مہنگا گوشت ناقابلِ قبول، قیوم پلاٹ بنا عوامی آواز کا مرکز

قریشی برادری کی جانب سے ہڑتال ختم کر کے دوبارہ گوشت کی دکانیں کھولی جا چکی ہیں، لیکن قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نے عوامی حلقوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق اب گوشت فی کلو 300 روپے سے زیادہ دام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
صاحب حیثیت افراد کے لیے تو یہ قیمتیں قابل برداشت ہو سکتی ہیں، مگر غریب، مزدور پیشہ اور متوسط طبقے کے لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہی حالات کے پیشِ نظر عوام کی آواز بلند کرنے کے لیے قیوم پلاٹ پر عوامی اپیل کا مرکز بن گیا ہے جہاں روزانہ درجنوں لوگ اپنے مسائل اور خدشات بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہڈی والا گوشت 200 روپے اور بغیر ہڈی کا گوشت 250 روپے فی کلو مقرر کیا جائے۔
عوامی نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس قیمت پر گوشت فروخت نہیں کیا گیا تو عوام الناس کو چاہیے کہ وہ اپنے محلوں میں لگنے والی قصابوں کی دکانوں سے کسی بھی حال میں مہنگے دام پر گوشت نہ خریدیں۔ یہ عوامی بائیکاٹ %100 فیصد ہو تاکہ قصابوں پر دباؤ بنایا جا سکے۔
قیوم پلاٹ کی عوام نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گوشت بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت عوام کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ "جب تک دام کم نہیں کیے جاتے، ہم سب بائیکاٹ جاری رکھیں گے”۔




