رحمتِ دو عالمﷺ انسانیت کے لیے کامل نمونہ

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں ہر طرف گمراہی اور بے راہ روی کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ طاقتور کمزور کو دباتا، عورت کو حقیر سمجھا جاتا، اور اخلاقی قدریں زوال پذیر تھیں۔ معاشرتی ناانصافی اپنی انتہاء کو پہنچ چکی تھی۔ ایسے میں انسانیت ایک ایسے رہنما کی متلاشی تھی جو اسے سیدھی راہ دکھا سکے، عدل و انصاف کا نظام قائم کرے اور دلوں میں محبت و رحمت کے چراغ روشن کرے۔ اسی تاریکی میں رحمتِ دو عالم، نبی آخر الزمانﷺ کی بعثت ہوئی۔ آپﷺ نورِ ہدایت بن کر تشریف لائے اور دنیا کو عدل، محبت، اخوت اور انسانیت کے حقیقی معنی سکھائے۔ آپﷺ کی تعلیمات نے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے جہالت کو علم، ظلم کو عدل، اور نفرت کو محبت میں بدل دیا۔
آپﷺ کی بعثت تاریخِ انسانی کا وہ عظیم لمحہ تھا جب تاریکی میں روشنی کی کرن پھوٹی، زوال پذیر اخلاقی قدریں پھر سے بحال ہوئیں، اور انسانیت کو اس کا حقیقی مقام ملا۔ آپﷺ نے اپنے حسنِ اخلاق، صبر، بردباری، اور حکمت سے ایک ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ آپﷺ نے مساوات، عدل، اور رحمت کا ایسا نظام متعارف کروایا جو نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ غلاموں کو آزادی کا درس دیا، عورت کو عزّت و مقام عطاء کیا، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق متعین کیے، اور دشمنوں کے لیے بھی رحمت و محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
آپﷺ کی سیرتِ طیبہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ ہر دور، ہر قوم، اور ہر زمانے کے لیے آپﷺ کی تعلیمات روشنی کا مینار ہیں۔ آپﷺ کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ایک فرد اپنے کردار، اخلاق اور حکمت سے دنیا کو بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کو رحمت اللعالمین کہا گیا۔ یہ شان صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے خود آپﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا اور فرشتے بھی مسلسل آپﷺ پر درود بھیجتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب: 56)۔ یقیناً آپﷺ کی شان ایسی ہی بلند ہے کہ کائنات کی تخلیق کا سبب بھی آپﷺ کی ذاتِ اقدس بنی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا، نہ صرف انسانوں بلکہ ہر مخلوق کے لیے رحمت۔ آپﷺ نے بچّوں کے ساتھ شفقت فرمائی، بوڑھوں کا احترام سکھایا، عورتوں کے حقوق بحال کیے، غلاموں کو آزادی کا درس دیا، اور جانوروں تک پر مہربانی کا حکم دیا۔
آپﷺ کا ذکر عرش سے فرش تک گونجتا ہے۔ زمین پر بسنے والے اہلِ ایمان آپﷺ پر درود بھیجتے ہیں اور آسمانوں میں فرشتے بھی آپﷺ کی شان میں نغمہ سرا ہیں۔ آپﷺ کی ولادت سے پہلے کائنات بے رنگ تھی، اور آپﷺ کی آمد سے نور پھیل گیا۔ آپﷺ کا ہر قول، ہر فعل اور ہر فیصلہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہے گا۔ یہ آپﷺ کی ہی ذات ہے کہ جن کے صدقے زمین و آسمان وجود میں آئے، جن کی آمد پر بہار آئی، اور جن کی تعلیمات نے دنیا کو عدل و انصاف، محبت و اخوت، اور امن و سکون کا گہوارہ بنایا۔ رسول اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس سراپا رحمت ہے۔ آپﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ چرند، پرند، درند، نباتات، حتیٰ کہ بے جان اشیاء کے لیے بھی آپ کی شفقت اور رحمت کے بے شمار واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ آپﷺ کی حیات طیبہ کا ہر لمحہ ہمیں عدل، محبت، حلم، صبر اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ، غلاموں کے ساتھ محبت، یتیموں کے لیے شفقت، خواتین کو ان کا مقام دینا اور مظلوموں کی حمایت کرنا یہ سب کچھ آپﷺ کی سیرت کا عملی نمونہ ہے۔
جب اہلِ طائف نے آپﷺ پر ظلم کیا، تو فرشتے حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ اگر آپ حکم دیں تو ان لوگوں کو نیست و نابود کر دیا جائے۔ لیکن آپﷺ نے فرمایا: "میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، عذاب دینے کے لیے نہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے جو توحید کو قبول کریں”۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آج اگر دنیا میں حقیقی امن اور سکون کی تلاش ہے تو ہمیں سیرت النبیﷺ کو اپنا کر زندگی گزارنی ہوگی۔ یہی وہ بے مثال رحمت ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا اور انسانیت کو حقیقی امن و انصاف کا پیغام دیا۔ نبی کریمﷺ کی بعثت کا مقصد صرف ایک قوم یا ایک نسل تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپﷺ کا کردار دشمنوں کے لیے بھی محبت اور درگزر کا نمونہ تھا۔ جب کفارِ مکّہ نے آپﷺ کو ہر ممکن اذیت دی، آپ کو جھٹلایا، گالیاں دیں، پتھر مارے، لیکن آپ نے ان کے لیے ہمیشہ ہدایت کی دعا کی۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جب آپﷺ کو طائف میں پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا گیا تو اس وقت بھی آپ نے ان کے لیے بددعا نہیں کی، بلکہ فرمایا: "اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ”۔ (اے اللّٰہ! میری قوم کو ہدایت دے، بے شک یہ لوگ نہیں جانتے)۔ یہی وہ رحمت کا جذبہ تھا جس نے سخت دلوں کو موم کر دیا اور وہی دشمن جو آپ کے خلاف تھے، آپ کے جاں نثار بن گئے۔ آج بھی اگر دنیا میں حقیقی سکون، محبت اور انصاف چاہیے، تو ہمیں نبی کریمﷺ کی سیرت کو اپنانا ہوگا۔ آپﷺ کا پیغام ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسانیت کو ظلم، ناانصافی اور نفرت سے نجات دلا سکتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو ایک مکمل اور حسین نظامِ زندگی کا حصّہ ہے۔ آپﷺ کی عبادات، معاملات، اخلاق، عادات، الفاظ، اور حتیٰ کہ سکوت بھی حکمت اور رحمت کا مظہر تھا۔ آپﷺ کی سیرت کو اگر کسی ایک پہلو تک محدود کر دیا جائے تو اس کی اصل روح کو نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ آپﷺ کی شخصیت کے تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے تسبیح کے دانے۔ اگر ایک بھی دانہ الگ ہو جائے تو خوبصورتی اور ترتیب بکھر جاتی ہے۔
آپﷺ کی محبت، شفقت، عفو و درگزر، عدل و انصاف، تواضع اور حلم سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ ایک طرف آپﷺ شب بھر عبادت میں مصروف رہتے ہیں، تو دوسری طرف دن کے وقت صحابۂ کرامؓ کے ساتھ گھل مل کر ان کی مشکلات سنتے ہیں، ان کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں اور ان کے دلوں کو سکون بھی پہنچاتے ہیں۔ آپﷺ نے ایک بہترین شوہر، شفیق باپ، سچے تاجر، امانت دار انسان، بہادر سپہ سالار، حکمت والے حاکم، اور سب سے بڑھ کر ایک کامل نبی کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی آپﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ ہر شعبے میں آپ کو ایک مثالی شخصیت کے طور پر پاتا ہے۔ آپﷺ کی سیرت کا ہر پہلو روشنی کا ایک مینار ہے، اور جو بھی اس روشنی کے قریب آتا ہے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔
نبی کریمﷺ کے احسانات کا شمار ممکن نہیں۔ آپﷺ نے ہمیں تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی دکھائی، ہمیں جینے کا سلیقہ سکھایا، اور ہر حال میں اللّٰہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا درس دیا۔ آپﷺ کی محبت اور شفقت اپنی اُمّت کے لیے اس قدر تھی کہ قیامت کے دن بھی آپﷺ "أُمَّتِي، أُمَّتِي” (میری اُمّت، میری اُمّت) کی صدا بلند کریں گے۔ آپﷺ کی سیرت کا ہر پہلو اُمّت کے لیے ایک نعمت ہے، چاہے وہ آپﷺ کی عادات ہوں، عبادات ہوں، یا آپﷺ کا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہو۔ آپﷺ کی تعلیمات نے ہمیں صبر، تحمل، محبت، عدل، اور انسانیت کی معراج سکھائی۔ اگر آج ہم دنیا میں بھلائی اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہی اصل سوال ہے جو ہر مسلمان کو خود سے پوچھنا چاہیے! کیا ہم واقعی نبی کریمﷺ کے سچے اُمّتی بننے کا حق ادا کر رہے ہیں؟
آپﷺ کی سیرت ہمیں ہر میدان میں بہترین نمونہ فراہم کرتی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: "سچائی نجات دیتی ہے اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے”۔ کیا ہم اپنے وعدے پورے کرتے ہیں؟ کیونکہ نبی کریمﷺ کو "الصادق” اور "الامین” کہا جاتا تھا۔ کیا ہم دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے”۔ کیا ہم والدین، پڑوسیوں اور کمزوروں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: "وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھا لے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے”۔ کیا ہم اپنی زندگی میں سادگی اور توکل کو اپنا رہے ہیں؟ کیونکہ نبی کریمﷺ دنیاوی جاہ و جلال کے بجائے سادگی اور قناعت کی مثال تھے۔
نبی کریمﷺ کی تعلیمات کو صرف زبانی عقیدت کے بجائے عملی طور پر اپنانا ہی ان سے سچی محبت اور شکر گزاری کا ثبوت ہے۔ اگر ہم خود کو سیرت النبیﷺ کے مطابق ڈھال لیں، تو دنیا میں ایک بار پھر وہی عدل، محبت، اخوت، اور رحمت کا ماحول قائم ہوسکتا ہے، جو نبی کریمﷺ نے مدینہ میں قائم فرمایا تھا۔ لہٰذا، ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو آپﷺ کی سنّت کے مطابق گزارنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، کیونکہ یہی ہمارے نبی کریمﷺ سے سچی محبت اور عقیدت کا ثبوت ہے۔ نبی کریمﷺ کی رحمت ہر ذی روح کے لیے عام تھی، اور خاص طور پر مومنین کے لیے آپﷺ سراپا شفقت و مہربانی تھے۔ قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو "بالمؤمنین رؤوف رحیم” (مومنین کے لیے بہت شفیق اور مہربان) فرمایا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپﷺ کی محبت اور فکر اپنی اُمّت کے لیے بے مثال تھی۔
آپﷺ کی سیرت میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو آپ کی شفقت اور رحمت کو واضح کرتے ہیں: جب ایک صحابی نے پوچھا: "یا رسول اللّٰہ! قیامت کب آئے گی؟” تو آپﷺ نے جواب دینے کے بجائے سوال کیا: "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟” اس پر صحابی نے عرض کیا: "زیادہ نیکیاں تو نہیں، مگر میں اللّٰہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں”۔ تو آپﷺ نے فرمایا: "تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو”۔ ایک اور موقع پر ایک بدو نے آکر عرض کیا: "یا رسول اللّٰہ! آپ بچّوں کو پیار کرتے ہیں؟ ہم تو ایسا نہیں کرتے۔” آپﷺ نے فرمایا: "اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں؟” یعنی رحمت اور محبت ہی انسانیت کی معراج ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: "میری مثال اس چراغ کی سی ہے جو اندھیرے میں روشنی دے، لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں، مگر کچھ پروانے خود کو اس میں جھونک کر ہلاک کر لیں”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ ہر ایک کو ہدایت دینا چاہتے تھے، مگر جو خود انکار کرے، اس پر آپﷺ کو بے حد افسوس ہوتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ آج جدید سائنس، فلسفہ، اور تحقیق بھی اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات ہی اصل انسانیت کی بنیاد ہیں۔ اگر دنیا حقیقی امن، سکون، اور ترقی چاہتی ہے، تو اسے نبی کریمﷺ کی سیرت کو اپنانا ہوگا۔ نبی کریمﷺ کی اپنے اُمّتیوں سے محبت بے مثال تھی، بلکہ والدین سے بھی زیادہ۔ آپﷺ کی ذات سراپا شفقت و رحمت تھی، اور آپ ہمیشہ اپنی اُمّت کی بھلائی اور ہدایت کے لیے فکرمند رہتے تھے۔ آپﷺ کی سیرت میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جو اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، ایک دن نبی کریمﷺ نے مجھے افسردہ دیکھ کر فرمایا: "جابر! تمہیں کیا ہوا؟” میں نے عرض کیا: "یا رسول اللّٰہ! میرے والد شہید ہو گئے اور میرے ذمے قرض بھی ہے”۔ آپﷺ نے شفقت فرمائی، میری دلجوئی کی، اور میرے قرض کی ادائیگی کے لیے دعا فرمائی۔ کچھ دن بعد معجزانہ طور پر قرض ادا ہو گیا۔
آپﷺ کا راتوں کو اُمّت کے لیے دعائیں مانگنا، حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ تہجد میں بہت دیر تک سجدے میں رہے اور بار بار یہی دعا کرتے رہے: "یا اللّٰہ! میری اُمّت کو بخش دے، یا اللّٰہ! میری اُمّت پر رحم فرما، یا اللّٰہ! میری اُمّت کی مغفرت فرما”۔ قیامت کے دن بھی آپﷺ کی فکر اپنی اُمّت کے لیے ہوگی، تمام انبیاء علیہم السلام اس دن اپنی نجات کی فکر کریں گے، مگر نبی کریمﷺ فرمائیں گے: "أُمَّتِي، أُمَّتِي” (میری اُمّت، میری اُمّت!)۔ اور اللّٰہ تعالیٰ آپﷺ کو شفاعتِ کبریٰ کا مقام عطا فرمائیں گے تاکہ آپﷺ گناہگاروں کی مغفرت کی سفارش کریں۔ یہ تمام باتیں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کی محبت اور شفقت اپنی اُمّت کے لیے غیر معمولی تھی۔ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اس محبت کا حق ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نبی کریمﷺ کی سنتوں پر عمل کر رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی آپﷺ سے محبت کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے اعمال کو بھی آپﷺ کی سیرت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ یہی ہمارے نبیﷺ کی سچی محبت کا تقاضا ہے۔
یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بنیاد ہیں۔ آپﷺ کی دعوت صرف عبادات تک محدود نہ تھی، بلکہ اخلاقی اور سماجی بھلائی کا مکمل نظام پیش کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حتیٰ کہ دشمن بھی آپﷺ کی سچائی اور اخلاق کے معترف تھے۔ اُمّت پر نبی کریمﷺ کی محبت کا حق: اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ”۔ (تاکہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، ان کی مدد کرو اور ان کی عزّت و توقیر کرو۔) (الفتح: 9)۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی محبت محض زبانی دعوے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عملی طور پر اس کا ثبوت دینا ضروری ہے۔
نبی کریمﷺ سے محبت کا عملی ثبوت کیا ہے؟
آپﷺ کی سنّت پر عمل کرنا: آپﷺ نے فرمایا "جس نے میری سنّت کو زندہ کیا، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جو مجھ سے محبت کرے گا، وہ جنّت میں میرے ساتھ ہوگا” (ترمذی)۔
اخلاق میں بہتری لانا: ابو سفیان کے قول سے بھی واضح ہے کہ نبی کریمﷺ سچائی، عفت، پاکیزگی اور صلہ رحمی کی تعلیم دیتے تھے۔ کیا ہم ان خوبیوں کو اپنی زندگی میں اپنا رہے ہیں؟
والدین کے ساتھ حسن سلوک: آپﷺ نے والدین کی عزّت و احترام کو جنّت کا دروازہ قرار دیا۔ کیا ہم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟
صلہ رحمی اور حقوق العباد کا خیال رکھنا: نبی کریمﷺ کی تعلیمات کا اہم حصّہ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ہے۔
ہرقل کے دربار میں نبی کریمﷺ کی سچائی کا اعتراف: یہ واقعہ نبی کریمﷺ کی عظمت اور سیرت کی سچائی کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ دشمن بھی آپﷺ کے کردار کو جھٹلا نہ سکے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنی زندگی میں نبی کریمﷺ کے اخلاق اور تعلیمات کو اپنائیں تو دنیا خود ہماری سچائی کی گواہی دے گی۔
لہٰذا، ہمیں اپنے نبی کریمﷺ سے محبت کا حق ادا کرنا ہوگا، ان کی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا اور ان کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ یہی ہماری کامیابی کا راز ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے قریب کر سکتا ہے۔ یہ حدیث نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ کے پیغام کی جامعیت کو واضح کرتی ہے۔ جب آپﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، تو سب سے پہلے ان اصولوں پر زور دیا جو ایک مثالی معاشرے کی تعمیر میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
زندگی بیت گئی اور قلم ٹوٹ گئے
تیرے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا
نبی کریمﷺ کی تعلیمات اور ان کا عملی نفاذ:
سلام کو عام کرنا: سلام محبت، امن اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تم جنّت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوگا جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سے تمہیں محبت ہو جائے؟ آپس میں سلام کو عام کرو” (مسلم)۔
بھوکوں کو کھانا کھلانا: غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد اسلام کا بنیادی درس ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًۭا وَيَتِيمًۭا وَأَسِيرًا”۔ (اور وہ اللّٰہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔) (الدھر: 8)
صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک): نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا رزق کشادہ ہو اور اس کی عمر دراز ہو، تو وہ صلہ رحمی کرے” (بخاری و مسلم)۔ رشتہ داروں سے تعلق جوڑنے اور ان کی مدد کرنے کو اللّٰہ تعالیٰ نے تقویٰ کی علامت قرار دیا ہے۔
رات کو نماز پڑھنا (تہجد): رات کی عبادت بندے کو اللّٰہ کے قریب کرتی ہے اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِۦ نَافِلَةًۭ لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًۭا مَّحْمُودًۭا”۔ (اور رات کے کچھ حصّے میں تہجد پڑھا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، امید ہے کہ تمہارا ربّ تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا۔) (بنی اسرائیل: 79)
یہ چار اعمال (سلام عام کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، صلہ رحمی کرنا اور رات کو نماز پڑھنا) نبی کریمﷺ کی سیرت کا خلاصہ ہیں۔ ان پر عمل کر کے ایک مسلمان نہ صرف دنیا میں مثالی انسان بن سکتا ہے بلکہ آخرت میں جنّت کا حقدار بھی بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کریں تاکہ حقیقی کامیابی حاصل کر سکیں۔ یہ حدیث نبی اکرمﷺ سے محبت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور ایمان کی تکمیل کا ایک لازمی معیار بیان کرتی ہے۔
نبی کریمﷺ سے محبت کیوں ضروری ہے؟
ایمان کی تکمیل: رسول اللّٰہﷺ کی محبت محض جذباتی لگاؤ نہیں بلکہ ایک ایسا لازمی عنصر ہے جو ایمان کے کمال کے لیے ضروری ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔ (کہہ دیجیے کہ اگر تم اللّٰہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللّٰہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔) (آل عمران: 31)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ کی محبت کا راستہ بھی نبی کریمﷺ سے محبت اور ان کی پیروی سے ہو کر گزرتا ہے۔
رسول اللّٰہﷺ کی حیثیت: نبی اکرمﷺ صرف ایک عام رہنما نہیں، بلکہ اللّٰہ کے برگزیدہ رسول، ہمارے ہادی، شفیع اور قیامت کے دن سفارش کرنے والے ہیں۔ آپﷺ کی محبت درحقیقت اللّٰہ کی محبت کا ایک عملی ثبوت ہے۔
صحابۂ کرامؓ کی مثالیں: حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا: "اے اللّٰہ کے رسول! آپ مجھے اپنی جان کے علاؤہ سب سے زیادہ محبوب ہیں”۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "نہیں، اے عمر! جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”۔ حضرت عمر نے فوراً کہا: "اللّٰہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں”۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "اب (تمہارا ایمان مکمل ہوا)” (بخاری)۔
نبی کریمﷺ سے محبت کا عملی اظہار:
سنّت کی پیروی: نبی کریمﷺ کی زندگی کو اپنانا ہی محبت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
درود و سلام پڑھنا: کثرت سے درود بھیجنا محبت کی علامت ہے۔
آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا: صدقہ، صلہ رحمی، عدل، نرمی، حسن اخلاق اپنانا۔
آپﷺ کی سیرت کا مطالعہ: آپ کی حیاتِ طیبہ کو جاننا اور اس سے سیکھنا۔
نبی کریمﷺ سے محبت کوئی رسمی یا زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ ایمان کی تکمیل کا تقاضا ہے۔ حقیقی محبت وہی ہے جو ہمیں آپﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دے، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ نبی اکرمﷺ کی محبت ایمان کا جزوِ لازم ہے، لیکن اس محبت کا حقیقی مظاہرہ صرف جذباتی نعروں یا محض دعوؤں سے نہیں، بلکہ آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کرکے ہوتا ہے۔
حقیقی عشقِ رسولﷺ کا مظاہرہ کیسے کریں؟
سنّت پر عمل کریں: نبی کریمﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں اور ان کے طریقے اپنائیں۔ معاملات، عبادات، اخلاق اور معاشرت میں ان کی سنّت کو زندہ کریں۔
اخلاقِ نبویﷺ اپنائیں: نبی کریمﷺ رحمت اللعالمین تھے، ہمیں بھی صبر، حلم، برداشت، عفو و درگزر کو اپنانا ہوگا۔ کسی بھی گستاخی کا جواب اشتعال سے نہیں، بلکہ علمی، اخلاقی اور قانونی طریقے سے دیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ ہم واقعی نبی کریمﷺ کے اُمّتی ہیں۔
دعوت و تبلیغ کریں: غیر مسلموں کو نبی کریمﷺ کے اخلاق، ان کی تعلیمات، اور ان کے لائے ہوئے دین کی خوبصورتی بتائیں۔ محبت اور حکمت کے ساتھ دین کی دعوت عام کریں۔
اُمّت کے اتحاد کے لیے کام کریں: نبی کریمﷺ نے اُمّت کو جوڑنے کا درس دیا، ہمیں فرقہ واریت اور انتشار سے بچنا ہوگا۔ مسلم معاشروں کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے تعلیم، عدل، اور باہمی محبت کو فروغ دینا ہوگا۔
نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی پر ردّعمل
جذباتی ردّعمل دینے کی بجائے حکمت عملی اپنائیں۔ نبی کریمﷺ کی سیرت اور اخلاق دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ اسلام کی اصل تعلیمات واضح ہوں۔ عالمی سطح پر قانونی و سفارتی سطح پر آواز بلند کریں۔ محض نعروں اور جذبات سے نہیں، بلکہ اپنے عمل، اخلاق، سنّت پر عمل اور دعوت کے ذریعے دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہم نبی کریمﷺ کے سچے اُمّتی ہیں۔ حقیقی عشقِ رسولﷺ وہی ہے جو ہمیں دین کی خدمت اور نبی کریمﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرے۔
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com
ReplyForward |




