عالمی

عالمی گولڈ رش – غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ سے اربوں ڈالر کی معیشت قائم

افریقہ سے ایمیزون تک جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں، سونے کی بڑھتی قیمت نے خطرات میں اضافہ کیا

دنیا بھر میں غیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسمگلنگ کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے ایک متوازی بلیک مارکیٹ وجود میں آ چکی ہے۔ برطانوی اخبار *فنانشل ٹائمز* کی العربیہ بزنس کے حوالے سے شائع رپورٹ کے مطابق اس صنعت کی سالانہ مالیت دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے کئی قصبوں میں بڑے گروہ مسلح ہو کر لاوارث کانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور کئی دنوں تک دھاوا بول کر بھاری مقدار میں سونا لوٹ لیتے ہیں۔ ایک مقامی دکاندار کے مطابق "یہ لوگ باہر سے آتے ہیں، گاڑیاں ہتھیاروں اور آلات سے بھری ہوتیں، چند دن قیام کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔”

ماہرین کے مطابق، یہ 21ویں صدی کے نئے "گولڈ رش” کا تاریک پہلو ہے، جہاں سب صحارا افریقہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا اور ایمیزون تک، منظم جرائم پیشہ گروہ غیر قانونی کان کنی کے ذریعے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں سیکیورٹی کنسلٹنٹ لوئس نیل کے مطابق "زیرِ زمین چھوٹی چھوٹی جنگیں ہو رہی ہیں، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد تک استعمال کیا جا رہا ہے۔”

اعداد و شمار کے مطابق صرف 2022 میں افریقہ سے 435 ٹن سے زائد سونا غیر قانونی طور پر باہر اسمگل کیا گیا، جس کی مالیت 31 ارب ڈالر تھی۔ پیرو، جو جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے، وہاں گزشتہ برس برآمد ہونے والے سونے کا 40 فیصد غیر قانونی قرار دیا گیا۔

سونے کی بڑھتی قیمت نے اس بلیک مارکیٹ کو مزید فروغ دیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں سونے کی قیمت تین گنا بڑھ چکی ہے، اور صرف رواں سال کے آغاز سے اب تک اس میں ایک چوتھائی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ منشیات کے بعد سونے کی اسمگلنگ کو سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار سمجھا جا رہا ہے۔

ایمیزون ریجن میں جہاں کبھی کوکین کی لیبز سرگرم تھیں، اب غیر قانونی سونے کی کان کنی کا دائرہ پھیل چکا ہے۔ برازیل کا جنگلاتی علاقہ "گارمبو” نامی غیر رسمی کان کنی کا مرکز بن چکا ہے، جو کئی دہائیوں سے مقامی معیشت کو سہارا دیتا آیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سونے کی کان کنی صرف معیشت اور ماحولیاتی نظام ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ سب سے المناک صورتحال سوڈان میں سامنے آئی ہے، جہاں سونے سے حاصل شدہ منافع جاری خانہ جنگی کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ اس جنگ میں اب تک کم از کم ڈیڑھ لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!