مہاراشٹرا

جلگاؤں کے مسلم قائدین کی ایس پی سے ملاقات – سلیمان رحیم خان ہجومی تشدد کیس میں مکوکا نافذ کرنے اور ایس آئی ٹی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جامنیر تعلقہ کے بیٹاود گاؤں میں پیش آئے المناک اور وحشیانہ ہجومی تشدد میں ہلاک ہونے والے 21 سالہ سلیمان کے قتل پر جلگاؤں کے مسلم قائدین اور سماجی ذمہ داران نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مقتول کے اہل خانہ کی انصاف کی پکار کو اجاگر کرتے ہوئے ملزمان پر مکوکا (MCOCA) نافذ کرنے اور معاملے کی تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی (SIT) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق، چند درندہ صفت عناصر نے سلیمان کو فلمی طرز پر جامنیر سے بیٹاود گاؤں لاکر دن دہاڑے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کرقتل کیا۔

 

اس دوران مقتول کے والد، ضعیف دادا اور حاملہ بہن کو بھی شدید زدوکوب کیا گیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق، گاؤں کے لوگوں کو دھمکیاں دے کر خاموش کرایا گیا، جس سے علاقے میں خوف و دہشت کی فضا قائم ہو گئی۔سیاسی و سماجی حلقوں میں اس بات کا خاص تذکرہ ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی کے سینئر رہنما اور ریاستی وزیر گریش مہاجن کے شہر جامنیر کے قریب پیش آیا۔

اس موقع پر کانگریس لیڈر اور جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے نائب صدر مفتی محمد ہارون ندوی، عبدالکریم سالار، عبدالعزیز سالار، اقبال پیرزادے، جمیل شیخ، سید ایاز علی، خالد بابا باغبان، امجد پٹھان، فاروق قادری، شاہد پٹیل، رضوان جاگیردار، عبد اللہ سر، عرفان سالار، شاہید سید اور دیگر بڑی تعداد میں مسلم سماج کے نمائندے موجود تھے۔ایس پی جلگاؤں نے وفد کو بتایا کہ اب تک 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ وفد نے مزید نام اور شواہد فراہم کیے ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔

ایس پی نے غیر جانبدارانہ اور سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔مسلم قائدین نے کہا کہ یہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ آئین ہند، انسانی حقوق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر کھلا وار ہے، لہٰذا اس میں مکوکا نافذ کرتے ہوئے ملزمان کو مثال قائم کرنے والی سزا دی جائے۔ ہر ہندو اور مسلمان شہری نے اس درندگی کی شدید مذمت کی اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!