اردو زبان میں مہارت عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے۔۔۔پروفیسر شیخ محبوب

لاتور(محمد مسلم کبیر)عصر حاضر میں اردوزبان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دم پر قائم ہے۔ اس میں کرئیر کے مواقع بھی بہت ہیں۔صرف ٹیچنگ ہی ایک روزگار کا ذریعہ نہیں ہےبلکہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا، سوشل میڈیااور فلم انڈسٹری سے جڑ کر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔شرط یہ ہے کہ طلبہ و طالبات اس میں مہارت حاصل کریں۔

ان خیالات کا اظہارمہمان اعزازی پروفیسر شیخ محبوب بزم اردو ادب مہاراشٹر اودےگری کالج اودگیر کے افتتاحیہ جلسے سے مخاطب تھے۔جبکہ دوسرے مہمان خصوصی جاگیردار محمود علی نے یہ بتایا کہ مہاراشٹر اودےگری کالج اور شعبہ اردو میں آمد سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچنے کا احساس ہوتا ہے۔شعبہ ہذا میں باقاعدہ ایم۔اے اردو اور پی ایچ۔ڈی کے 16 اسکالرس کی ڈگریوں کا حصول باعث فخر مراٹھواڑہ ہے۔
دیواری رسالہ "فکر نو” کی رسم رونمائی مہمانان’ پرنسپال اور وائس پرنسپال ڈاکٹر ایس۔این۔ہلاڑے کے ہاتھوں انجام پائی اور مہمانان نے اس کے مدیران عطار افشاں غزل، شیخ بریرہ اور سیدہ ثانیہ کو مبارکباد پیش کی۔ صدر جلسہ ڈاکٹر آر۔کے۔مسکے پرنسپال نے اردو زبان کی دلکشی اور شیرینی کا اعتراف کیا اور کہا کہ شعبہ اردو کالج کا ایک فعال اور قابل فخر شعبہ ہے جہاں آئے دن ہونے والی سرگرمیاں دوسرے شعبہ جات کے لئےباعث تقلید ہیں۔
جلسے کا آغاز ہاشمی سید زبیر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔سیدہ صافیہ نے استقبالیہ گیت بہ ترنم پیش کیا۔بعد ازاں سیدہ صدف اور شیخ نصرت نے مہمانان کا تعارف پیش کیا۔پٹھان نازیہ،تنبولی رضیہ اور شیخ جواد اور شعبہ کی جز وقتی پروفیسر آفرین فاطمہ نے اردو کی صورتحال اور شعبہ اردو کی سرگرمیوں پر اظہار خیال کیا۔ صدرشعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر حامد اشرف نے خیرمقدمی تقریر کی اور اردو زبان کی لطافت اور اہمیت کو اجاگر کیا نیزشعبہ سے وابستہ طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو سراہا۔نظامت پٹھان ارشاد وسیم اور پٹھان آسیہ وسیم نے بحسن و خوبی انجام دی۔پٹھان شافعہ نے شکریے کے فرائض انجام دیئے۔




