ایجوکشن

ڈاکٹر ذاکر حسین ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ اہتمام فاطمہ گرلس ہائی اسکول میں سالانہ تعلیمی بیداری تقریب کا انعقاد

ناندیڑ22 جنوری(نامہ نگار)ڈاکٹر ذاکر حسین ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے آج فاطمہ گرلس ہائی اسکول میں سالانہ تعلیمی بیداری تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔اس تقریب کی صدارت گلزار ایجوکیشن سوسائٹی کی صدر محترمہ فرحت سلطانہ صاحبہ نے کی۔تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے کرناٹک مسلم مہیلا سنگھ بنگلور کی کوآرڈینیٹر محترمہ سلمہ تاج، آل انڈیا اردو ویلفیئر ڈپارٹمنٹ اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کی صدر محترمہ زیبا تبسم، اور بانو ایجوکیشن سوسائٹی کی سیکریٹری محترمہ ارجمند بانو بیگم کو مدعو کیا گیا تھا۔تقریب کا بنیادی مقصد تعلیمِ نسواں کے شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں تعلیمِ نسواں کے تعلق سے بیداری پیدا کرنا تھا۔

جلسے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد شانِ رسالت ﷺ میں نعتِ پاک پیش کی گئی۔اسکول انتظامیہ کی جانب سے تمام مہمانوں کی شال پوشی اور گلپوشی کے ذریعے پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ذاکر حسین ایجوکیشن سوسائٹی کے بانی و صدر ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی، نائب صدر ڈاکٹر منہاج صدیقی اور سیکریٹری ایڈوکیٹ شہزان صدیقی بطورِ خاص موجود تھے۔اسکول کی ایک معلمہ نے افتتاحی کلمات میں حضرت فاطمہ گرلس ہائی اسکول کے قیام سے لے کر اب تک کے تعلیمی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین دہائی قبل ادارے کے بانی معروف قانون داں ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی نے یہ محسوس کیا کہ مسلم معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیمی شرح نہایت کم ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کو

ایجوکیشن سسٹم ہے۔اسی احساس کے تحت انہوں نے خالص لڑکیوں کے لیے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔محدود وسائل کے ساتھ شروع کیا گیا یہ ادارہ آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس ادارے میں لڑکیوں کے لیے پرائمری، ہائی اسکول، جونیئر کالج، نرسنگ کالج، ڈی ایڈ، بی ایڈ کالج کے علاوہ حال ہی میں لا کالج کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ یہاں کے جی سے لے کر پی جی تک تعلیم کا مکمل نظم ہے، ساتھ ہی عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اور لڑکیوں کو خود کفیل بنانے کے لیے مختلف ٹیکنیکل کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔مہمانِ خصوصی

محترمہ سلمہ تاج نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات میں تعلیمِ نسواں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں مسلم لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا دن بہ دن مشکل بنایا جا رہا ہے، لیکن ایسے حالات میں مایوس ہونے کے بجائے عزم و حوصلے کے ساتھ تعلیمی سفر جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سماج کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب اس کی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔انہوں نے اپنے حالات زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، بعد ازاں اسلام قبول کیا اور آج ایک مسلم خاتون ہونے پر فخر

محسوس کرتی ہیں۔محترمہ زیبا تبسم نے اپنے خطاب میں اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ساتویں جماعت کے دوران ہی ان کی شادی کر دی گئی تھی، جس کے باعث گھریلو ذمہ داریاں عائد ہو گئیں،مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ازدواجی زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی، ہائی اسکول، جونیئر کالج اور سینئر کالج کی تعلیم مکمل کی اور شعبۂ تدریس سے وابستہ ہو کر اپنے خاندان کو خوشحال بنانے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا پورا موقع فراہم کریں۔صدارتی خطاب میں محترمہ فرحت سلطانہ آپا

نے کہا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا بے حد ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کی تعمیر پر بھی توجہ دینا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کردار مضبوط نہ ہو تو ایسی زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔انہوں نے طالبات کی ماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بچیوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔پانچ وقت کی نماز کی پابندی سے گھریلو ماحول بہتر ہوتا ہے اور بچے بھی دینی عادات اپناتے ہیں۔

انہوں نے موبائل فون کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج موبائل کے بے جا استعمال سے معاشرے میں برائیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔اگرچہ بچوں کو مکمل طور پر موبائل سے دور رکھنا ممکن نہیں، لیکن والدین کی نگرانی میں اس کے استعمال کی اجازت دینا بے حد ضروری ہے۔جلسے کے دوران اسکول کے مختلف مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کو مہمانوں کے ہاتھوں ایوارڈز سے نوازا

گیا۔اسی طرح حالیہ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں کامیاب ہونے والی مسلم خواتین نمائندوں کی بھی شال پوشی اور گلپوشی کے ذریعے پذیرائی کی گئی۔جلسے میں اسکول کی طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر یہ تعلیمی بیداری تقریب نہایت کامیاب رہی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض اسکول کی معلمات نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!