مضامین

ہم سایہ ہم درد

از قلم صباء فردوس (ہنگولی)

انسانی معاشرت کی بنیاد باہمی احترام، خیر خواہی اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری پر قائم ہے۔ گھروں کی قطاروں سے آباد ہونے والی بستیاں اُس وقت تک ’’بستیاں‘‘ نہیں بنتیں جب تک ان میں بسنے والے دل آپس میں جڑے نہ ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اسلام نے غیر معمولی اہمیت دے کر معاشرتی زندگی کا نقطۂ آغاز قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم جب انسانی تعلقات کو بیان کرتا ہے تو والدین، یتیموں اور مساکین کے ساتھ ساتھ ’’قریب اور دور والے پڑوسی‘‘ کا ذکر خاص اہتمام سے کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے *وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـئًـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا*

اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناوٴ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاوٴ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آوٴ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے( القرآن ) گویا یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک مسلمان کا اخلاق اُس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کا رویّہ اپنے ہمسائے کے لیے بھی سراپا رحمت بن جائے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اس باب میں نہایت واضح اور دوٹوک ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام پڑوسی کے حقوق کی ایسی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو بھی وراثت میں حصہ دار کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ پڑوسی کے حقوق کا معاملہ محض سماجی آداب کا موضوع نہیں بلکہ ایمان کے مباحث میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے سخت لہجے میں فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں جس کی ایذا رسانی سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس ایک جملے نے ہمسایگی کو عبادت کے درجے تک پہنچا دیا۔

اسی پس منظر میں یہ حقیقت بھی سمجھنے کی ہے کہ ایک مسلمان کو "بے ضرر پڑوسی” ہونا چاہیے—یعنی اس کے ہاتھ، زبان اور عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اور اس سے بھی بلند درجہ یہ ہے کہ انسان "سراپا خیر پڑوسی” بنے—ایسا پڑوسی جس کی ذات سے دوسروں کو نفع پہنچے، خیر پہنچے، محبت اور سہولت پہنچے۔”خوشبو کی طرح بنو، جو قریب ہو اُسے بھی مہکا دے اور دور ہو اُسے بھی“۔تاہم موجودہ معاشرت میں یہ باب افسوسناک حد تک کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

آج ہماری معمولی بے احتیاطیاں دوسروں کے لیے بڑی اذیت کا باعث بنتی ہیں—کبھی گھر کے سامنے غلط پارکنگ کر دینے سے کسی کی راہ بند ہو جاتی ہے، کبھی گلی میں کچرا ڈال دینے سے دوسروں کے گھر تک گندگی کا اثر پہنچتا ہے، کہیں بے جا شور و غل بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے آرام میں خلل ڈالتا ہے، اور کبھی تعمیرات یا پانی کے بہاؤ کے معاملے میں ایک گھر کی لاپروائی دوسرے گھر کی دیوار تک متاثر کر دیتی ہے۔ یہ سب وہ طرزِ عمل ہیں جنہیں شریعت نے ناپسندیدہ قرار دیا ہے، کیوں کہ ان میں کسی نہ کسی درجے میں ایذا رسانی شامل ہے، اور ایذا رسانی ایمان کے معیار کو گھٹا دیتی ہے۔


اسلام کا مطلوب رویّہ اس کے برعکس نہایت لطیف اور انسان دوستی پر مبنی ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ پڑوسی صرف محفوظ ہی نہ رہے بلکہ ایک مومن اپنے پڑوس کے لیے رحمت اور سکون کا ذریعہ بنے۔ حسنِ سلوک کا یہ تقاضا صرف سلام اور خوش گفتاری تک محدود نہیں، بلکہ پڑوسی کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، اس کی ضرورت کے وقت دستگیری کرنا، خوشی کے مواقع میں حصہ داری دکھانا، اور یہاں تک کہ کھانے پینے کی نعمت میں بھی اس کو شامل کرنا سنتِ نبوی ہے۔ آپ ﷺ نے ابوذرؓ سے فرمایا کہ جب سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لیا کرو اور اپنے پڑوسی کا بھی خیال رکھو۔ یہ ہدایت دراصل اس تصور کا اظہار ہے کہ معاشرہ اسی وقت خوشگوار بنتا ہے جب نعمتیں بانٹی جائیں اور دل ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔

اسلامی معاشرت کا یہ رنگ آج ہماری بستیوں سے بہت حد تک رُوٹھ گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہیں ہماری معمولی سی غفلت کسی کے لیے بڑی تکلیف کا باعث تو نہیں بن رہی۔ پڑوسی کا سکون، اس کی عزت، اس کی پرائیویسی اور اس کا اطمینان—یہ سب وہ امانتیں ہیں جو ہمیں اللہ کی طرف سے دی گئی ہیں۔ ان کی حفاظت کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ فقہائے کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی گھر کی تعمیر سے معمولی سی بھی اذیت کا اندیشہ ہو تو ایسی تعمیر شرعاً مکروہ ہو جاتی ہے۔ یہ وہ باریکیاں ہیں جن پر اسلامی تہذیب اپنی بنیاد رکھتی ہے۔

اختتاماً یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جس معاشرت کا خواب قرآن نے دکھایا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت سے عملی صورت میں قائم کر کے دکھایا، وہ معاشرت ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بستیوں میں محبت، سکون، خیر خواہی اور تہذیب پھر سے جاگزین ہو تو ہمیں سب سے پہلے ہمسایگی کے اس بھولے ہوئے باب کو زندہ کرنا ہوگا۔ اپنی ذات سے آغاز کیجیے—اپنی گاڑی درست جگہ پارک کیجیے، کچرا جہاں مناسب ہو وہاں ڈالئے، شور و غل سے پرہیز کیجیے، اور پڑوسی کے آرام و سکون کو اپنی ذمہ داری سمجھئے۔ جب یہ شعور عام ہوگا تو ہماری بستیوں میں وہی اجالا واپس آئے گا جسے اسلام نے ’’معاشرتِ صالحہ‘‘ کا نام دیا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!