یو پی ایس سی نتیجہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘

از قلم: محمد فرقان
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
8495087865, mdfurqan7865@gmail.com
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خود اعتمادی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ جو قومیں علم و دانش کو اپنا شعار بناتی ہیں وہ زمانے کی قیادت کرتی ہیں، اور جو قومیں تعلیم سے دور ہوجاتی ہیں وہ پسماندگی، محرومی اور بے بسی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی انہوں نے علم و تحقیق کو اپنی زندگی کا محور بنایا تو انہوں نے نہ صرف اپنی تقدیر بدلی بلکہ پوری دنیا کی علمی اور تہذیبی رہنمائی بھی کی۔ مگر بدقسمتی سے آج کے دور میں مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہے جن میں انہیں تعلیمی، معاشی اور سماجی میدانوں میں پیچھے رکھنے کی منظم سازشیں کی جارہی ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں میں صلاحیت اور قابلیت کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ اگر انہیں مناسب مواقع اور انصاف پر مبنی ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے سول سروسز امتحان 2025 کے نتائج نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کردیا ہے۔ اس امتحان کو ملک کے سب سے مشکل اور باوقار امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس سمیت مرکزی خدمات کے دروازے کھلتے ہیں۔ جب اس سال کے نتائج سامنے آئے تو پورے ملک میں خوشی اور امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ کل 958 امیدواروں نے اس سخت اور طویل امتحانی مرحلے کو عبور کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، جن میں 53 مسلم نوجوان شامل ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ پچھلے سال 26 مسلم امیدوار اس امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس نمایاں اضافہ نے نہ صرف مسلم کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑا دی بلکہ یہ اس بات کی واضح علامت بھی ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی شعور اور خود اعتمادی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال ٹاپ 100 میں چار مسلم امیدواروں نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہ کامیابی صرف انفرادی کامیابی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری اور مثبت تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ سول سروسز جیسا مشکل امتحان اب مسلم نوجوانوں کے لئے محض ایک خواب نہیں رہا بلکہ ایک قابل حصول حقیقت بن چکا ہے۔ ان کامیاب امیدواروں کی کہانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، مستقل مزاجی اور صحیح رہنمائی کے ذریعے کوئی بھی رکاوٹ عبور کی جاسکتی ہے۔ ان میں سے کئی امیدوار ایسے بھی
ہیں جنہوں نے مالی تنگی، محدود وسائل، دور دراز علاقوں سے تعلق اور سماجی دباؤ کے باوجود اپنی ہمت اور عزم کے بل پر یہ سنگ میل عبور کیا۔
مسلم طلبہ کی اس کامیابی نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ مسلمان کسی سے کم نہیں ہیں۔ ان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، بس انہیں مناسب مواقع کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والی طاقتیں مسلمانوں کے ان مواقع کو محدود کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اگر کہیں کوئی مسلمان کسی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اسے مختلف طریقوں سے متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی اسے غلط بیانی کے ذریعے بدنام کیا جاتا ہے اور کبھی میڈیا ٹرائل کے ذریعے اس کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح کا ماحول دراصل قوم کے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
یہی وہ صورتحال ہے جس کی طرف جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی کئی مواقع پر توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے صحیح کہا تھا کہ ایک مسلمان ممدانی امریکہ کے نیویارک کا میئر بن سکتا ہے، لندن میں ایک خان میئر بن سکتا ہے، لیکن ہندوستان میں ایک مسلمان کو اپنی قائم کردہ یونیورسٹی کا چانسلر بننے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ فرقہ پرست طاقت کسی مسلمان کی ترقی برداشت نہیں کرسکتی۔ اگر کوئی اس مقام تک پہنچ بھی جائے تو اسے مختلف الزامات اور مقدمات کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اعظم خاں، اقبال اور جاوید کی طرح جیل میں قید کردیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ نفرت اور تعصب ہے جو کچھ حلقوں کی جانب سے سماج میں پھیلایا گیا ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی کچھ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے عناصر مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔ مختلف حکومتوں کی پالیسیوں اور فیصلوں میں بھی بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع محدود کیے جارہے ہیں۔ مولانا آزاد ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کو بند کیا جانا، اقلیتی اسکالرشپ کے بجٹ میں کمی، ریزرویشن کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنا اور اسے ختم کرنے کی سازش اور مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیاں ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے مسلم معاشرے میں تشویش پیدا کی ہے۔ ابھی حال میں الفلاح یونی ورسٹی کے خلاف ہوئی کارروائی کو ہی دیکھ لیجیے وہ تعلیمی ادارے پر حملہ نہیں بلکہ یہ مسلم اداروں کو خوف زدہ کرنے کی سیاست ہے، کوئی اسکول ہو یا کوئی مسلم ادارہ حکومت اور میڈیا اس پر ایسے ٹوٹ پڑتی ہے جیسے وہ ملک کے لئے خطرہ ہو۔
مولانا ارشد مدنی کی یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ ان حالات کے باوجود مسلمانوں میں مایوسی نہیں پائی جاتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ایمان اور یقین ہے، کیونکہ ان کے نزدیک مایوسی کفر ہے۔ مسلمان ہمیشہ امید اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے کا یقین رکھتا ہے۔ اگر اسے آئین ہند کے مطابق اپنے حقوق اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ اس ملک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ جب اس ملک کو قربانیوں کی ضرورت تھی تو مسلمانوں نے اپنا خون دیا۔ جب ملک کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی ضرورت تھی تو اسی قوم کے ایک عظیم سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام نے بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سبب بنتا ہے۔
مولانا ارشد مدنی کی یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ ان حالات کے باوجود مسلمانوں میں مایوسی نہیں پائی جاتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ایمان اور یقین ہے، کیونکہ ان کے نزدیک مایوسی کفر ہے۔ مسلمان ہمیشہ امید اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے کا یقین رکھتا ہے۔ اگر اسے آئین ہند کے مطابق اپنے حقوق اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ اس ملک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ جب اس ملک کو قربانیوں کی ضرورت تھی تو مسلمانوں نے اپنا خون دیا۔ جب ملک کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی ضرورت تھی تو اسی قوم کے ایک عظیم سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام نے اسے جوہری طاقت (Nuclear Weapon) بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان کے تعلیمی نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے عظیم تعلیمی ادارے جس کی بنیاد شیخ الہندؒ جیسے مجاہد آزادی نے رکھی تھی، اس کی مثال بھی ہمارے سامنے موجود ہے جس کے فارغین آج دنیا بھر میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان جب تعلیم کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو وہ معاشرے کے لئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہی علمی روایت آج بھی زندہ ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے انہیں پیچھے رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے عام عوام کی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں رشوت خوری اور بدعنوانی کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جو ایک صحت مند تعلیمی ماحول کے لئے نقصان دہ ہیں۔ ان حالات کا سب سے زیادہ اثر غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے، جن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ بہت سے باصلاحیت طلبہ صرف مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپاتے اور مجبوراً تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ تعلیمی اداروں کے قیام کی ایک منظم تحریک بھی چلائی۔ گزشتہ دو سے ڈھائی دہائیوں کے دوران انہوں نے ملک بھر میں لوگوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں کئی اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی مراکز وجود میں آئے جو آج قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔ ان کا مشہور پیغام ہے کہ ’’اگر ضرورت پڑے تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی بچوں کو پڑھاؤ، کیونکہ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔‘‘
مولانا ارشد مدنی کی ایک اہم خدمت یہ بھی ہے کہ وہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے وظائف فراہم کرتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذریعے ہزاروں طلبہ کو تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مالی پریشانیوں کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ یہ اقدام اس لئے بھی اہم ہے کہ آج کے دور میں تعلیم کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور بہت سے خاندان اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ مولانا مدنی کی قیادت میں نہ صرف تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں بلکہ مختلف تعلیمی ادارے جیسے اسکول، کالج، آئی ٹی آئی اور انجینئرنگ کالج بھی چلائی جا رہی ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر طبقات کے طلبہ کے لئے بھی علم کے دروازے کھول رہے ہیں۔ اس طرح یہ تحریک صرف ایک قوم یا برادری تک محدود نہیں بلکہ پورے سماج کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں مزید سنجیدگی اور محنت کے ساتھ آگے بڑھیں اور حکومت دستور کے مطابق مسلمانوں کو انکے حق دیں، انکو کسی بھی طرح پیچھا رکھنے کی سازش نہ کریں کیونکہ یہ نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی بلکہ اس ملک کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ یو پی ایس سی کے حالیہ نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر عزم اور محنت کے ساتھ جدوجہد کی جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ قوم کے ہر فرد، ہر خاندان اور ہر ادارے کو تعلیم کے فروغ کے اس مشن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور دینی تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہوگا تاکہ وہ نہ صرف کامیاب شہری بن سکیں بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کریں۔
اگر مسلمان اسی طرح تعلیم کو اپنا ہتھیار بناتے رہے اور اپنے اندر خود اعتمادی کو مضبوط کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب وہ ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم جب بیدار ہوتی ہے تو دنیا کو نئی سمت دکھاتی ہے۔ آج ایک بار پھر وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان علم، اتحاد اور مثبت جدوجہد کے راستے کو اختیار کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انہیں عزت، ترقی اور روشن مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔ آج کا سب سے سبق یہ ہے کہ قوموں کی تاریخ سیاست سے نہیں بلکہ تعلیم بدلتی ہے اگر مسلمان تعلیم کو اپنا ہتھیار بناین تو کوئی طاقت انہیں ترقی سے نہیں روک سکتی۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی




