بیل نظام الملک نے مغلیہ دور کے ایسے تاریخی موڑ پر رکھی تھی کہ اورنگزیب عالمگیر کے انتقال کے بعد اُنکے وارثین مغلیہ سلطنت کو چلانے کی قابل نہیں رہے تھے اور سلطنت میں مرہٹے، جاٹوں، سکھوں اور راجپوتوں کے فتنے سر اٹھا رہے تھے، نظام الملک اگر اپنی خود مختاری کا اعلان نا کرتے اور اپنے حدود میں آنے والے مرہٹوں کی وقت رہتے علاج نا کرتے تو وہ ایک بڑی طاقت بن کر اُبھرتے جنہیں روکنا نا ممکن ہوجاتا دراصل خود مختاری کا اعلان کرکے نظام الملک نے مرہٹوں کی کمر توڑ دی تھی۔ اس خود مختاری کے باوجود مغل شہنشاہ محمد شاہ اور نظام الملک کے تعلقات اچھے تھے اسی لیے نظام الملک کو آصف جاہ کا خطاب بھی دیا اور جب ضرورت پڑی دلّی جاکر مغل شہنشاہ کی مدد بھی کے جس میں مرہٹوں کی سر کوبی بھی شامل ہے، نظام الملک کا انتقال 1748۶ میں ہوا انکے بعد نظام الملک کے 5 جانشینوں نے ریاست حیدرآباد پر حکومت کی ساتویں اور آخری فرما روا میر عثمان علی خان تھے۔
ریاستِ حیدرآباد برصغیر کی سب سے بڑی ریاست ہونے کے علاوہ ہندوستان کے عین وسط میں تھی اور میر عثمان علی کے دور میں ہر لحاظ سے ترقی یافتہ تھی آپ کے زرین کارنامے اور رفاہ عام کے کاموں کی ایک طویل فہرست ہے انکے زمانے میں ترقّی کا ایک سیلاب آگیا تھا اور عوّام الناس خوشحال تھی ریاستِ حیدرآباد کو میر عثمان علی خان نے ہر اعتبار سے خود مختار اور کامیاب ریاست بنایا تھا، مگر اس حقیقت کو بھی قبول کرنا ہوگا کے سلطنت کے زوال کی جو وجوہات بنی اُس پر عثمان علی خان نے توجہ نہیں دی یا کم دی، ریاستِ حیدرآباد مسلم انصاف پسند ریاست تو تھی جس میں تمام مذاہب کو ساتھ لےکر چلنے کا جذبہ تھا مگر مکمّل شریعہ نافذ اسلامی ریاست نہیں تھی شاید یہی وجہ تھی کہ جنرل عيدروس نے بڑی آسانی سے اپنی قوم کو دشمن کے سامنے مرنے کے لئے چھوڑ دیا اور کوئی دفاع کئے بغیر منصوبہ بند طریقہ پر ہتہیار ڈال دیئے نا جذبہ جہاد جاگا اور نا اسلامی ریاست کے لئے لڑنے کا روحانی حوصلا، جنرل عیدروس نے شاید اندازہ بھی نہیں کیا ہوگا کے اُن کے اس طرح ہتھیار ڈال دینے سے 5 لاکھ مسلمانوں کو اپنی جانیں ہزاروں مستورات کو اپنی عزتیں اور لاکھوں مسلمانوں کو ایک معاشی بحران کی طرف ڈھکیل دیا جاےگا حیدرآباد کے اضلاع کے چھوٹے چھوٹے گاؤں پر تو مانو قیامت صغریٰ نافذ کردی گئی ہو۔
اُدھر 11 ستمبر 1948 کو محمد علی جناح کا انتقال ہوا اور 13 ستمبر کی علی الصبح ہندوستانی افواج نے بنا کوئی علان جنگ ریاست حیدرآباد کی سرحد کو کوئی پچیس تیس جگاہوں سے عبور کرنا شروع کردیا جب کہ انڈین یونین اور ریاستِ حیدرآباد کے مابین جو معاہدہ ہوا تھا ابھی اُسے ختم ہونے میں 3 مہینے باقی تھے۔ بھارتی فوج کا ہدف شہر حیدرآباد تھا اس لیے چاروں طرف سے آنے والی فوج شہر حیدرآباد کی طرف گامزن تھی، راستہ میں جو بھی ضلع شہر تعلقہ کے مستقر وغیرہ ملے وہاں کی انتظامیہ فوج کے سپرد ہوتی اور پیش قدمی جاری رہتی، بھارتی فوج کی کوئی مزاحمت حیدرآبادی فوج کی جانب سے نہیں ہوئی یہ بات کافی حیران کُن تھی! کیوں کے حیدرآباد فوج بھارتی فوج سے زیادہ مستحکم اور تجربہ کار تھی جس نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ بھی لڑ چُکی تھی اس حیران کن بات پر رضا کاروں کے صدر مجاہد آعظم قاسم رضوی نے اور وزیر آعظم میر لائق علی نے بارہا حیدرابادی افواج کے کمانڈر عیدروس سے وجہ پوچھی مگر عیدروس بیلٹ تنگ کرنے کے بہانے اپنی فوج کو پیچھے ہٹاتے رہا ہندوستانی فوج ایک طرفہ مارچ کرتی ہوئی بلا مزاحمت شہر میں 17 ستمبر 1948 کو بعد دوپہر پُہنچ گئی، جس طرح پولیس کسی کاروائی میں بلا مزاحمت اپنی من مانی کرتی ہےاس طرح ہند فوج داخلِ حیدرآباد ہوئی اور ہند فوج 17 ستمبر 1948 کو حیدرآبادی فوج کے ہیڈ کوارٹر سکندرآباد پُہنچ گئی، رسمِ قبولی شکست بیگم پیٹھ ہوائی اڈّے پر ہونا طے ہوا۔
اس بات پر ہر کوئی حیران تھا کے دونوں افواج کے درمیان گولی کیوں نہیں چلی؟ دشمن کو روکنے کیلئے بچھائی گئی سیکڑوں میل طویل بارودی سورنگیں اچانک ناکارہ کیو ہوگئی؟ ریاستِ حیدرآباد کے ندیوں کے پولوں پر لگائے گئے بارودی مواد پھٹا کیوں نہیں؟ جو حقيقت آشکار ہوئی اُس سے یہ بات عیاں ہوئی کہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کے حیدرابادی فوج کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں کی جائیگی اگر رضا کار کوئی مزاحمت کریںنگے تو اُن سے نپٹنے کے لئے ہندوستانی فوج آزاد رہےگی!
سرحدوں سے حیدرآباد کی فوج پیچھے ہٹنے کے بعد بھارتی فوج کا اگر کسی سے مقابلہ ہوا تو وہ حیدرآبادی فوج نہیں بلکہ رضا کاروں کا گروہ تھا جن میں سے بہت کم کے پاس ہتھیار تھے لگ بھگ 5٪ رضاکاروں کے پاس وہ بھی بہت پُرانے بھرمار رائفل جو سازش کے تہت انہیں دیئے گۓ تھے جبکہ حیدرآباد فوج کے پاس سڈنی کاٹن نے جدید ترین بیرونی ہتھیار کثیر تعداد میں پہنچائے تھے جو ان کے گوداموں میں پڑا تھا ۔ بھارتی فوج نے جدید ہتھیار استعمال کیے جن کا ہدف ایک میل تھا اور وہ بکتر بند ٹینکوں دبابوں میں ہوتے اور بڑی آسانی سے رضا کاروں کو نشانہ بناتے رضا کار جو جذبہ شہادت سے معمور ہند کے ٹینکوں کی چین کو اپنی لاٹھیوں سے گرانے کی کوشش کرتے جب کُچھ نا سوجھتا تو جوشیلے رضا کار ٹینکوں کے سامنے لیٹ جاتے تاکہ دشمن کو حیدرآباد تک پہچنے میں وقت لگ جائے اور بھارتی ٹینک اُنہیں کچلتے ہوئے آگے نکل جاتے 14 ستمبر 1948 کو ہزاروں رضا کار شہید ہوئے محاذ سے جو رضا کر بچ کر ائے اُنہونے بتایا کے بھرمار بندوق نا تو افینس کا ہتھیار تھا اور نا ہی ڈیفنس کا، رضا کار اور ملک کے مسلم و غیر مسلم عوام ریاستِ حیدرآباد کے یہ سودا قبول نا کیا۔
جناب شنکر راؤ صاحب جو اس وقت حیدرآباد ریاست کے باشندے تھے محمد مظہرالدین صاحب نے اپنی کتاب زوال حیدرآباد میں انکی تقریر قلم بند کی ہے یکم اپریل "1948 ” ضلع ناندیڑ میں ہندو مسلم مشترکہ جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے معزز ہندو لیڈر شنکر راؤ نے کہا "جبکہ آج سارے ہندوستان میں فرقہ ورایت نے امن و امان کو متاثر کرکے ایک دوسرے کہ دشمن بنادیا ہے جس سے ہندستان میں بد امنی پھیلی ہوئی ہے۔ بھگوان کا شکر ہے کہ، ہمارا ملک اس سے بچا ہوا ہے اور امن و اتحاد کا مرکز ہے”۔
جناب شنکر راؤ نے ہندوستانی لیڈروں اور وہاں کے اخبارات و ریڈیو کے شرانگیز پروپیگنڈے جس میں قاسم رضوی صاحب کو راکشس بناکر پیش کیا گیا پوسٹر میں بتایا گیا تھا کے قاسم رضوی صاحب کے لمبے لمبے دانت اور ناخوں ہے جس سے وہ ہندوں کا قتل کررہے ہے اخبارات میں ریڈیو پر یہ خبر عام تھی کے رضا کار اور انکے لیڈر قاسم رضوی صبح کا ناشتا جب تک نہیں کرتے جب تک وہ کسی ہندو کو قتل نہیں کردیتے! شنکر راؤ صاحب نے اس پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے آگے کہا کہ
"حیدرآباد امن و امان کے لحاظ سے زمین پر جنت ہے۔ بلا شبہ مولوی قاسم رضوی اور اُن کی جماعت ملک کی آزادی اور اس کے امن و امان کی محافظ ہے۔ یہاں پر رضا کاروں کے صدر مولوی اخلاق حسین زبیری بیلا لحاظ وہ مذہب و ملّت خدمت انجام دے رہے ہیں”
رضا کاروں نے اپنی ابتر جنگی حالت کے باوجود ہندوستانی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، بل آخر جو ہونا تھا سو ہوا 40 ہزار رضا کر اس خونی سنگرام میں شہید ہوئے جو کچھ بچ گئے اُنہیں بہت کسم پرسی حالت سے دو چار ہونا پڑا، شہید ہونے والے رضا کاروں کی تجہیز و تکفین نا ہوسکی لاشیں جنگلوں میں کافی دن پڑی رہی، اسکے بعد بھی کئی سال تک مسلمانوں کو رضا کاروں کے نام سے موسوم کرکے بہت ستایا گیا اُنکی جائیداد جبراً لوٹی گئی اور معاشی نقصان پہنچایا گیا۔
اس نسل کشی کے آئینی شاہدوں میں سے ایک ایم۔اے۔عزیز انجنیئر صاحب بھی ہے جو ریاستِ حیدرآباد کے شہر ناندیڑ کے رہنے والے تھے اس بھیانک واقع کی منظر کشی انھوں نے اپنی کتاب ‘پولیس ایکشن’ میں کی وہ لکھتے ہے۔
"پولیس ایکشن سے ریاستِ حیدرآباد کے اضلاع کے مسلمان کو جن کرب ناک حالات سے گزرنا پڑا وہی ان سے واقف ہیں، جس میں مستورات کی بے حرمتی مسلمانوں کا قتل جائیداد کی لوٹ مار آتش زنی قید و بند، املاک پر زبردستی ناجائز قبضے وطن سے بے یارومددگار فرار، روزگار سے بے دخلی مکر و فریب غرض ہر قسم کے بربریت شامل ہے، اضلاع میں رہنے والےقریب 5 لاکھ مسلمان اس خونی سنگرام میں شہید کیئے گئے تھے شہر حیدرآباد میں رہنے والو کو اس تباہ کاری کا پتہ تب لگا جب ہزاروں مہاجرین شہر حیدرآباد میں اپنی جان و عزت بچا کر پُہنچے میں کامیاب ہوئیں اُنہوں نے اپنی اپنی داستانِ شہر والو کو سنائی” انجنیئر صاحب اُن دنوں جامعہ عثمانیہ کے طالبِ علم تھے اور حیدرآباد میں تعلیم حاصل کررہے تھے وہ لکھتے ہے کے جامعہ عثمانیہ کے ہاسٹل سکندرآباد کے قریب ہونے کی وجہ سے ہم طلباء روزآنہ ناشتے کے بعد سکندرآباد ریلوے اسٹیشن چلے جاتے، منماڑ ورنگل اور گلبرگہ کی جانب سے انے والی گاڑیوں کی حالت زار بتاتی تھی کے مسلم مسافروں کے ساتھ کس قسم کا سلوک ہورہاتھا، پولیس ایکشن کے ایک آدھ ہفتہ تک اضلاع سے حیدرآباد انے والے مسلمانوں کا استقبال ریلوں میں لوٹ مار تشدد سے ہوتا رہا جسے ہم جامعہ کے طالبِ علم روزآنہ سکندرآباد اسٹیشن پر دیکھتے رہے اور کو کُچھ بن سکا مقدور بھر مدد کرتے رہے، بعد میں تشدد کی شکل شدید ترین ہوگئی، منماڑ، اورنگ آباد، جالنہ، پربھنی، ناندیڑ، نظام آباد اور عادل آباد کی طرف سے انے والے مسلمانوں کو "بولارم” ریلوے اسٹیشن پر اتار کر لوٹ لیا جاتا اور پھر قطار میں کھڑے کرکے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا، ہاسٹل میں رہنے والے طلباء بھی اضلاع سے تھے اس لئے ہمیشہ فکر و تشویش رہتی کے کہی ہمارے عزیز و اقارب تو اس کا شکار نہیں ہورہے ہیں!”
پولیس ایکشن کے بعد ریاستِ حیدرآباد کے اضلاع میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی جو نسل کشی, لوٹ مار اور خواتین کی عزتِ تار تار کی گئی اُسے اس وقت "جئے ہند” کا نام دیا گیا، اسٹیٹ کانگریس کے غنڈوں کی ٹولیاں با ضابطہ اس طرف توجہ کی ہوئی تھی کے کون کون سے گاؤں میں جئے ہند ہوا اور کہاں نہیں ہوا، جئے ہند کروانے کے لئے دوسرے گاؤں سے ولنٹیرز کے تبادلے ہوتے یہ ولنٹیرز اس وقت بہت سرگرم تھے بعد میں انہیں مکتی سنگرام کے مجاہدوں کا لقب ملا ان میں نیشنل کانگریس کے غنڈے بھی شامل تھے، مسلمانوں کی ہر چیز لوٹی گئی جان مال عزّت آبرو گھر دار جائیداد غرض جو ہاتھ لگا دل کھول کر لوٹا گیا جس گاؤں یا قصبہ میں مسلمانوں کے ایک دو گھر تھے وہ خاندان پورے کے پورے ختم کردیئے گئے جسکی داستان غم کہنے والا کوئی نہیں رہا سب سے زیادہ نقصان سرحدوں کے پاس آباد اضلاع کا ہوا جس میں عثمان آباد، بيڑ، بیدر، گلبرگہ، عادل آباد، وغیرہ شامل ہیں بدر کے ہوائی اڈّے پر ہوائی حملے کرکے مکمل تباہ کردیا گیا۔
اضلاع میں ہوئی خون ریزی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے حیدرآباد ریاست میں شہر ناندیڑ جو اب مہارشٹرا کا حصہ ہے کے "جئے ہند” میں چوک بازار، صرافہ، قدیم بس اسٹینڈ اور سرکاری دواخانے وزیرآباد پر واقع تمام مسلمانوں کی دکانیں لوٹ لیے گئیں اور بعد میں جلا دیے گئے، عثمان شاہی میل کے مزدور جو رات بارہ بجے کی شفٹ سے واپس ہورہے تھے اُنہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا کئی جا بحق ہوئے اور کُچھ جان بچاکر زخمی حالت میں بھاگنے میں کامیاب ہوئے اس خونی سنگرام میں کتنے مسلمان شہید کیے گئے کوئی ریکارڈ نہیں کوئی ایف ائی ار نہیں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی، گرفتاریاں الگ سے ہورہی تھی یہ گرفتاریاں دو طرح کی تھی، ایک تو سابقہ افسران مجلس اتحاد المسلمین کے اراکین عہدہ دار اور رضاکاروں کو گرفتار کیا جارہا تھا، دوسری طرح کی گرفتاریاں ہندو حضرات کی دین تھی، پرانی دشمنی یا حسد کے بہانے انتقامی زہنیت کارگر تھی، ملٹری یا گورکھوں کے ذریعے ظلم جاری تھا، اسی طرح ناندیڑ کے چھوٹے چھوٹے گاؤں شیوڑی جاگیر، عثمان نگر، سون کھیڑ، کوٹھہ، کیولہ، ٹیلکی، قندھار، لوہا، وشنوپوری، ساور گاؤں، مدکھیڑ، حدگاؤ، نیوگھا، نائے گاؤں، بلولی، دھرما آباد، کرکھیلی، بھوکر، عمری، کونڈلواڑی قابل ذکر ہے جہاں 17 ستمبر کے بعد بذریعہ علان کہا گیا کے اب امن ہوگیا ہے لہٰذا اپنے اپنے ہتھیار سرکار کے پاس جمع کرادیں، اس طرح مسلمانوں کو نہتّہ کیا گیا اور دوسرے ہی دن جئے ہند کیا گیا شیوڑی جو انجنیئر صاحب کی ننہال بھی ہے وہاں کے کئی خاندان بھاگ کر ناندیڑ شہر میں پناہ گزین ہوگئے جو رہ گئے تھے اُن کے خواتین کی عصمت ریزیاں ہوئی اُنکی داستان لکھنا بہت ہی مشکل ہے, اس گھناؤنے عمل میں گاؤں کے بہت سے ہندو نوجوان ادھیڑ عُمر, اور عمر رسیدہ مرد بھی شامل تھے آبرو ریزی کا سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا اِن واقعات کا اِن پر ایسا اثر ہوا کے کُچھ دن بعد وہ فوت ہوگئیں” ان واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کے ان کے دلوں کے عداوت جو آج ہم اپنی دار کی آنکھوں سے دیکھ رہیں ہے کوئی نئی نہیں ہے یہی ظالمانہ اقدامات انہوں نے آج سے 75 سال پہلے بھی کیے اور اگر ہماری تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ لگے گہ کے یہ حق اور باطل کی کش مکش ازل سے ابد تک جاری رہے گی مگر یہ بازی جب تمہاری رہےگی جب تم پکّے مومن ہونگے اللہ بھی قرآن میں ذکر کرتا ہے کے وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo(سورہ ال عمران:139- القرآن) تم ہی اور تم ہی سربلند رہوگے اگر تم مومن ہو۔
قصبہ دھارور ضلع ناندیڑ کی خونی داستان
اس خونی داستان کو دراصل محمّد اسمٰعیل خان صاحب مہتمم سرائے دھارور نے تحریر کیا ہے جو خود ان حالات کا شکار ہوئے اور شولاپور جیل میں کئی ماہ بغیر مقدمہ قید رہے، وہ لکھتے ہے "ہندی یونین کی فوج بروز دوشنبہ 20 ستمبر 1948 کو قصبہ دھارور میں داخل ہوئی اور پھر مسلمانوں کی گرفتاریاں اور قتل و غارتگری شروع کی گئی، فوج اپنے پورے جنگی ساز وسامان کے ساتھ جس میں فوجی گاڑیاں، توپیں، ٹینک، دبابے شامل تھے قصبہ کے باہر تعمیرات کے بنگلہ میں ٹھہری ہوئی تھی، قصبہ کے مسلمانوں کا قتل عام چند دن یعنی 14 اکتوبر 1948 بعد نمازِ عید الاضحٰی آغاز پر ہوا اس دن اور رات بھر چن چن کر مسلمانوں کو طرح طرح سے تکلیفیں دے کر مارا گیا”، محمّد اسمٰعیل صاحب کی نوشتہ خونی داستان کل پندرہ صفحات پر مشتمل ہے یہاں اس کا خلاصۃ درج کیا گیا ہے اس وقت دھارور تعلقہ کیج ضلع بیڑ کا ایک بڑا گاؤں تھا دھارور سے کیج کوئی دس پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کیج سے کلم نام کا ایک اور تعلقہ ہے جو ضلع عثمان آباد میں اتا تھا اور وہ کیج سے قریب سولہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کلم میں عثمان آباد کی قتل و غارت گری لوٹ مار کی خبر پہنچی تو کلم کے مسلمان سراسیمہ و خوف زدہ ہوکر کیج آگے، اس طرح کیج میں عثمان آباد کے پرانڈا تعلقہ کے بھی مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے ائے، ان مسلم پناہ گزینوں کو کیج کے ہندؤوں نے کیج میں ٹھیرایا اور کھانے پینے کا بندو بست کیا، اس ہمدردی کے پیچھے یہ نیّت تھی کہ یہ لوگ کیج سے کہی اور نہ جائیں، ان پناہ گزینوں میں کئی مالدار بھی تھے، انڈین آرمی کی نگرانی میں ان تمام کو لوٹ لیا گیا اور بعد میں تمام کو قتل کردیا گیا، ان مقتولوں کی لاشیں درگاہ قاضی مہذب الدین کے میدان میں کئی دیں پڑی رہی جو بعد میں کیج کے پٹیل نے ٹھکانے لگا دئیے۔
کانگریس کے غنڈوں اور ولنٹیرز کی ٹولیاں آگے پیچھے دھارور کے محکمہ تعمیرات ڈاک بنگلہ کے طرف اجارہی تھی اور ایک ایک مسلمان کو پکڑ کر ملٹری کے حوالے کررہی تھی کئی گرفتار شدگان کو قتل کردیا گیا کُچھ کو شولا پور جیل میں رکھا گیا کئی ماہ تک دھارور کے مسلمانوں کے مکان کھنڈر ہی رہے معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا قتل کردیئے گئے مقامی غنڈوں کی ٹولیاں آتی اور مسلمانوں کو پکڑ کر ملٹری کے حوالے کرتی، دوسری ٹولی آتی اور گھر والوں سے روپے پیسہ کا تقاضہ کرتی کے اگر تم اتنا دوگے تو تمہاری جان بچ جائیگی مگر روپیہ زیور لے کر بھی قتل کردیئے جاتے، مسلم خواتین کی عصمت ریزی کی الگ داستان ہے جسے لکھتے ہوئے قلم سہم جائے اُسے نہیں لکھا گیا کئی خاندان تو ایسے تھے کے انھونے کچھ نہیں بتایا کئی خواتین نے عصمت دری کے ڈر سے فتح شاہ کی باولی میں کود کر اپنی جانیں گوادیں، ایک مسلمان شیخ لال کو ناک کاٹ کر گدھے پر گشت کرایا گیا اور بعد میں اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر ختم کردیا گیا، دھارور میں یہ قتل و خون دو مہینے سے بڑھ کر ہوتا رہا، اس اثناء میں عیدالاضحٰی ائی، عید کے روز دھارور کے 33 لوگوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کیا گیا یہ کہتے ہوئے کے تم گائے اور بکری کی قربانی کرتے ہو ہم تمہاری قربانی کرینگے، ان میں گاؤں کا ایک قصاب سلیمان بھی تھا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے جسم کا پوست چیہلا گیا اور بعد میں گلا کاٹا گیا دھارور کے ایک سو مسلمان قتل ہوئے اور باہر کے پانچ سو سے زیادہ پناہ گزین قتل کئے گئے۔ یہ صرف چند گاؤں کی تفصیل ہے جو مختصراً آپکے سامنے رکھی گئی ورنہ حیدرآباد ریاست کے ہر گاؤں قصبہ میں پولیس ایکشن کے بعد یہ لوٹ مار قتل گری عصمت ریزی ہوئی جب بھارتی فوج میں گورکھوں اور سکھوں کی رجمنٹ نے کافی دہشت برپا کر رکھی تھی جن کے آنے کی خبر سن کر مسلم باپردہ خواتین اپنے شیرخوار بچوں کے ساتھ باولیوں میں کود کر اپنی جانیں دے دیتی
سقوط کے بعد پنڈت سندر لال کو وزیرِ اعظم ہند کے نے مولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے پر تحقیقات کے لیے حیدرآباد بھیجا تھا ، وزیر داخلہ ہند سردار پٹیل نے سندر لال جی کی الم انگیز رپورٹ کو حاصل کرکے برفدان کے حوالہ کردیا، پنڈت سندر لال نے حیدرآباد کے اضلاع کا ہند فوجی قبضہ کے بعد مشاہدہ کیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا کے "میں نے ہر طرف انسانوں کی لاشیں دیکھی باویلیوں کو عورتوں کے لاشوں سے پٹا ہوا پایا، اُدگر کی ندی میں انسانوں کا خون اور پانی ایک ہوکر کی دن تک بہتا رہا” مسلمانوں کا سب کُچھ دل کھول کر لوٹا گیا جسکی باز پرس کاروائی کُچھ نہیں ہوئی کیوں کے یہ لوٹ مار مکتی سنگرام مانی گئی اور اسکے لوٹرے مجاہد آزادی, لاکھوں سہاگنیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے سیکڑوں بستیاں ویران ہوگئیں مساجد مندر بنا دیئے گۓ کُل 20 ارب روپے کے اثاثہ، نقد رقم، زیور ، سازوں سامان، مویشی اور اناج کے ذخیرہ کو لوٹ لیا گیا اور جائیداد ( زمینات و مکانوں) پر قبضہ کرلیا۔
غرض یہ بات بعد میں عیاں ہوئی کے مجاہد آعظم قاسم رضوی اور انکے جانثار جوشیلے نوجوانوں جو اسلام اور قوم کے خاطر لڑ رہے تھے اُن کو اس بات کی اطلاع نہیں دی گئی تھی کے نظام میر عثمان علی خان نے بھارت کے ایجنٹ اور اپنے دغا باز درباریوں کی باتوں میں آکر ہند یونین کی پیش کردہ مسودہ کو مان لیا اور حیدرآباد کے فوجی کمانڈر جنرل عیدروس کو سرحدی علاقوں سے بنا کسی مزاحمت کے بھارت کے حوالے کرکے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا اسی لیے جنرل عیدروس نے بیلٹ تنگ کرنے کے بہانے تمام علاقوں سے اپنی فوج حیدرآباد بولالی اور یہ چند جوشیلے نوجوان اپنے خستہ اور قدیم رائفالوں اور لاٹھیوں سے ہند کے دبابوں ٹینکوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے حالانکہ ہند کے جنرل جے-این چردھری نے سقوط کے بعد کہا کہ ریاست حیدرآباد کے پاس بیرون ملکوں سے منگوایا ہوا جدید ہتھیار اتنی کثیر تعداد میں تھا کے اسکا استعمال ہوتا تو ہم یہ جنگ کبھی نہیں جیت پاتے, وہ ہتھیار بھارتی فوج کو جو کا تو حیدرآباد کے فوجی کیمپوں گوڈاؤنوں سے ملا جیسے بعد میں چین کی جنگ میں بھارت نے استعمال کیا ریاست حیدرآباد نے 50 بمبار طیاروں کی کمک تیار کر رکھی تھی اس کا بھی استعمال نہیں ہوا، حیدرآباد کی فوج جو پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں نا صرف شامل رہی بلکہ بڑی پامردی کے ساتھ محازوں پر اپنے اسی میجر جنرل عیدروس کے ساتھ کامیاب جنگیں لڑ چکی تھی جس میں برما کی بھی جنگ شامل ہے اگر حیدرآباد فوج لڑتی تو 6 مہینے تک محازوں پر نہ صرف ڈٹی رہ سکتی تھی بلکہ اپنے دشمن کو پسپا بھی کرنے کی طاقت رکھتی تھی ہند یونین کے تمام تر ضروری اور معاشی ناکہ بندی کے باوجود حیدرآباد ریاست نے سڈنی کاٹن کے طیاروں سے اتنی خوردنی اشیاء جمع کرلی تھی کے اگلے 6 مہینے تک ریاست میں بنا کوئی اشیاء کے درآمد کے بھی حیدرآباد ریاست اپنے باشندوں کے تمام تر ضروریات پوری کرنے کی طاقت رکھتی تھی مگر اس طرح بنا مزاحمت کئے محاذوں کو چھوڑ پیچھے ہٹنے سے 40 ہزار وفادار جذبے شہادت سے معمور رضا کار اور لاکھوں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ہزاروں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوئی جو بچ گئیں انکی زندگیاں نہات ہی کرب ناک حالات میں گزری۔
مجاہد سیّد قاسم رضوی نے اعلاحق کی خاطر وطن عزیز مملکتِ اسلامیہ حیدرآباد کی آزادی و خود مختاری کی حفاظت اور مسلمانوں کی سیاسی قوت کی بقاء کے لیے حملہ آور سے جنگ کی تھی جو "قرآنی حکم کے مطابق فرض عین ہے” ( دیکھیے سورہ بقرہ آیت 190 ,سورہ حج آیت 39) یہ اور بات ہے کے سازش اور غداری سے مدافعت کے پرخچے اُڑ گئے جو لوگ معرکہ حق و باطل عزیمت و حریت سے نا وقف احساس پستی اور مسموم پروپیگنڈہ سے متاثر زہنی بیمار ہیں و لڑنے والے مجاہدوں کو ہی غدار سمجھتے ہیں, لیکن وہ جو معرکہ حق و باطل حریت اور عزیمت سے واقف اہل فہم و بصیرت ہیں یہ جانتے ہیں کہ
” قرآنی تعلیم اور سنت رسول ﷺ کے مطابق سب سے بڑی ذلت اور گمراہی یہ ہے کہ اعلا حق کے مقابل باطل کو طاقت ور دیکھ کر اس کی غلامی اور تسلط کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے”
اپنی تاریخ کو جو قوم بھولا دیتی ہے
صفحہ دہر سے وہ خود کو مٹا دیتی ہے
موجودہ حالات میں اپنی بقاء اور تحفظ کے لیے ہمیں اپنی اس تاریخ سے سبق لینا چاہیئے اور مستقبل کو مصلحت اندیشی کے محل کے بجاے اجتماعی سعی و جدوجهد کے ساتھ تشکیل دینا چاہئے۔
سیّد عمران ناندیڑ