جماعت اسلامی ہند کی جانب سے نوجوانوں کے لیے "سیرت النبی ﷺ 2025” کا عظیم الشان انعامی مقابلہ کا انعقاد

24 اگست جماعت اسلامی ہندناندیڑ نے طلبہ و نوجوان نسل کے دلوں میں سیرت طیبہ کی شمع روشن کرنے کے لیے ایک عظیم الشان انعامی مقابلے "سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 2025” کا انعقاد کیا ہے۔ اس مقابلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے لازوال نمونوں کو صرف چند مخصوص ایام تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں زندگی کے ہر لمحے کا مشعل راہ بنایا جائے، تاکہ نوجوان اس سے مستفید ہو کر اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں۔یہ تحریری مقابلہ 24 اگست 2025 بروز اتوار کو نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس مقابلے میں تیرا سو سے زائد طلباو طالبات نے شرکت کی۔ نئے شہر میں ،یوسفیہ ہائی اسکول،نو نہال پرائمری اسکول، اسی طرح قدیم شہر میں اصلاح العمل ہائی اسکول جونیئر کالج ،اصلاح العمل پرائمری اسکول، عمر فاروق ہائی اسکول، اقرا ہائی اسکول اور الحمد اکیڈمی حیدر باغ کو امتحانی مراکز بنایا گیاتاکہ شہر کے تمام ہی علاقوں کے طلبہ اپنی اپنی سہولت کے مطابق نزدیک کے اسکول میں پہنچ کر امتحان میں شریک ہوں ۔یہ امتحان ایم سی کیو سوالات و مختصر جوابات پر منحصر تھا۔ امتحانات میں ممتحن کے طورپر کیڈر جماعت اسلامی ہند ناندیڑ و مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ۔
ذمداران و ارکان شوری جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کنوینیر سیرت النبی سلم انعامی مقابلہ امیر حمزہ نے شہر کے تمام مراکز کا دورہ کرکے امتحان کی کارکردگی کا جائزہ لیا واضح رہے کہ اس تحریری مقابلے کی شرکت کے لیے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 12 اگست مقرر کی گئی تھی۔ مقابلے کو طلباء و طالبات کی سہولت کے پیش نظر دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے: پہلا گروپ جماعت پنجم تا ہفتم و دوسرا گروپ ہشتم تا دہم؛ پہلے گروپ کے لیے کتاب "ہمارے حضور ﷺ” اور دوسرے گروپ کے لیے "ہادی اعظم” شامل ہیں۔کامیاب امیدواروں کو نقد انعامات ٹرافی و سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا، اور خاص بات یہ ہے کہ طلباء اور طالبات کے انعامات الگ الگ ہوں گے۔ تقسیم انعامات کی پروقار تقریب انشاءاللہ 12 ربیع الاول، بروز جمعہ، یعنی 5 ستمبر 2025 کو منعقد کی جائے گی، جو میلاد النبی ﷺ کے مقدس موقع سے منسلک ہوگی۔ شہر ناندیڑ کے تمام طلباء و طالبات نے اس مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، وہ سیرت نبوی ﷺ کی روشنی سے اپنی زندگیوں کو منور کر سکیں۔ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی تربیت کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔




