگا تو وہ زمین بھی حکومت لے سکتی ہے۔

عدالت کے ذریعے دی گئی عبوری راحت کو انتہائی آسان اور سادہ زبان میں اسطرح سمجھا جاسکتا ہے جیسے ، کسی شئے کی قیمت ۱۰۰؍روپے سے بڑھا کر ۵۰۰؍روپے کردی جائے اور جب عوام احتجاج اور مظاہرے کرے تو ۵۰۰؍روپے سے کم کرکے اس کی قیمت ۳۰۰؍روپے کردی جائے ۔ اس طرح عوام کو یہ بتایا جائے کہ عوام کی ہمدردی کا بہت خیال رکھا گیا ، یا پھر اسے ایسی مثال سے سمجھئے کہ کسی شخص سے۰ ۱۰۰؍روپے چھین لئے جائیں اور جب وہ بہت احتجاج کرے تو اسے ۵۰۰؍روپے واپس کرکے خاموش کردیاجائے ۔ ایسی صورت میں بھی وہ شخص اپنے ۵۰۰؍روپے گنوا بیٹھے گا۔ وقف قانون میں مودی حکومت کے ذریعے کی گئی جابرانہ ترامیم پر عدالت کی راحت بالکل اسی قسم کی راحت ہے ۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!