اسلامی
دینی و عصری تعلیم کا امتزاج: اقراء تھم کالج(این ایم یو)سے 23 علماء کو ایم اے اردو کی ڈگریاں.
دینی مدارس کی محنت اور عصری اداروں کی سند کا حسین ملاپ، علماء کو نئی سمتیں اور مواقع فراہم کرنے لگا۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے زیر اہتمام ایچ جے تھم کالج آف آرٹس اینڈ سائنس، مہرون میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کے تیسرے بیچ کے 23 طلباء کو ایم اے اردو (پوسٹ گریجویشن) کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ اس موقع پر صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی الحاج عبدالکریم سالار کے ہاتھوں طلباء کو مارکس شیٹ، ٹی سی اور دیگر اسناد پیش کی گئیں۔مدارس کے فارغین اپنی انتھک محنت اور انہماک کے ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اردو زبان و ادب پر بھی گہری دسترس رکھتے ہیں۔ مگر ان کی یہ صلاحیتیں اس
وقت تک عصری میدان میں تسلیم نہیں کی جاتیں جب تک کسی حکومتی ادارے کی سند ان کے ساتھ نہ ہو۔

اسی کمی کو دور کرنے کے لئے نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی جلگاؤں نے مدارس کی اسناد کو تسلیم کرتے ہوئے علماء کو مین اسٹریم میں شامل کیا ہے۔ اب تک تین بیچز سے سو سے زائد علماء ایم اے اردو سمیت دیگر اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے الحاج عبدالکریم سالار نے کہا کہ آج کے بدلتے حالات میں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے، ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق اقدامات کرنے ہوں گے۔ انچارج پرنسپل ڈاکٹر چاند خان اور وائس پرنسپل ڈاکٹر وقار شیخ نے بھی علماء کو مبارکباد پیش کرتے
ہوئے مزید اعلیٰ تعلیم کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر مبشر احمد نے کی، جبکہ شکریہ قاضی مزمل الدین ندوی نے ادا کیا۔
طلباء نے ڈاکٹر کہکشاں انجم اور شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ کے رہنمائی و تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔ یہ منظر اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب دینی بصیرت اور عصری تعلیم ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو علم کی روشنی دلوں کو منور کرنے کے ساتھ قوم کے مستقبل کو بھی سنوار دیتی ہے۔




