ایجوکشن

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید کو مہاراشٹر اسٹیٹ ساہیتہ اکادمی ممبئی کا مثالی ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ہنگولی ( راست ) پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید کو حکومت مہاراشٹرا محکمہ اقلیتی ترقیات مہاراشٹرا اسٹیٹ ساہیتہ اکادمی ممبئی کی جا کی جانب سے گذشتہ ۶ تا ۱۸ اکتوبر کو مہاراشٹرا اسٹیٹ ساہیتہ اکادمی ممبئی کے منعقدہ ۵۰ سالہ تقریب بہار اردو میں یونیورسٹی و کالج سطح کا مثالی ٹیچر ایوارڈ ۲۰۱۹ مورخہ ۱۷۷ اکتوبر ۲۰۲۵ ء کو ایک پروقار تقریب ایس ۔ ریب ایس ۔ وی۔ پی۔ ڈوم اسٹیڈیم ورلی ممبئی میں وزارت اقلیتی کے کمشنر اور سیکرٹری کے ہاتھوں دیا گیا۔ اس تقریب میں ریاست مہاراشٹرا کے ممتاز ادباء ، شعراء، محققین، صحافی اور اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سال ۲۰۱۹ ء میں مختلف شعبہ جات میں نمایاں و مثالی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو انعامات سے نوازا گیا۔ انہی میں سے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید شیخ ابراہیم کو انکی تعلیمی عالمی ادبی ، سماجی و معاشرتی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں یونیورسٹی و کالج کی سطح کے مثالی معلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ موصوف گذشتہ ۲۲ ر برسوں شہر ہنگو لی میں شعبہ اردو کے ذریعہ خاموش خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ابھی تک وہ سیکڑوں طلبہ کی رہنمائی و رہبری کر چکے ہیں اور تا حال کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے ضلع پر بھی میں جناب شیخ ابراہیم مدرس کے یہاں ڈاکٹر محمد اقبال جاوید کی پیدائش ۲۴ اپریل ۱۹۷۷ء کو ہوئی ابتدائی تعلیم مراٹھی زبان میں حاصل کی تاہم گھر میں والدین نے اردو کی تعلیم دی اور پھر اعلی تعلیم ثانوی اور اختیاری مضمون اردو لے کر بی۔ اے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد وہ سوامی را مانند تیر تھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیڑسے ٢٠٠١ میں ایم ۔ اے اردو میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ اسی اثنا میں موصوف نے نیٹ (اردو) کا امتحان سن ٢٠٠٠ میں پاس کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر یو نیورسٹی سے بی ۔ ایڈ کی سند حاصل کی ۔ ۲۰۱۳ء میں سوامی را مانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی اعلی تعلیمی ڈگری حاصل کی ۔

موصوف کے تحقیق کا موضوع ” علامہ اقبال کی اردو شاعری میں تلمیحات و استعارات“ ہے۔ موصوف پر بھنی سے قریب ضلع ہنگو لی میں ۲۰۰۳ء سے شیوا جی آرٹس و کامرس کالج میں بحیثیت صدر شعبہ اردو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اب تک موصوف کے کئی سو مضامین، مقالے عالمی اور ملکی و غیر ملکی رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ملکی و عالمی سطح کے سیکڑوں سمینار اور کا نفرنس و ورکشاپ میں تحقیقی مقالے پڑھ چکے ہیں۔ مراٹھی زبان میں کئی تقاریر آکاش وانی ریڈیو پر بھنی اسٹیشن سے نثر ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی سیکڑوں عوامی تقاریر و کیریئر گائیڈنس کے ورکشاپ بھی منعقد کیے ہیں۔ موصوف نے اپنے مقالات کے

ذریعے طلباء و سامعین کی بہترین رہنمائی کی ہے ۔ آپ کی اب تک سات (۷) کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں ان کی تحقیقی کتاب علامہ اقبال کی اردو شاعری میں تلمیحات و استعارات کوملکی سطح پر کافی مقبول و معروف ہے۔ موصوف کو اپنی اس کتاب کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہوئی ۔ اور اس وقت آپ مہاراشٹرا کے ابھرتے ہوئے اقبالیات کے اسکالر مانے جا رہے ہیں ۔ موصوف کی کتاب ”علامہ اقبال کی اردو شاعری میں تلمیحات و استعارات الحمد اللہ مہاراشٹر کے تین مختلف جامعات میں بطور حوالہ جاتی کتب بی۔ اے اور ایم ۔ اے کے نصاب میں شامل ہے۔ دوسری کتاب آبگینہ ہے۔ اس میں موصوف نے مختلف مضوعات پر تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہیں۔ ” آزادی کے بعد اردو شاعری اس میں موصوف نے آزادی کے بعد اس عنوان کے تحت مختلف سمیناروں میں پڑھے گئے مضامین کو یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا۔

موصوف کی چوتھی کتاب افکار مہاتما گاندھی اور عصری معنویت سے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ ایک اور کتاب ۱۹۴۷ء کے بعد اردو شاعری کے تحت شائع کی اس میں موصوف نے سمینار کے مضامین کو شائع کیا ہے۔ ایک نصابی کتاب سفینہ ادب نام سے منظر عام پر آئی ہے۔ موصوف کی زیر طبع جو کتاب ہے وہ ہے تلمیحات علامہ اقبال ہے۔ موصوف کو ان کی ادبی وعلمی خدمات کے صلے میں اب تک مختلف انجمنوں اور اداراہ جات کی جانب سے تیرہ (۱۳) ایوارڈ مل چکے ہیں۔ بلا شبہ یہ اعزاز آپ کی علمی خدمات ، گہری بصیرت اور اردو زبان سے والہانہ محبت ۔ دراصل اُن کی علمی خدمات ، تدریسی محنت اور اردو زبان و ادب سے گہرے لگاؤ کا اعتراف ہے۔ رب کریم آپ کی ذات کو ہمیشہ علم و عرفان کا مینار نور بنائے ۔ آپ اسی طرح اردو کی خدمت کرتے رہیں اور طلبہ کے دلوں میں علم کی روشنی بکھیرتے رہیں۔ ایوارڈ کے ملنے پر تمام دوست احباب ، رشتہ داروں نے مبارکباد دی۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!