کنوٹ کے اردو اسکول کے اساتذہ طلباء کو "پہلی مسلم خاتون ٹیچر”کی تاریخ بتانے سے قاصر، اردو طبقہ میں ناراضگی۔

کنوٹ (اکرم چوہان):- ہر سال 9 جنوری کو ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ٹیچر (معلمہ) فاطمہ شیخ کی یومِ پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے۔ وہیں عالمی سطح پر اُنکو اِس دن یاد کیا جاتا ہے،یہاں تک کہ گُوگل (Google) بھی اس دن اپنے پیج پر انکو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
لیکن اردو اسکولوں کے ذریعے ہی انکو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کنوٹ میں واقع جواہر العلوم اردو اسکول و جونیر جالج جو کہ ایک مسلم اقلیتی ادارہ ہے اسمیں انکی یومِ پیدائش کو نظر انداز کر دیا گیا۔

فاطمہ شیخ نے ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر اپنے گھر میں لڑکیوں کے لیے پہلا اسکول قائم کیا تھا۔ دونوں خواتین نے مل کر ایک ایسے وقت میں اصلاحات کا آغاز کیا جب تعلیم صرف اعلیٰ ذات کے مردوں کے لیے مخصوص تھی ،اور خواتین اساتذہ کے بارے میں سنا نہیں جاتا تھا۔فاطمہ شیخ اور ان کے بھائی عثمان شیخ نے ساوتری بائی اور جیوتی راؤ پھولے کو اس وقت پناہ دینے کی پیشکش کی جب وہ اصول کو چیلنج کرنے اور دلتوں اور خواتین کو تعلیم دینے کے لیے پونے میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ ان کے گھر میں تھا کہ ساوتری بائی نے 1848 میں لڑکیوں کے لیے پہلا اسکول کھولا۔
اُردو اسکول میں اساتذہ طلباء کو ان کی تاریخ بتاتے یا 9 جنوری یا اسکے بعد کبھی بھی اس ضمن میں ایک تقریب کا انعقاد کر سبھی کو مدعو کرکے انکی تاریخ بتاتے ،اسکول کے طلباء کے ذریعے انکی کی ہوئی قربانی کو سبکے سامنے لاتے ،لیکن اس کے الٹ اس اقلیتی ادارہ نے ایک چھوٹا سا پروگرام لینا بھی گوارہ نہ سمجھا۔
سرکاری حکم نامہ کے مطابق 12 جنوری کو اسی ادارے میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا, اسی پروگرام میں فاطمہ شیخ کو بھی یاد کیا جا سکتا تھا اور دو پروگرام ساتھ میں لیے جا سکتے تھے اور انھیں بھی خراج پیش کیا جا سکتا تھا لیکن اس ادارہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کا دھیان اس اور گیا ہی نہیں ۔ ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ٹیچر (معلمہ) فاطمہ شیخ کی تاریخ کو اجاگر نہ کرنے سے اُردو طبقہ میں اسکول کے اساتذہ کے تیئے بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جا رہی ہے۔




