"وقف پر حملہ ہوا تو سڑکوں پر اتر آئے گے” جلگاؤں وقف بچاؤ خواتین کمیٹی کی حکومت کو کڑی وارننگ”

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد جلگاؤں میں وقف بچاؤ کمیٹی کی دلیر خواتین نے بلند آواز میں نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر اتر کر انصاف کی فتح کا جشن منایا۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، خوشی کے رنگ بکھیرے گئے اور بھائی چارے کی مضبوطی کا پیغام ہر گلی کوچے میں گونجا۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو واضح پیغام بھی دیا:”وقف پر ڈاکہ ڈالنے کی جُرت کرنے والا اپنی تباہی کی راہ خود چن لے گا۔”عالِمہ نازیہ بازی نے کہا،”یہ فیصلہ انصاف کی فتح ہے جو مظلوموں کی دعاؤں اور سچائی کی طاقت سے حاصل ہوا ہے۔ اب حکومت کو سمجھ لینا چاہیے کہ وقف ہماری عزت، ہماری پہچان اور ہماری زندگی ہے۔ اسے چھونا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔”

نعرے گونجے:”وقف پر حملہ – ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا”
"حق چھینا گیا تو سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک بندش ہوگی”
"سپریم کورٹ کا فیصلہ – ظلم کی شکست، انصاف کی کامیابی
وقف بچاؤ کمیٹی کی خواتین نے پختہ عزم ظاہر کیا کہ اب صرف وارننگ کا وقت نہیں رہا۔ اگر حکومت نے وقف جائیدادوں پر ناجائز نظریں دوڑائیں تو پورے ملک میں ایسا عوامی انقلاب اٹھے گا کہ اقتدار کی کرسیوں کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا:
"وقف قانون کو مکمل تحفظ دیا جانا چاہیے۔”
سپریم کورٹ کے فیصلے کا مختصر تعارف.کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ نے سپریم کورٹ کے 127 صفحات پر مشتمل 15 ستمبر کے تاریخی حکم نامے کا خلاصہ خواتین کو آسان زبان میں سمجھایا۔ فاروق شیخ نے واضح کیا کہ آئندہ کی حکمت عملی اجتماعی مشورے سے طے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی عزم دلایا کہ وقف بچاؤ کمیٹی کی تمام ذمہ داریاں خواتین برابری کی سطح پر اٹھائیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک حق کے لیے آواز بلند کریں گی۔
یکجہتی اور شجاعت کی انمول مثال.زبیدہ سیّد چاند، نازیہ اعجاز، زریہ رؤف، شبانہ رضوان، مہراج اقبال، سکینہ اسماعیل، سلمہ سلطان، یاسمین امبریلا، روبینہ اختر، ہاجرہ سلیم سمیت بے شمار بہادر خواتین نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔اسی تاریخی اجتماع میں وقف بچاؤ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ، سید چاند امیر، مشتاق کریمی، حافظ رحیم پٹیل، متین پٹیل، نجم الدین شیخ، طاہر شیخ، رؤف رحیم اور فاروق ٹیلر سمیت دیگر موجود تھے۔یہ جدوجہد صرف وقف جائیداد کی حفاظت نہیں، بلکہ آئین میں درج مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق کا دفاع ہے۔ یہ تحریک انصاف اور برابری کی علامت بن کر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن کر ابھری ہے۔




