مسخ شدہ تاریخ اور مجروح تہذیب نصابی تحریف کا تہذیبی المیہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے سے عدل، صداقت اور امانت جیسے اوصاف رخصت ہونے لگتے ہیں تو ظلم، جبر اور فکری تحریف اس کا لازمی نتیجہ بن جاتا ہے۔ قرآنِ مجید انسانی سماج کی رہنمائی کرتے ہوئے بارہا متنبہ کرتا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور نہ ہی حقیقت کو چھپاؤ جب کہ تم اسے جانتے ہو۔ "وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ”—یہ آیت اس ابدی ضابطے کو واضح کرتی ہے کہ فکری امانت کا تقاضا ہے کہ تاریخ، علم اور انسانوں کے کردار کو دیانت داری سے بیان کیا جائے۔
اسلامی روایت میں تاریخ محض گزری ہوئی کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عبرت، بصیرت اور اخلاقی بیداری کا سر چشمہ ہے۔ ماضی کے واقعات کے ذریعے انسان نہ صرف انسانی عظمت کے نقوش پہچانتا ہے بلکہ ظلم و ناانصافی کے انجام کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے قوموں کے عروج و زوال کو "آیات”—نشانیوں—کے طور پر پیش کیا، جو ہر دور کے انسان کو دعوتِ فکر دیتی ہیں۔
اسی طرح انسانی تہذیب کی اقدار بھی ہمیں سکھاتی ہیں کہ معاشرے اس وقت تک سلامت رہتے ہیں جب تک وہ سچائی کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں، تنوع کا احترام کرتے ہیں، اور مختلف تہذیبوں کے کردار کو انصاف کے ترازو میں تولتے ہیں۔ جب قومیں اپنے تعلیمی نظام میں تعصب اور نفرت کے بیج بوتی ہیں، جب وہ اپنے بچّوں کو مسخ شدہ تاریخ پڑھاتی ہیں، تو وہ صرف ماضی نہیں چراتیں وہ نسلوں کا مستقبل بھی تاریک کر دیتی ہیں۔ تاریخ کی تحریف نہ صرف ایک علمی جرم ہے بلکہ ایک اخلاقی گناہ بھی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کی اصل شناخت سے محروم کر دیتی ہے۔
ہندوتوا کے فروغ کی موجودہ لہر میں موجودہ حکومت اور ان کی فکری سرپرست تنظیموں، بالخصوص ان کی ہم نوا ہندوتوا وادی تنظیموں نے ایک ایسا ماحول تشکیل دے دیا ہے جس میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ گھر، بازار، عبادت گاہ اور عدالت… کہیں بھی مسلمان اپنے آپ کو مکمل طور پر محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ لیکن یہ معاملہ صرف موجودہ زندگی کی مشکلات تک محدود نہیں رہا؛ اب تاریخ کے صفحات میں بھی تعصب کا قلم دوڑایا جا رہا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک مخصوص نظریے کے مطابق ڈھالی جا سکیں۔
دانشوروں، اساتذہ اور مورخین کی بارہا تنبیہوں کے باوجود، تاریخی بیانیے کو مسخ کرنے کی کوششیں اب باقاعدہ پالیسی کا حصّہ بنتی جا رہی ہیں۔ این سی ای آر ٹی جسے ملک کے تعلیمی معیار کا معمار سمجھا جاتا تھا، ہندوتوا پسند تنظیموں کی فکری نگرانی میں تاریخ کی کتابوں میں ایسی تبدیلیاں لا رہی ہے جن کا مقصد نہ صرف مسلم سلاطین، مجاہدین اور تہذیبی معماروں کی حیثیت کم کرنا ہے بلکہ ان کی خدمات پر سوال اٹھا کر تاریخ کو ایک انتقامی زاویے سے پیش کرنا بھی ہے۔
ہندوتوا وادی تنظیم کے ایک لیڈر نے بڑے فخر اور غیر معمولی اطمینان کے ساتھ اعلان کیا کہ "تاریخ کی کتابوں میں بہت سی ’مثبت‘ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔” ان کے بقول اب نہ مغل بادشاہ اکبر کے ساتھ "عظیم” کا صفتی خطاب استعمال ہوگا اور نہ ہی میسور کے شیر، ٹیپو سلطان، کو اس کی تاریخی عظمت، قومی مزاحمت اور فلاحی کردار کے تناظر میں یاد کیا جائے گا۔ حالاں کہ یہ وہی اکبر ہے جس نے مذہبی رواداری، کشادہ دلی، متحدہ ہندوستان کے تصور، اور ایک ہم آہنگ تہذیبی ماحول کی بنیادیں مضبوط کیں۔ اور یہ وہی ٹیپو سلطان ہے جس نے برصغیر میں استعماری تسلّط کے خلاف آخری سانس تک جدوجہد کی، بے مثال بہادری دکھائی، اپنی ریاست کی تعمیر و ترقی کے لیے جدید اصلاحات کیں، اور بالآخر اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کر دی۔
اس لیڈر نے مزید کہا کہ شخصیات کو نصاب سے ہٹایا نہیں جا رہا، تاکہ "طلبہ ان کے ظلم سے واقف رہیں”۔ مگر یہی جملہ اس ذہنیت کی گواہی کے لیے کافی ہے جو تاریخ کو محض سیاسی دشمنی اور نظریاتی عصبیت کی کسوٹی پر پرکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ گویا ایک ہزار سالہ مشترکہ تہذیب، علمی وراثت، عدالتی و انتظامی نظام، فنِ تعمیر، ادب، زراعت، صنعت و تجارت اور سماجی نظم پر مسلم حکمرانوں کے گہرے اور مثبت اثرات کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال کر چند چھوٹے یا متنازعہ واقعات کو بنیاد بنا کر پوری تاریخ کے چہرے پر کالک ملنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مسلم حکمرانوں کو "ظالم” قرار دینا بددیانتی ہے۔ جب کے تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اکبر نے جزیہ ختم کیا جو غیر مسلموں پر عائد ہوتا تھا۔ ہندوؤں کو بڑی تعداد میں اعلیٰ انتظامی عہدے دیے۔ راجپوت سرداروں کو باعزّت سیاسی مقام دیا۔ بین المذاہب مکالمے کے لیے عبادت خانہ قائم کیا جہاں عیسائی، ہندو، جین، بدھ، زرکش، مسلمان علمائے کرام آکر گفتگو کرتے۔ یہ تمام اقدامات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ اس دور کو صرف "ظلم” کا دور کہہ دیا جائے۔
ٹیپو سلطان نے انگریز استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کی سب سے طاقتور علامت ہونے کے ناطے چار جنگیں لڑیں (Mysore Wars)۔ اس نے راکٹ ٹیکنالوجی کو جنگی میدان میں استعمال کیا جو بعد میں انگریز اپنے ساتھ برطانیہ لے گئے۔ اس نے ہندوستان میں زراعت، صنعت اور تجارت کو مضبوط کرنے کے لیے جدید اصلاحات نافذ کیں۔ ٹیپو کو آج بھی یورپی مؤرخین "The Tiger of Mysore” اور "The First Freedom Fighter” کہتے ہیں۔ اگر اسے "ظالم” دکھایا جائے تو یہ محض سیاسی تعصب پر مبنی ہے۔
مزید برآں، تنظیم کے لیڈر نے فخر کے لہجے میں بتایا کہ این سی ای آر ٹی نے 15 نصابی کتابوں میں سے 11 میں تبدیلیاں کر دی ہیں اور اگلے سال کلاس 9، 10 اور 12 کی کتابوں میں مزید "اصلاحات” کی جائیں گی۔ اس طرح، یہ تبدیلیاں چند صفحات میں کی گئی ترمیمات نہیں بلکہ پورے تاریخی شعور کو ایک یکطرفہ بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی منظم کوشش ہیں۔
ہندوستان عالمی تجارت میں 17% حصّہ اس دور میں رکھتا تھا (موجودہ دور کی پوری یورپی یونین سے زیادہ)۔ دہلی، آگرہ، لاہور اور حیدرآباد عبداللّٰہ کے زمانے کے دنیا کے سب سے بڑے صنعتی مراکز تھے۔ اردو، فارسی، ہندی ادب اور فنِ تعمیر کو تاریخی بلندی نصیب ہوئی۔ شہری انتظام، آب پاشی، ڈاک نظام، سڑکیں، ڈاک بنگلے، اور عدالتیں جدید بنیادوں پر کھڑی ہوئیں۔ ایسی تہذیبی ترقی کو صرف "ظلم” کہہ دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
یونیسکو کی رپورٹ Teaching History for Peace میں کہا گیا ہے، "چنیندہ تاریخ نفرت کو جنم دیتی ہے؛ جامع تاریخ قومیں تعمیر کرتی ہے”۔ ("Selective history creates hatred; comprehensive history builds nations”)۔ جرمنی میں نازی دور کی غلطیاں حقائق کے ساتھ پڑھائی جاتی ہیں، مٹائی نہیں جاتیں۔ جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ کے حقائق نصاب کا حصّہ ہیں، مگر متوازن انداز میں۔
مشہور مورخ ولیم ڈالرمپل لکھتے ہیں: "بھارت کی اصل طاقت ہمیشہ اس کی تنوّع پسندی رہی ہے۔ مسلمانوں کی خدمات کو مٹانا دراصل خود ہندوستانی شناخت کو مٹانے کے مترادف ہے”۔ (India’s strength has always been its diversity. Erasing Muslim contribution is an erasure of Indian identity itself)۔ امی توشامی اور جادوناتھ سرکار جیسے غیر جانبدار ہندو مورخ بھی اکبر اور ٹیپو سلطان کی انصاف پسندی اور فلاحی کردار کے معترف رہے ہیں۔
بہت سے ہندوستانی مؤرخین ڈاکٹر عرفان حبیب، رام چندر گوہا، پروفیسر برونیل، رومیلا تھاپر نے اس بیانیے کو "myth-making through textbooks” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، تاریخی تحریف کے بنیادی محرکات یہ ہیں: سیاسی سچائی کو مذہبی جذبات میں چھپا دینا۔ مشترکہ تہذیبی ورثے کو حذف کرنا۔ ہمہ رنگی معاشرے کو یک رنگ بنانا۔ اقلیتوں کو "دوسرا” ثابت کرنا۔ یہ بیانیہ سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللّٰہ ربِّ العالمین فرماتے ہیں، اللّٰہ کے نزدیک اس سے بڑا ظالم کون ہے جو حق کو چھپائے؟۔ اسلامی اصول کے مطابق تاریخ جھوٹ سے نہیں لکھی جا سکتی۔ حق بیان کرنا اور باطل کی مخالفت کرنا ایمان کا حصّہ ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا "جہاد باللسان” ہے۔ نبیﷺ کا فرمان "تم سے پہلے قومیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اپنے بڑوں کے ظلم کو تاریخ میں سفید کرتے تھے، اور کمزوروں کے چھوٹے جرم کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتی تھیں”۔ یہ حدیث تاریخ نویسی کی اخلاقیات کی اساس ہے۔
یہ رویہ نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے بلکہ ہندوستان کی اس کثیر الثقافتی روح کی بھی نفی کرتا ہے جو صدیوں سے یہاں کے امن، برداشت، یکجہتی اور تہذیبی ہم آہنگی کی بنیاد رہی ہے۔ تاریخ کو چھین کر قوموں کی شناخت کو مسخ کیا جاتا ہے، اور شناخت جب مسخ ہوتی ہے تو قومیں فکری اور سماجی انتشار کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
تاریخ کوئی کھیل نہیں، کہ جسے جب چاہا جیسے چاہا بدلا جا سکے۔ یہ تہذیبوں کے سفر کا آئینہ، شعورِ قومیت کی اساس، اور مستقبل کی تعمیر کا سنگِ بنیاد ہوتی ہے۔ اگر اس آئینے کو دھندلا دیا جائے تو آنے والی نسلیں حقیقت سے محروم رہ جائیں گی، اور ایک ایسا معاشرہ جنم لے گا جو نفرت، تعصب، اور یک رخی فہم کی بھٹی میں جھلستا رہے گا۔
Masood M. Khan (Mumbai)




