تمل ناڈو کا جراتمندانہ اعلان مرکز کی پالیسی کو مسترد، خود کی نئی تعلیمی حکمتِ عملی نافذ

خصوصی رپورٹ ،
عقیل خان بیاولی،
موظف پرنسپل جلگاؤں
تمل ناڈو حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے مرکز کی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اپنی آزاد ریاستی تعلیمی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے ہمیں 10,000 کروڑ روپے بھی دیے جائیں، ہم NEP کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘‘وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مرکز کی متعارف کردہ پالیسی ریاستوں کے اختیارات کمزور کر کے تعلیمی شعبے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمل ناڈو کا نیا ماڈل ریاست کے سماجی، انصاف علاقائی ضروریات اور تعلیمی مساوات پر مبنی ہوگا، اور اس سے دوسرے صوبے بھی رہنمائی لے سکیں گے۔
حکومت کے مطابق یہ نئی پالیسی روایتی تعلیمی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالے گی، طلبہ کے لیے بہتر مواقع فراہم کرے گی اور مرکز کی مداخلت سے پاک ہوگی۔ریاست تمل ناڈو کی نئی تعلیمی پالیسی کی نمایاں خصوصیات۔ریاستی خود مختاری :نصاب اور ڈھانچے پر مکمل ریاستی کنٹرول، مرکز کی NEP سے انکار۔ قومی یکساں امتحانات کی مخالفت: میڈیکل اور پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے کے لیے NEET جیسے امتحانات کو ختم کرنے کا مطالبہ۔سماجی انصاف پر زور: تین زبانوں کا فارمولا، پسماندہ طبقات کے لیے خصوصی تعلیمی سہولیات۔روایات و جدیدیت کا امتزاج: تمل ناڈو کی ثقافتی و لسانی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تعلیمی معیار کی فراہمی۔وزیر اعلیٰ اسٹالن نے کہا کہ یہ ماڈل تعلیمی شعبے میں ایک نئی راہ متعین کرے گا اور ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔




