یومِ اطفال پر معصومین کی مؤثر صدا جلگاؤں سی آئی او کے ننھے سپاہیوں کا محضر۔
“آوارہ کتوں سے تحفظ، معیاری تعلیم اور کھیل کے میدان ہر بچے کا حق”

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
ملک بھر میں جب 14 نومبر یومِ اطفال کے رنگا رنگ پروگراموں، کلچرل ایکٹیویٹیز اور بچوں کی مسکراہٹوں سے فضائیں مہک رہی تھیں، وہیں جلگاؤں میں چلڈرنس اسلامک آرگنائزیشن (CIO) کے معصوم بچوں نے ایک منفرد اور بامقصد انداز میں اپنی آواز کو قانونی، سماجی اور ملی وقار کے ساتھ ضلع انتظامیہ تک پہنچایا۔
سی آئی او کے ننھے نمائندوں نے اپنے رہنماؤں کی سرپرستی میں ضلع کلیکٹر کو ایک محضر پیش کرتے ہوئے نہایت سنجیدہ، بنیادی اور انسانی حقوق سے وابستہ مطالبات رکھے۔معصوم بچوں نے کہا کہ: “آوارہ کتوں سے ہمارا تحفظ کیا جائے”۔صبح سویرے اسکول جاتے وقت راستوں پر آوارہ کتوں کے جھنڈ ہماری جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، ہم خوف کے سائے میں سفر کرتے ہیں، پڑھائی پر بھی اثر پڑتا ہے۔
“ہر بستی، ہر کالونی میں چلڈرن پارک، پلے گراؤنڈ اور جم کا انتظام ہو”۔تاکہ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی تربیت صحت مند ماحول میں ہوسکے۔ “حقِ تعلیم ایکٹ کے تحت ہر بچے کو معیاری اور مفت تعلیم کی ضمانت دی جائے” کیونکہ روشن مستقبل باشعور تعلیم سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
“امن و سکون پر مبنی معاشرہ ہمارا بنیادی حق ہے”بچے ذہنی دباؤ، خوف اور انتشار کے بجائے پُرسکون ماحول کے حقدار ہیں۔یومِ اطفال کے اس روحانی، جذباتی اور انسانی احترام سے لبریز اقدام میں مقامی امیر شیخ عبداللہ، مقامی ناظمہ خورشید پروین، اور ٹیم سی آئی او کی فعال اراکین الماس آصف اور شبانہ دیشمکھ موجود تھے۔ معصوم بچوں کی یہ صدا صرف مطالبہ نہیں، بلکہ قوم کے مستقبل کی طرف ایک بیداری، سماجی ذمہ داری اور انسانیت کی ترجمانی ہے۔




