کلمیشور میونسپل الیکشن میں سیاسی تشدد: سابق کانگریس کونسلر پر نوجوان کے اغوا اور وحشیانہ مارپیٹ کا سنگین الزام


ناگپور ،26؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ)ناگپور ضلع کے کلمیشور علاقے میں میونسپل کونسل انتخابات کی گرم فضا کے بیچ سیاسی کشیدگی اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب بی جے پی کے حق میں انتخابی مہم چلانے والے ایک نوجوان کے اغوا اور اس پر بے رحمی سے تشدد کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا۔ اس دل دہلا دینے والے معاملے میں کانگریس کے سابق کونسلرہریش گوالبنشی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ان کے چند ساتھیوں پر بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ واقعہ مقامی سیاست میں بھونچال کا باعث بن گیا ہے اور دونوں بڑی پارٹیوں
کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان کی شناخت عارف لطیف شیخ کے نام سے ہوئی ہے، جس نے چند روز پہلے یہ شکایت درج کروائی تھی کہ وہ کلمیشور میونسپل کونسل کے انتخابی ماحول میں بی جے پی امیدوار کی حمایت کر رہا تھا، جس کی وجہ سے کانگریس کارکنوں کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اتوار کی رات عارف لطیف شیخ جب کلمیشور کے وساوا بار کے باہر موجود تھا، اسی دوران ہریش گوالبنشی اور ان کے ساتھی وہاں پہنچے۔ انہوں نے عارف لطیف شیخ سے سخت لہجے میں سوال کیا کہ وہ بی جے پی کے
لیے مہم کیوں چلا رہا ہے۔ بات تھوڑی ہی دیر میں تکرار میں بدلی اور پھر حالات بگڑتے چلے گئے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے پہلے عارف لطیف شیخ کو زد و کوب کیا اور پھر اسے زبردستی ایک چار پہیہ گاڑی میں بٹھا لیا۔ گاڑی میں بھی نوجوان پر مسلسل تشدد ہوتا رہا اور اسیناگپور کے گورے واڑہ علاقے میں لے جایا گیا، جہاں دوبارہ اسے بے رحمی سے مارا گیا۔ شدید زخمی حالت میں عارف لطیف شیخ کو ایک سنسان جگہ پر چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دیر بعد اس کے دوستوں کو اس کی اطلاع ملی اور وہ اسے فوری طور پر اسپتال لے گئے، جہاں اس کی حالت

تشویشناک بتائی گئی ہے اور اس پر علاج جاری ہے۔ عارف لطیف شیخ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ہریش گوالبنشی، آشو گوالبنشی اور دیگر چند ساتھیوں کے خلاف اغوا، مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکی جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی ملزمان کو حراست میں لیا ہے اور معاملے کی تفتیش تیزی سے جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مزید لوگوں کی گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔واقعے نے کلمیشور کے سیاسی ماحول میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ بی جے پی نے اس واقعے کو ”کانگریس کے دباؤ والے سیاسی کلچر” کی
مثال قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے کچھ کارکنوں نے اس گرفتاری پر ناراضی ظاہر کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کارروائی سیاسی دباؤ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ انتخابی مہم کے نازک مرحلے میں پیش آنے والے اس واقعے نے علاقے کی فضا مزید کشیدہ کر دی ہے اور انتظامیہ کے لیے امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنا بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔اگرچہ پولیس تفتیش جاری ہے، مگر اس واقعے نے انتخابی سیاست کے مکروہ اور تشدد بھری شکل کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ لوگوں میں خوف اور بے چینی کی فضا قائم ہے اور اس کیس کا انجام آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول کو اور بھی متاثر کر سکتا ہے۔




