مہاراشٹرا

اجیت پوار کا پولیس کو سخت حکم: قانونی مویشیوں کی ٹرانسپورٹ نہ روکی جائے، گؤ رکشکوں پر کارروائی کریں

ممبئی | 9 اگست 2025 – مہاراشٹر میں گؤ رکشکوں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف حکومت نے سخت قدم اٹھا لیا ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے پولیس کو واضح ہدایت دی ہے کہ قانونی اجازت کے تحت مویشیوں کی ٹرانسپورٹ کرنے والی گاڑیوں کو کسی بھی خود ساختہ گؤ رکشک کے ذریعے نہ روکا جائے، نہ تلاشی لی جائے اور نہ ہی ڈرایا دھمکایا جائے**۔ ساتھ ہی ضلع پولیس سربراہان کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسی غیر قانونی چیکنگ کرنے والے نجی افراد کو فوری طور پر روکا جائے۔

قریشی برادری کی شکایت – ‘گؤ رکشک قانون کے پردے میں بھتہ خوری’
یہ اقدام قریشی برادری کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔ برادری نے نائب وزیر اعلیٰ سے شکایت کی کہ **گؤ نسل کے ذبح پر پابندی کے قانون کے نام پر کچھ گؤ رکشک قانونی مویشیوں کی ٹرانسپورٹ کرنے والی گاڑیوں کو روک کر ڈرائورز کو ہراساں کرتے ہیں اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں**۔
حال ہی میں بھینسوں کی خرید و فروخت کے دوران پیش آنے والی اس ہراسانی کے خلاف قریشی برادری نے ریاست بھر میں خاموش مارچ نکالا تھا۔

حکومت کا سرکاری اعلامیہ تیار
ملاقات میں ریاست کی ڈائریکٹر جنرل پولیس رشمی شکلا اور ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اجیت پوار نے رشمی شکلا کو ہدایت دی کہ ایک سرکاری اعلامیہ جاری کیا جائے،
جس میں واضح طور پر کہا جائے کہ **قانونی مویشیوں کی ٹرانسپورٹ کرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کا اختیار کسی نجی فرد کو نہیں ہے** اور پولیس اس پر سختی سے عمل کرائے۔

قریشی برادری کے معاشی کردار کا اعتراف
اجیت پوار نے اس موقع پر کہا، *”قریشی برادری روایتی طور پر گوشت کے کاروبار سے منسلک ہے اور مہاراشٹر کی زرعی و دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ ان کے تاجروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔”*
اس اعلان سے مویشیوں کی خرید و فروخت سے جڑے طبقوں کو قانونی تحفظ ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

سیاسی و سماجی پس منظر
گزشتہ چند برسوں میں گؤ نسل کے ذبح پر پابندی کے قانون کے نفاذ کے دوران گؤ رکشک گروپوں کی سرگرمیوں پر کئی تنازعات کھڑے ہوئے ہیں۔ متعدد مقامات پر گاڑیاں روکنے، ڈرائیوروں پر دباؤ ڈالنے اور مبینہ بھتہ خوری جیسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت کے اس نئے حکم پر مویشی تجارت سے وابستہ طبقوں، پولیس انتظامیہ اور سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!