"سلیمان کی موت… ہجومی درندگی کے سائے تلے کانپتی انسانیت” "کیا حکام کا ضمیر جاگے گا؟”

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
چھوٹا سا قصبہ چھوٹا بیٹاود… نام ہی میں معصومیت کا عکس، جہاں کی فضاؤں میں کبھی بھائی چارے اور محبت کی خوشبو رچی بسی تھی۔ چند ہزار کی بستی، جہاں مسلم آبادی اتنی کم کہ اپنی عبادت گاہ بھی نہ بنا سکے، مگر دلوں میں ایمان کی روشنی اور محبت کا چراغ جلتا رہا۔ برسوں سے ہندو مسلم ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے شریک رہے۔لیکن پھر اچانک…وہ زہر آلود ہوا چل پڑی، جس نے اس بستی کی فضا کو نفرت کی دھند سے آلودہ کر دیا۔ نہ جانے یہ زہر کہاں سے آیا، کس نے اس کے بادل تیار کیے اور کس نے انہیں اس امن کی بستی پر برسا دیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب سلیمان ایک جواں سال امیدوں کا چراغ پولس محکمہ میں شامل ہوکر خدمات انجام دینے کے خواب دیکھنے والا ،ہجومی درندگی کی نذر ہو گیا۔سرِ عام مارپیٹ، گھنٹوں تشدد، جسم کے ہر ہر حصے پر زخم، پھر نیم جان حالت میں گھر لاکر اہلِ خانہ کو بھی زد و کوب کرنا… اور گاؤں، انتظامیہ، وزراء،سب کے سب خاموش تماشائی!؟ تین دن گزر گئے، مگر نہ ریاستی وزیر گریش مہاجن، جن کا یہ حلقہ ہے،آئے… نہ کوئی سرپنچ، نہ پولس پاٹل، نہ کوئی سرکاری افسر۔ مرحوم کے گھر کی دہلیز پر صرف چند مسلم قائدین اور مقامی برادرانِ دین پہنچے، جو صبر اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتے رہے۔اہلِ علاقہ کے دل سوال کر رہے ہیں کیا یہ مہاراشٹر،
جسے کبھی امن و ترقی کی مثال کہا جاتا تھا، آج اتر پردیش و بہار کی طرز پر نفرت کے کھڈے میں گر رہا ہے؟کیا سلیمان کی موت صرف ایک خبر ہے، یا آنے والے طوفان کا پیش خیمہ؟جماعت اسلامی ہند، کی اے پی سی آر کمیٹی ،جمیعت العلماء ہند، ایکتا سنگٹھنا،کانگریس کمیٹی ،اور دیگر مسلم تنظیموں نے متحد ہو کر نہ صرف اہلِ خانہ کو قانونی، مالی اور اخلاقی تعاون دینے کا اعلان کیا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبات کر رہے ہیں اس ضمن میں ریاست مہاراشٹر کے گورنر ،وزیر اعلیٰ ،وزیر داخلہ اقلیتی کمیشن ،حقوق انسانی وغیرہ کو میمورنڈم پیش کۓ جارہے ہیں ۔
اس ضمن میں ضلع ایس پی کے مطابق آٹھ گرفتاریاں ہو چکی ہیں، باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔لیکن سوال باقی ہے،کیا یہ انصاف ہوگا یا محض وقتی تسلی؟کیا ہم امتِ مسلمہ کے طور پر اس واقعہ کو بھلا دیں گے؟ یا ہم قرآن کے اس حکم کو یاد رکھیں گے کے اور تم پر ظلم کیا جائے تو تم ان کا ہاتھ پکڑ لو اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، بے شک اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔”سلیمان اب لوٹ کر نہیں آئے گا…لیکن اس کی موت ایک پکار ہے امت کو بیدار ہونے کی، اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کی، اور ظالم کے ہاتھ کو روکنے کی۔اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل شاید ہم میں سے کوئی اور سلیمان ہوگا۔ان وفود میں اے پی سی آر کے مہاراشٹر سیکریٹری ایڈوکیٹ شعیب انعام دار ،مقامی صدر جے آئی ایچ سہیل امیر، عارف دیشمکھ منظور خان ،سہیل احمد، حافظ خان ، وغیرہ ،دوسرے وفد میں مفتی ہارون ندوی ،عبدالکریم سالار، خالد بابا باغبان ، اقبال پیرزادہ، جمیل شیخ، ایاز علی سید، جمیل شیخ تانبہ پورہ، عبدالعزیز سالار، ریحان جاگیر دار ،وغیرہ ،ایک وفد میں فاروق شیخ ،حافظ عبدالرحیم پٹیل انیس شاہ، جاوید جناب، جاوید شیخ مارول وغیرہ ۔




