وہ جو بیچتے تھے دوائے دل !!! آہ ! حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی نور اللہ مرقدہ


از قلم : مولانا سید اصف ملی ندوی
(امام و خطیب مسجد غنی پورہ ، ناندیڑ )
موبائل: 9892794952
کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو محض سماعت تک محدود نہیں رہتیں، وہ سیدھی دل پر اترتی ہیں۔ اور کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں کہ آنکھیں خبر پڑھ لیتی ہیں، مگر دل اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ قلم ہاتھ میں آتا ہے تو بوجھل ہو جاتا ہے، لفظ ساتھ دینے سے کتراتے ہیں، اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو تحریر سے پہلے کاغذ کو تر کر جاتے ہیں۔ آج یہی کیفیت ہے۔ محبوب العلماء والصلحاءحضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ کے وصال کی خبر نے دل کے کسی نہایت گہرے گوشے میں جیسے ایک چراغ بجھا دیا ہو۔ زبان بار بار “انا للّٰہ و انا الیہ راجعون” دہراتی رہی، مگر دل اب بھی اس حقیقت کے بوجھ کو پوری طرح قبول نہیں کر پا رہا کہ وہ سراپا نور، وہ سایۂ رحمت، وہ اصلاحِ قلوب کا امین اب اس دارِ فانی سے رخصت ہو چکا ہے۔
یہ غم محض کسی بڑی روحانی شخصیت کے دنیا سے چلے جانے کا نہیں، یہ غم ایک ایسے سائے کے اٹھ جانے کا ہے جس کی ٹھنڈک میں لاکھوں دلوں نے سکون پایا۔ حضرت کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی، مگر ہر شخص کے دل میں ان کا تعارف الگ تھا۔ کسی کے لیے وہ مرشد تھے، کسی کے لیے مصلح، کسی کے لیے مربی، اور کسی کے لیے محض ایک ایسی آواز جو دل کو سیدھا کر دیتی تھی۔
عاجز کے لیے حضرت کا پہلا تعارف بھی کچھ ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش منظر ہے۔ یہ اپریل 2011 کی بات ہے۔
اس وقت میرا مستقل قیام ممبئی میں تھا اور میں کویتی سفارت خانے سے وابستہ تھا۔ انہی دنوں حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ کے دورۂ ہند کی خبریں گردش میں تھیں۔ غالب گمان ہے کہ اس دورے کے نظم و نسق میں حضرت کے خلیفۂ مجاز مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کا نمایاں کردار تھا— اور قدرت کی شان کہ اسی شہر ممبئی سے اس روحانی سفر کا آغاز ہوا، جہاں نیرل میں حضرت نعمانی کا خانقاہی نظام اور تعلیمی ادارہ قائم ہے۔
حضرت کا پہلا پروگرام گوونڈی کے چھیڈا گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ دن اتوار کا تھا، کوئی ہنگامہ، کوئی غیر معمولی تشہیر نہیں، مگر اس کے باوجود میں خود اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ اس تاریخی اجلاس میں دو سے ڈھائی لاکھ کا مجمع موجود تھا۔ یہ حضرت کا پڑوسی ملک سے بھارت میں پہلا قدم تھا، اور اس آمد کا غلغلہ دلوں میں پہلے ہی پہنچ چکا
تھا۔ میں اس اجتماع میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک ہوا، اس لیے کہ خواتین کے لیے معقول اور باپردہ انتظام موجود تھا۔ مگر اصل منظر تو وہ تھا جب حضرت نے گفتگو شروع کی۔ دو سے ڈھائی لاکھ کا مجمع— اور ایسا سکوت کہ گویا مجمع کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، اور اگر کوئی حرکت کرے تو وہ پرندے اڑ جائیں۔ نہ کھانسی کی آواز، نہ بے چینی— بس ایک ہمہ تن گوش کیفیت۔ یہ محض خاموشی نہیں تھی، یہ قبولیت کی خاموشی تھی۔
حضرت کی بات میں نہ تصنع تھا، نہ خطیبانہ شور؛ مگر اثر ایسا کہ دل پر دستک نہیں، دست گیری ہوتی تھی۔ اسی ایک نشست نے دل پر وہ نقش چھوڑا جو آج تک تازہ ہے۔ اسی تاثیر کا ایک خاموش مگر گہرا اثر یہ ہوا کہ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اولادِ نرینہ سے نوازا تو میرے گھر میں، مجھ سے پہلے، میری اہلیہ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اس بیٹے کا نام حضرت کے نام پر رکھا جائے گا۔ چنانچہ نسبتاً میرے بڑے بیٹے کا نام ذوالفقار رکھا گیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ محض ایک نام نہیں، ایک دعا ہے ، اور آج بھی دل کی گہرائی سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے ذوالفقار کو حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ کی صفات، عادات، سادگی، اخلاص اور للہیت کا کچھ پرتو نصیب فرما دے۔
اس کے بعد ممبئی میں حضرت کے جتنے پروگرام ہوئے، اس عاجز کو ان میں شرکت کی سعادت حاصل رہی۔ حضرت کی زیارت بھی نصیب ہوئی، اور دست بوسی کا شرف بھی۔ یقینا یہ وہ لمحات ہیں جو یادداشت نہیں بنتے بلکہ دل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ عرض کرنا ضروری ہے کہ میرا حضرتؒ سے کوئی رسمی بیعت یا باقاعدہ ارادت کا تعلق نہ تھا۔ مگر اس کے باوجود (اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں) عاجز نے حضرت کی کتابوں، ان کے خطبات، ان کے مکتوبات اور بالخصوص تفسیرِ قرآن کے باب میں ان کی تحریروں سے ایسا گہرا استفادہ کیا ہے کہ دل خود اس کی گواہی دیتا ہے۔ سورۂ یوسف ، سورۂ کہف اور سورہ حجرات کے افادات ہوں یا دیگر تصانیف۔ ان کے مطالعے کے دوران بارہا یوں محسوس ہوا کہ میں محض الفاظ نہیں پڑھ رہا، بلکہ حضرت خود سامنے بیٹھ کر دل سے بات کر رہے ہیں۔ گویا تحریر صحبت میں بدل جاتی ہو۔
حضرت کی اصلاحی فکر کا مرکز ہمیشہ دل کی اصلاح، نفس کی شکست اور تعلق باللہ رہا۔ ان کے نزدیک بیعت کوئی رسم نہیں، بلکہ ایک امانت تھی؛ اور تربیت کوئی وقتی جوش نہیں، بلکہ عمر بھر کا سفر۔
انہوں نے کبھی خود کو مرکز نہیں بنایا، بلکہ لوگوں کو اللہ سے جوڑتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا اثر، ان کی فکر اور ان کی نسبت زندہ ہے۔ یہ غم یقیناً گہرا ہے،مگر اس غم میں ایک عجیب سی طمانیت بھی ہے کہ حضرت نے جو چراغ جلائے، وہ بجھنے والے نہیں۔ اے اللہ! ہم نے حضرت کو دیکھا، ہم نے
ان کو سنا، ہم نے ان سے پایا اور اب تیرے سپرد کر دیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائے، اور ہمیں ان کے چھوڑے ہوئے راستے پر اخلاص، ادب اور استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔




