مضامین

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام – ایک عظیم سائنس داں اور رہنما

تحریر : حاجی محمد فضل الحق صدیقی
M.Sc (Maths), M.A (Urdu), M.Ed.
ابنِ محمد سلیم الحق صدیقی صاحب-
( معلمِ )
یاسر اردو ہائی اسکول، سیلوضلع پربھنی، مہاراشٹر-
+91-9970011948

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کی جدید تاریخ کی ایک ایسی درخشاں شخصیت تھے جنہوں نے علم، کردار اور عمل کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک عظیم سائنس داں، باصلاحیت منتظم، سچے محبِ وطن، کامیاب مصنف اور ہندوستان کے گیارھویں صدر جمہوریہ تھے۔ ان کی زندگی جدوجہد، خود اعتمادی اور مسلسل محنت کی روشن مثال ہے، جو خصوصا نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام کا پورا نام اول پکیر جین العابدین عبدالکلام تھا۔ آپ کی پیدائش 15 اکتوبر 1931ء کو تمل ناڈو کے مقدس ساحلی شہر رامیشورم میں ایک غریب مگر دیندار مسلمان خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد جین العابدین ایک نہایت سادہ، دیانت دار اور خدا ترس انسان تھے، جبکہ والدہ اشماں بی بی صبر، محبت اور خدمت کا پیکر تھیں۔ گھر کی معاشی حالت کمزور تھی، مگر والدین کی تربیت نے عبدالکلام کے کردار میں قناعت، محنت اور اعلی اخلاق راسخ کر دیے۔ بچپن میں انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخبار فروشی کر کے گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹایا، جس سے ان میں خود انحصاری اور نظم و ضبط پیدا ہوا۔

ابتدائی تعلیم رامیشورم کے مقامی اسکولوں میں حاصل کرنے کے بعد عبدالکلام نے سینٹ جوزف کالج، تروچراپلی سے طبیعیات (فزکس) میں گریجویشن مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے دور میں مالی مشکلات کے باوجود ان کا شوق علم کم نہ ہوا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مضبوط ارادے اور مسلسل محنت انسان کو ہر مشکل سے نکال سکتی ہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر عبدالکلام نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد میں وہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SLV-III) کی تیاری اور کامیاب لانچ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ کامیابی ہندوستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) سے منسلک ہوئے اور ملک کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جدید میزائل پروگراموں کی قیادت کی۔ اگنی اور پرتھوی جیسے میزائل ان ہی کی قیادت اور وژن کا نتیجہ تھے، جس کی وجہ سے انہیں “میزائل مین آف انڈیا” کہا جانے لگا۔

ڈاکٹر عبدالکلام کی عظیم سائنسی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا، جن میں پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن شامل ہیں۔ یہ اعزازات نہ صرف ان کی سائنسی مہارت بلکہ ان کی حب الوطنی اور قومی خدمت کا اعتراف بھی تھے۔
سن 2002ء میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کے گیارھویں صدرِ جمہوریہ منتخب ہوئے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سائنس داں تھے۔ بطور صدر ان کا طرزِ زندگی نہایت سادہ اور عوام دوست تھا۔ انہیں نوجوانوں سے خصوصی محبت تھی اور وہ اکثر تعلیمی اداروں میں جا کر طلبہ سے خطاب کرتے۔ ان کا ماننا تھا کہ قوم کی ترقی کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ وہ نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، مثبت سوچ اپنانے اور ملک کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنے کی تلقین کرتے تھے۔

ڈاکٹر عبدالکلام ایک صاحبِ قلم مصنف بھی تھے۔ ان کی خودنوشت “Wings of Fire” دنیا بھر میں مقبول ہوئی، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کو نہایت سادگی اور اخلاص کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ “India 2020”، “Turning Points” اور “You Are Born to Blossom” جیسی کتابیں نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں اور تعمیری سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔
27 جولائی 2015ء کو شیلانگ میں ایک تعلیمی لیکچر کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ڈاکٹر عبدالکلام کا انتقال ہو گیا۔ وہ زندگی کی آخری سانس تک علم کی شمع روشن کرتے رہے، جو ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ غربت، مشکلات اور وسائل کی کمی انسان کو کامیابی سے نہیں روک سکتیں، اگر اس کے اندر محنت، ایمان اور بلند خواب ہوں۔ وہ ہمیشہ ہندوستانی قوم، بالخصوص نوجوان نسل کے دلوں میں زندہ رہیں گے اور ان کا پیغام آنے والی نسلوں کو ترقی اور خدمت کی راہ دکھاتا رہے گا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!