قومی

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ : وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی کچھ دفعات پر عملدرآمد روک دیا گیا-

ایڈووکیٹ اسامہ ندوی / نیشنل سیکریٹری آل انڈیا ملی کونسل

سپریم کورٹ آف انڈیا کی چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے آج وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی چند   دفعات پر عبوری روک لگا دی۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ اس حکم کا مقصد حتمی فیصلے سے پہلے عارضی تحفظ دینا ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:

(۱) پانچ سال اسلام پر عمل کی شرط
دفعہ 3(1)(ر) میں یہ شرط تھی کہ کوئی شخص وقف قائم کرنے کے لیے کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہو۔
عدالت نے کہا کہ جب تک ریاستی حکومتیں اس کے لیے کوئی واضح طریقہ کار (Rule) نہیں بناتیں، یہ شق من مانی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے اس شرط پر فی الحال
⁠ عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

(۳) سرکاری افسر کی رپورٹ اور جائیداد کے حق کا فیصلہ
دفعہ 3C(2) کی وہ proviso جس کے مطابق وقف جائیداد تب تک وقف تصور نہ ہو جب تک نامزد سرکاری افسر یہ رپورٹ نہ دے کہ اس پر قبضہ (encroachment) نہیں ہے، معطل کر دی گئی۔
اسی طرح دفعہ 3C(3) اور 3C(4) بھی روک دی گئیں، جن میں کلکٹر کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ اگر وہ زمین کو سرکاری قرار دے تو ریکارڈ میں تبدیلی کرے اور ریاستی حکومت کو رپورٹ دے۔
عدالت نے کہا کہ
"شہریوں کے حقوق کا فیصلہ انتظامیہ نہیں کر سکتی۔ یہ اختیارات علیحدگیٔ اختیارات (Separation of Powers) کے اصول کے خلاف ہیں۔”
مزید ہدایت یہ دی گئی کہ:
جب تک دفعہ 83 کے تحت ٹریبونل اور ہائی کورٹ آخری فیصلہ نہ دیں، وقف کو اس جائیداد سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی ہوگی۔
البتہ، inquiry شروع ہونے کے بعد اور حتمی فیصلہ آنے تک کسی تیسرے فریق کے حق میں نئی ملکیت کے حقوق پیدا نہیں ہوں گے۔

(۳) غیر مسلم اراکین کی نامزدگی
وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی نامزدگی والی شق کو برقراررکھا گیا۔
البتہ عدالت نے ہدایت دی کہ:
مرکزی وقف کونسل (Section 9) میں 20 میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم رکن ہوں۔
ریاستی وقف بورڈ (Section 14) میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم رکن ہوں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) جتنا ممکن ہو مسلمان ہی نامزد کیا جائے۔
(۴) رجسٹریشن کی شرط
رجسٹریشن کی لازمی شرط کو عدالت نے برقرار رکھا کیونکہ یہ 1995 اور 2013 کے پرانے قوانین میں بھی موجود تھی۔
البتہ رجسٹریشن کے لیے دی گئی آخری تاریخ میں توسیع کی گئی ہے

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!