ڈاکٹر ساجد علی بنے "سرو دھرم خواجہ مندر و صوفی اسلامک بورڈ” کے امراؤتی ضلعی صدر
" صوفی فکر و انسانیت کے علمبردار"

.
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
انسانیت، محبت اور صوفیانہ اقدار کی خوشبو بکھیرنے والے معروف سماجی کارکن اور اے۔پی۔جے عبدالکلام ہیومینٹی اینڈ پیس فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر ساجد علی کو سرو دھرم خواجہ مندر و صوفی اسلامک بورڈ کی جانب سے امراؤتی ضلع صدر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔یہ تقرری بورڈ کے قومی نائب صدر ڈاکٹر صوفی جین سر نے اُن کی طویل سماجی خدمات, انسان دوستی اور صوفی فکر کے تئیں غیر متزلزل وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لائی۔ڈاکٹر ساجد علی طویل عرصے سے سرو دھرم سمان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی خدمت کے میدان میں بےلوث اور مسلسل سرگرم ہیں۔
ان کی خدمات میں ڈاکٹر اے۔پی۔جے عبدالکلام کی تعلیمات کی روشنی صاف جھلکتی ہے, امن، محبت اور بھائی چارے کا وہ پیغام جو آج کے منتشر معاشرے کو جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ جیسے عظیم صوفی بزرگوں کی تعلیمات سے گہرے طور پر متاثر ہیں اور انہی کے عشق، خدمت اور مساوات کے اصولوں کو عوام تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔اپنی تقرری پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ساجد علی نے کہا: “میں خواجہ غریب نواز کے پیغامِ محبت و انسانیت کو ہر دل تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صوفی ازم کا جوہر انسانیت ہے، اور یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔”ان کی تقرری سے خطے میں بین المذاہب اتحاد، بھائی چارے اور صوفی روایت کے اقدار کو نئی تقویت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔علاقے کے عوام، سماجی کارکنوں اور مختلف مذہبی رہنماؤں نے اُنہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری معاشرے میں امن، محبت اور یکجہتی کی شمع کو اور زیادہ روشن کرے گی صوفی بزرگوں کے اقوال کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے۔
“جو دلوں کو جوڑ دے، وہی سچا دین؛ جو نفرت مٹا دے، وہی حقیقی عبادت ہے۔”




