مہاراشٹرا

پاچورہ تعلقہ اسکول بس ڈرائیور کی نازیبا حرکت، طالبہ ہراسانی کا شکار ، والدین میں خوف و غصہ

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی):
ضلع پاچورا تعلقہ میں ایک شرمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف مقامی عوام بلکہ پورے ضلع کو ہلا کر رکھ دیا ہے ایک اسکول کی دہم جماعت کی ایک طالبہ کو اسکول بس ڈرائیور نے مسلسل ہراساں کیا اور نازیبا جملوں کے ذریعے اس کی عزت نفس کو مجروح کیا۔پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت عابد حسین شیخ جلیل (38 سال، ساکن شندورنی، تعلقہ جامنیر) کے طور پر ہوئی ہے۔ عدالت نے اسے پانچ روزہ پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ روزانہ تقریباً 50 تا 60 طلبہ و طالبات شندورنی سے اسکول بس کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے جاتے ہیں۔ اسی دوران ڈرائیور نے متاثرہ طالبہ کو پہلے بارہا نازیبا جملے کہہ کر ہراساں کیا اور پھر ماله گاؤں کے کھیت میں لے جا کر بدسلوکی کی کوشش کی۔ مزید برآں وہ فون پر بھی اسے پریشان کرتا رہا۔

معاملہ سنگین ہونے پر متاثرہ نے ہمت کر کے جمعرات کو پولیس میں شکایت درج کرائی۔اس واقعے کے بعد مقامی عوام اور والدین میں خوف و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے پر سخت کارروائی نہ ہوئی تو طلبہ کی زندگیاں مسلسل خطرے میں رہیں گی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسکول بسوں میں طلبہ کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
حکومتی و تعلیمی اداروں سے عوام کے مطالبات1. ہر اسکول بس ڈرائیور کی پولیس جانچ اور باقاعدہ تربیت لازمی قرار دی جائے۔2. اسکول بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور جی پی ایس نظام نصب کیے جائیں۔

3. ہر بس میں ایک خاتون اٹینڈنٹ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔٤. بچوں کے لیے ہیلپ لائن اور آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں۔
٥. ملزم ڈرائیور کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ قوم کی معصوم بچیاں کب تک غیرمحفوظ رہیں گی؟ تعلیم گاہیں اور اسکول بسیں بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہییں، مگر آج یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر بچے یہاں بھی محفوظ نہیں تو والدین اپنے لختِ جگر کو کہاں چھوڑیں؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔سماجی لاپرواہی ناقابلِ معافی ہے۔بس ڈرائیور کی پہلے سے جانچ اور نگرانی نہ کرنا براہِ بھی راست ہماری غفلت ہے۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین نہیں بلکہ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔اس پر ضلع ایکتا سنگٹھنا نے اپنی ویڈیوز اور مکتوب کے ذریعے مزمت درج کرتے ہوئے کہاکہ عبرتناک سزا وقت کی ضرورت ایسے جرائم کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب مجرموں کو سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں۔ یہ کیس صرف ایک طالبہ کا نہیں بلکہ پورے سماج کی بچیوں کے تحفظ کا سوال ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!