کرنول: قومی شاہراہ پر آگ کا سمندر – ویموری کاویری ٹراویلس کی بس جل کر خاکستر، 19 افراد زندہ جل گئے

کرنول ضلع کے چنّی ٹیکورو کے قریب جمعہ کی علی الصبح ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کو سوگوار کر دیا۔ حیدرآباد سے بنگلور کی طرف رواں دواں ویموری کاویری ٹراویلس کی لگژری بس اچانک شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔ یہ حادثہ قومی شاہراہ نمبر 44 پر پیش آیا، جہاں چند لمحوں میں خوشیوں کا سفر قیامت خیز منظر میں بدل گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، حادثہ اُس وقت پیش آیا جب بس اچانک زوردار جھٹکے سے سڑک کے کنارے کھمبے سے ٹکرا گئی۔ ٹکر کے فوراً بعد زوردار دھماکہ سنائی دیا اور لمحوں میں بس کے پچھلے حصے سے آگ بھڑک اُٹھی۔ مسافروں میں کہرام مچ گیا، ہر کوئی چیختا، روتا، باہر نکلنے کی کوشش کرتا نظر آیا، مگر آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی افراد بس کے اندر ہی پھنس گئے۔
بس میں کل 44 افرادسوار تھے جن میں دو ڈرائیور، دو عملے کے ارکان اور 40 مسافرشامل تھے۔ افسوسناک طور پر 19 افراد زندہ جل کر ہلاک ہوگئے جبکہ 21 مسافر معمولی زخمی حالت میں کسی طرح کھڑکیوں اور اگلے دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر کرنول کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بس میں موجود ایک ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، جبکہ دوسرا ڈرائیور حراست میں ہے اور اُس سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی شبہ ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی نیند یا تیز رفتاری** کے باعث پیش آیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر بس کے ملبے کو قابو میں لانے کے لیے فائر بریگیڈ کو طلب کیا، تاہم جب تک آگ بجھائی گئی، پوری بس راکھ میں تبدیل ہو چکی تھی۔
حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کا ماحول چھا گیا۔ مقامی لوگ جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ مرنے والوں میں کئی افراد حیدرآباد، مہبوب نگر، اور راجندر نگر کے رہائشی بتائے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مرنے والوں کے لواحقین کو مالی امداد دینے کا اعلان متوقع ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا: “ہم نے بس سے دھواں نکلتے دیکھا، کچھ ہی لمحوں میں آگ نے پوری گاڑی کو لپیٹ میں لے لیا، اندر سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں… وہ منظر بیان کے قابل نہیں۔”
کرنول پولیس نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس خوفناک واقعے کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔




