Uncategorized

   فلسطین اُمّت کا ایمان، غیرت اور وحدت کا امتحان

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                     09422724040
دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو صرف جغرافیہ یا تاریخ کا حصّہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ پوری انسانیت کے ضمیر، عقیدے اور تقدیر کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور مقدّس وہ سر زمین ہے جسے فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں آسمان و زمین کی سرحدیں ملتی ہیں، جہاں انبیاء علیہم السلام کی یادگاریں بستہ ہیں، جہاں محرابِ اقصیٰ سے معراجِ مصطفیٰﷺ کا سفر شروع ہوتا ہے، اور جہاں ہر ذرے میں ایمان کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ فلسطین انبیاء علیہم السلام کی سر زمین ہے؛ یہاں حضرت ابراہیمؑ نے توحید کا پرچم بلند کیا، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے عدل و حکمت کی حکومتیں قائم کیں، اور حضرت عیسیٰؑ نے انسانیت کو محبت و شفقت کا درس دیا۔ رسول اکرمﷺ کا سفرِ معراج بھی بیت المقدّس سے شروع ہوا، جو اس سر زمین کو پوری اُمّت کے ایمان سے جوڑ دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں مسجدِ اقصیٰ کو "الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ” (جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنایا) کہا گیا ہے (سورۃ الاسراء، آیت 1)۔ رسولِ اکرمﷺ نے بھی اس کے مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "لا تُشَدُّ الرِّحالُ إلا إلى ثلاثةِ مساجدَ: المسجدِ الحرامِ، ومسجدي هذا، والمسجدِ الأقصى”۔ (سفر صرف تین مساجد کے لیے کیا جا سکتا ہے: مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ)۔ مگر افسوس! یہی مقدّس سر زمین آج آگ و خون میں نہائی ہوئی ہے۔ وہ مصلّے، جہاں سجدوں کی روشنی برسنی تھی، شہیدوں کے خون سے تر ہیں؛ وہ فضائیں، جہاں تلاوتِ قرآن کی صدائیں گونجنی تھیں، بارود کے دھوئیں میں ڈھک گئی ہیں؛ وہ گلیاں، جہاں بچّوں کی معصوم مسکراہٹیں بکھرنی تھیں، اب ان کے بین اور سسکیاں سنائی دیتی ہیں؛ اور وہ مائیں، جنہیں دعاؤں کے گلدستے سجانے تھے، اپنے آنسوؤں سے زمین کو سیراب کر رہی ہیں۔
فلسطین اب محض ایک سیاسی تنازع یا جغرافیائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پوری اُمّتِ مسلمہ کے ایمان، غیرت اور وحدت کا امتحان بن چکا ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں معصوم بچّوں اور بے قصور عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، اسپتالوں اور عبادت گاہوں پر اندھی بمباری، اور ان سب کے مقابلے میں عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی، اس حقیقت کو بے نقاب کر دیتی ہے کہ یہ سانحہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ساتھ میڈیا کی جانبداری اور عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار بھی اس المیے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جو اُمّت کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک قوم یا ایک خطے کا نہیں، بلکہ پوری اُمّت کے اتحاد و بیداری کا تقاضا ہے۔
یہ ظلم صرف چند فوجی طاقتوں کی بربریت نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی کمزوری اور نااتفاقی کا شاخسانہ ہے۔ صدیوں سے دشمنانِ اسلام یہ جان چکے ہیں کہ مسلمانوں کو شکست دینا اُن کے وسائل یا تعداد سے نہیں، بلکہ ان کی وحدت کو توڑ کر، ان کے دلوں میں بے حسی اور غفلت کے بیج بو کر ہی ممکن ہے۔ اور آج فلسطین اسی حقیقت کا زندہ مظہر ہے۔ یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ جسے کبھی "خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ” (لوگوں کے لیے بہترین اُمّت) کہا گیا، وہ کیوں آج اپنی تاریخ اور عقیدے کی سب سے بڑی آزمائش کے سامنے کمزور اور خاموش دکھائی دیتی ہے؟ کیا وہ اُمّت جس نے اندھیروں میں علم و عدل کے چراغ جلائے، جو کبھی مظلوموں کی پناہ گاہ تھی، آج خود اپنی پہچان سے غافل ہو چکی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب نہ صرف فلسطین کی آزادی سے جڑے ہیں بلکہ اُمّت کے وجود، وقار اور مستقبل سے وابستہ ہیں۔ یہی پس منظر ہے جس میں فلسطین کی زمین پر بھڑکتی ہوئی آگ کو سمجھنا چاہیے یہ آگ صرف ایک قوم کے گھروں کو نہیں جلا رہی بلکہ یہ پوری اُمّت کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے والی صدا ہے۔ آج فلسطین کی دھرتی پر دہکتی ہوئی آگ صرف پتھروں اور دیواروں کو خاکستر نہیں کر رہی، بلکہ یہ پوری اُمّتِ مسلمہ کے دلوں میں جلتی ہوئی غیرت، عزّت اور ایمان کو جھنجھوڑنے والا المیہ ہے۔ یہ آگ محض ایک قوم کے خون اور پسینے کی قیمت نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی، غفلت اور نااتفاقی کا آئینہ ہے۔ وہ اُمّت جو کبھی ایک جسم کی مانند تھی، جس کے کسی ایک حصّے میں زخم لگنے پر پورا بدن تڑپ اٹھتا تھا، آج اسی اُمّت کے جسم پر گہری تلواریں چل رہی ہیں اور باقی اعضا سرد اور خاموش پڑے ہیں۔
یہ آگ دراصل ہماری تاریخ کی عظیم وراثت کو جلا رہی ہے؛ وہ تاریخ جو بدر و اُحد کی عظمتوں سے روشن تھی، وہ تہذیب جس نے اندھیروں میں علم کے چراغ جلائے، اور وہ عقیدہ جس نے انسانیت کو عدل، مساوات اور امن کا پیغام دیا۔ لیکن آج اس وراثت کا وارث اپنی ہی غفلت سے خالی ہاتھ کھڑا ہے۔ مسجد اقصیٰ، جو کبھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھی، آج فریاد کر رہی ہے۔ اس کے محرابوں سے اٹھنے والی اذان گویا چیخ بن چکی ہے کہ: "اے اُمّتِ محمدیؐ! کیا تیرے کانوں پر بوجھ پڑ گیا ہے؟ کیا شہید بچّوں کے خون کی سرخی بھی تجھے جگا نہیں سکی؟ کیا ماؤں کی سسکیاں تیرے دل کو نرم نہیں کر سکیں؟”
ظلم کے یہ شعلے صرف فلسطین کے در و دیوار کو نہیں چاٹ رہے، بلکہ یہ پوری دنیا کے ضمیر کو للکار رہے ہیں۔ اگر آج اُمّتِ مسلمہ نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا، اگر اس نے محض رسمی بیانات، وقتی احتجاج اور نمائشی اجلاس پر اکتفا کیا، تو کل یہی شعلے ایک طوفان کی صورت میں ان کے شہروں، ان کی بستیوں اور ان کے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے ظلم کو صرف دوسروں کا مسئلہ سمجھا اور اپنے آپ کو محفوظ جانا، تو وہ آگ بالآخر انہی کے دروازوں تک پہنچی۔
یہ صدا محض فلسطین کے شہداء کی نہیں، یہ صدا پوری اُمّت کے دلوں سے اٹھنی چاہیے۔ کیونکہ یہ اُمّت کے لیے امتحان کا وقت ہے۔ کیا ہم اس صدا کو سن کر جاگیں گے؟ یا پھر خوابِ غفلت میں ڈوبے رہیں گے حتیٰ کہ آگ ہمارے اپنے آشیانوں تک آ پہنچے؟ یہ مسئلہ صرف ایک جغرافیائی خطے کا نہیں بلکہ اُمّت کی روحانی بقاء کا ہے۔ یہ ایمان، عقیدہ اور وحدت کا سوال ہے۔ آج اگر اُمّت نے اپنی سستی کی زنجیریں توڑ دیں، اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا اور قرآن و سنّت کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا، تو یہی اُمّت پھر سے دنیا کے نقشے پر وہی کردار ادا کرے گی جو کبھی عدلِ فاروقی، حلمِ عثمانی، شجاعتِ علوی اور فتوحاتِ صلاح الدینی کی صورت میں چمکتا رہا۔
لیکن اگر ہم نے وقت کی صدا کو نہ سنا، اگر ہم نے اپنی اصل پہچان کو نہ پہچانا، تو آنے والا کل ہمارے لیے اور بھی ہولناک ہوگا۔ اس وقت نہ تاریخ باقی رہے گی، نہ تہذیب، نہ عزّت، نہ ایمان۔ پھر ہماری حالت وہی ہوگی جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے: "وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ”
(اللّٰہ کو بھولنے والوں کی طرح مت ہو جاؤ، ورنہ اللّٰہ تمہیں تمہاری اپنی حقیقت بھلا دے گا)۔ اب بھی وقت ہے کہ اُمّت اپنے زخموں پر مرہم رکھے، اپنے ٹوٹے ہوئے حصّوں کو جوڑے، اپنی غیرت اور ایمان کو بیدار کرے، اور وحدت کے پرچم تلے ظلم کی اس آگ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا تو کل ہمارے پاس نہ عذر باقی رہے گا، نہ موقع۔
فلسطین کی سر زمین پر بہنے والا ہر قطرۂ خون اُمّتِ مسلمہ کے دل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ شہید ہونے والا ہر معصوم بچّہ اور اجڑنے والا ہر گھر ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ وقت کی صدا کو پہچانو، اپنے مقام کو یاد کرو اور اپنے عہد کو تازہ کرو۔ یہ آزمائش کسی اور کی نہیں، یہ ہماری اپنی غیرت و ایمان کا امتحان ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم تاریخ کے ان اوراق پر کس حیثیت میں درج ہونا چاہتے ہیں: کیا ہم اُن بزدل تماشائیوں کی طرح ہوں گے جو ظلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے برپا دیکھتے رہے مگر خاموشی کے خول میں دبک گئے؟ یا ہم اُن زندہ اور بیدار افراد کی صف میں شامل ہوں گے جنہوں نے اپنے حصّے کا چراغ جلایا، چاہے اندھیرا کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو؟
اُمّت کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل طاقت کو پہچانے۔ یہ طاقت نہ صرف وسائل یا تعداد میں ہے بلکہ ایمان، اخوت اور وحدت میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں قرآن کی اس ابدی حقیقت کو یاد رکھنا ہوگا کہ: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”۔ (اللّٰہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ فلسطین کی آزادی کا خواب صرف فلسطینیوں کی جدوجہد پر موقوف نہیں بلکہ پوری اُمّت کی بیداری پر منحصر ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے کردار کا حق ادا نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ پوچھیں گی کہ جب اقصیٰ فریاد کر رہا تھا، جب بچّے لہو میں نہا رہے تھے، جب مظلوموں کے جنازے اٹھ رہے تھے، اُس وقت تم کہاں تھے؟ فلسطین صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ جو خاموش رہتا ہے وہ ظالم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان نہ صرف اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے کھڑے ہیں بلکہ وہ انصاف اور امن کے عالمی علمبردار بھی ہیں۔
صرف احتجاج یا جذباتی بیانات کافی نہیں۔ اُمّتِ مسلمہ کو اب سفارتی، تعلیمی، میڈیا اور فلاحی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ فلسطینی عوام کے ساتھ تعاون صرف وقتی امداد یا نعرے بازی سے نہیں، بلکہ ایک مستقل حکمتِ عملی اور عالمی سطح پر بیداری کی تحریک سے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو فلسطین کی تاریخ پڑھانی اور اس جدوجہد کا شعور دینا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلیں اپنی ذمّہ داری سے غافل نہ رہیں۔ یہ وقت محض آنسو بہانے یا غم کے اظہار کا نہیں، بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ ہمیں اپنے منبروں سے لے کر اپنے تعلیمی اداروں تک، اپنے اجتماعات سے لے کر اپنی روزمرّہ زندگی تک، ہر میدان کو فلسطین کے پیغام سے جوڑنا ہوگا۔ ہر قلم، ہر آواز، ہر دل اور ہر ہاتھ اس جدوجہد کا حصّہ بنے، کیونکہ آج کی خاموشی کل کی غلامی کی بنیاد ڈالے گی۔
لہٰذا اے اُمّتِ محمدیﷺ! اب بھی وقت ہے، ابھی بھی موقع ہے۔ اپنے زخموں کو پہچانو، اپنے خوابوں کو زندہ کرو اور اپنی وحدت کی طاقت کو بیدار کرو۔ ظلم کی اس آگ کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن جاؤ تاکہ تاریخ گواہی دے کہ جب مسجدِ اقصیٰ نے پکارا، جب فلسطین اور غزہ نے آواز دی، تو اُمّت نے لبیک کہا۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو یقیناً آنے والا کل ہمارا ہوگا اور فلسطین ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے آج یہ موقع کھو دیا تو نہ صرف فلسطین، بلکہ ہم سب اپنی غیرت، اپنی عزّت اور اپنے ایمان کو کھو بیٹھیں گے۔
ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جب اُمّت نے وحدت اور ایمان کا سہارا لیا تو اس نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔ اندلس کی تہذیب نے یورپ کو علم و ہنر کا چراغ دیا، خلافتِ عثمانیہ نے صدیوں تک عدل و امن کی ضمانت فراہم کی، اور صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدّس کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرایا۔ یہ سب مثالیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اتحاد اور ایمان کی طاقت کے سامنے کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی۔ آج بھی اگر اُمّت اسی جذبے اور یکجہتی کو زندہ کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روکنے پر قادر نہیں ہوگی۔ قرآن کا وعدہ ہمیں تسلی دیتا ہے: "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” (بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے)۔ یہی یقین ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم جتنا بھی شدید ہو، زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ جس طرح بدر کی وادی سے نصرتِ الٰہی کی کرنیں پھوٹی تھیں، اسی طرح ایک دن فلسطین کی پاک سر زمین سے بھی آزادی اور امن کا سورج طلوع ہوگا۔ اور وہ دن دور نہیں ان شاء اللّٰہ!
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!