مضامین

جمہوری سیاست اور ہماری اخلاقی سرحدیں

ویسے جمہوری سیاست میں اخلاق کی اُمّید کرنا اندھیری رات میں جگنو تلاش کرنے کے مترادف ہے لیکن بحیثیت اُمّت مسلمہ ہماری کچھ حدود ہے اگر خیر اُمہ کے افراد خود اخلاقیات سے عاری ہو جائے تو اخلاقی پستی معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ مہاراشٹر کے انتخابی پس منظر میں مسلمانوں کے بعض سیاسی امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جو کردار کشی کی جا رہی ہے، و نہایت ہی غیر مہذبانہ اور غیر زمّے دارانہ ہے جو اُمّت کے اخوتی شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ منظر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک ہی ملت سے تعلق رکھنے والے لوگ، مخلتف سیاسی اسٹیجس سے ایک دوسرے پر الزامات، طعنے اور بہتان لگا رہے ہیں۔ زبان کی شائستگی، دلیل کی قوت اور اختلاف کے آداب سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر مہذب ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اس اخوتی شیرازه کو بکھیر دیگ جس کی بنیاد لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر رکھی گئی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو لیڈران عوامی جلسوں میں ایک دوسرے کی عزت اچھالتے ہیں، وہی پسِ پردہ ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہو کر گھومتے نظر آتے ہیں۔ مگر اس سیاسی ڈرامے میں جو آگ وہ عوام کے دلوں میں لگا دیتے ہیں، اس کی تپش براہِ راست مسلم سماج کی اخوت، بھائی چارگی اور باہمی اعتماد کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسی سیاست ہے جس میں کامیابی کے لیے کسی بھائی کی تذلیل ضروری سمجھی جاتی ہے؟ کسی کے پیشہ پر تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جب کے و حلال ذریعے سے رزق حاصل کرتا ہو۔ کیا اختلافِ رائے کے لیے کردار کشی ناگزیر ہے؟ کیا مسائل، منصوبے اور عوامی خدمت کے نکات پر بات کرکے آپ کی سیاسی گاڑی نہیں چل سکتی؟

جب کے ہمارے اس مقدس رشتہ کی بنیاد ایمان پر رکھی گئی تھی۔ ہم نے تو باطل طاقتوں کے خلاف مل کر نعرہ لگایا تھا:

"تیرا میرا رشتہ کیا؟ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ”

لیکن آج اسی نعرے، اسی رشتے اور اسی اخوت کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے پامال کر رہے ہیں ہم نے تو اس مقدس رشتہ کے نعرہ "تیرا میرا رِشتہ کیا” کی بھی تذلیل کردی۔ اس جمہوری سیاست کو چمکانے کے لیے ہم ان مقدس مذہبی نعروں کا استعمال نہ کریں تو بہتر ہوگا۔ "نعرہ تکبیر” کی گونج جنگ کے میدانوں میں کفاروں کے دلوں ہیبت طاری کردیا کرتی تھی۔ جب ان جمہوری سیاست کے اسٹیجز سے یہ مقدس نعرہ تکبیر کو اپنے جھوٹے وعدوں کے بعد لگایا جاتا ہے تو سرفراز بزمی صاحب کا و شعر یاد آجاتا ہے۔

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ

اقتدار کی ہوس نے ہمیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارے الفاظ صرف مخالف امیدوار کو نہیں، بلکہ پوری ملت کو زخمی کر رہے ہیں۔

یہ روش نہ صرف سیاسی نقصان کا سبب ہے بلکہ دینی، سماجی اور اخلاقی خسارے کا بھی پیش خیمہ ہے۔ اگر مسلمان سیاستدان خود ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو دوسروں سے احترام کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنے اختلافات کو مہذب انداز میں حل نہیں کر سکتے تو ہماری قیادت کا دعویٰ محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حالات میں جو اس جمہوری سیاست کے دلدل میں اتر چکے ہے تو اسے عوّام کی خدمت کا ذریعہ کس طرح بنایا جائے اس پر محنت کریں۔ اختلاف ہو، ضرور ہو، مگر دلیل کے ساتھ۔ مقابلہ ہو، مگر اخلاق کے دائرے میں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی سیاست صرف افراد کو نہیں، پوری قوم کو لے ڈوبتی ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!