مہاراشٹرا

جامنیر بیتاود میں دل دہلا دینے والا ہجومی تشدد؛ اصل ماسٹر مائنڈ آزاد، انصاف کی پکار شدت اختیار کر گئی

ایکتا سنگٹھنا کی نائب وزیر اعلی اجیت دادا سے ملاقات ۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جامنیر تعلقہ کے بیتاود خورد گاؤں میں پیش آئے ہجومی تشدد کو چھ دن گزر چکے ہیں۔ چند ملزمان گرفتار ضرور ہوئے لیکن اس وحشیانہ جرم کا اصل ماسٹر مائنڈ، جو ایک تنظیم اور مقامی سیاسی رہنما سے قریبی تعلق رکھتا ہے، آج بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ عینی شاہدین کے بیانات، پولیس کے پاس موجود ثبوت اور متاثرہ خاندان کی شکایات کے باوجود مرکزی ملزم اور کیفے کے مالک کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سنگین واردات پر ابھی تک مکوکا اور تعزیراتِ ہند کی دفعہ 61(2) (آئینی سازش) بھی عائد نہیں کی گئی۔

جلگاؤں ضلع ایکتا سنگٹھنا نے ڈپٹی سی ایم اجیت دادا پوار سے ان کے جلگاؤں دورہ پر ملاقات کر مطالبات رکھے1. موجودہ تحقیقاتی افسر مرلی دھر کاسر کو فوری ہٹا کر ڈی وائی ایس پی رینک کا افسر مقرر کیا جائے۔2. مرکزی ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے۔:3. معاملے میں مکوکا اور دفعہ 61(2) نافذ کیا جائے۔4. متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔5. پچیس لاکھ روپے معاوضہ اور ایک سرکاری نوکری دی جائے۔6. خصوصی سرکاری وکیل مقرر کر کے مقدمے کی تیز تر سماعت ہو۔اس وحشیانہ سانحہ نے اقلیتی برادری میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے۔

ایکتا سنگٹھنا نے کہا کہ حکومت فوری ایکشن لے ورنہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہوگا۔اجیت دادا کا ردعمل
ڈپٹی سی ایم اجیت دادا پوار نے فاروق شیخ و دیگر نمائندوں کی شکایت کو سنجیدگی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ’’مہاراشٹر کے ماتھے پر کلنک‘‘ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ سے بات کریں گے اور ریاستی پولیس ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا تک یہ شکایت پہنچا کر سخت کارروائی یقینی بنائیں گے۔وفد میں شامل مفتی خالد، فاروق شیخ، ندیم ملک، فیروز شیخ، قاسم عمر، جاوید مولا، آصف شیخ، شہباز خان، شکیل شیخ، حافظ رحیم پٹیل، مولانا قاسم ندوی، مولانا غفران، متین پٹیل، انور صیقلگر ، ایڈوکیٹ اویس شیخ، نجم الدین شیخ، صابر خان، شبیر خان، امجد پنچاری، شیخ فیروز سمیت دھولیہ، نندوربار اور جلگاؤں کے متعدد سیاسی و سماجی رہنما شریک رہے۔ یہ سانحہ صرف ایک خاندان پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ ہے، جس کا انصاف تاریخ کے اوراق میں درج ہوگا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!