مضامین

اباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں

(یوم اساتذہ کے موقع پر ایک خصوصی مضمون)
اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنی امد کے اول دن سے علم پر زور دیا ہے۔غور طلب بات ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس میں فرمایا گیا کہ اپنے رب کے نام سے پڑھیے جو تمام کائنات کا خالق ہے۔یعنی سب سے پہلے پیغمبر اسلام کے ذریعے انسان کو جس بات کی دعوت دی گئی وہ تعلیم ہے کیونکہ علم ایک ایسا سرچشمہ ہے جس سے تمام بھلائیاں پھولتی ہیں اور تمام مفاسد کا مداوا ہوتا ہے ۔اسی لیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم روشنی ہے اور جہاں حصول علم کا سوال پیدا ہوتا ہے وہیں ایک معلم کا خیال ضرور پیدا ہوتا ہے۔وہ معلم جسے خدائے لازوال نے اپنے فضل و کرم سے درس و تدریس جیسے مقدس ترین پیشے سے وابستہ کیا اور قوموں کو تراش کر ان میں چمک پیدا کرنے ، انہیں جاذب نظر اور قیمتی ہیرے بنانے کی ذمہ داری سونپ دی شاید یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کو قوم کا معمار کہا گیا ہے۔
قوموں کی تعمیر اساتذہ کے ہاتھوں ہی ہوتی ہے۔جس طرح ایک سنگ تراش پتھر کو تراش کر ایک قابل ستائش اور نہایت خوبصورت مورتی تشکیل دیتا ہے اسی طرح استاذ اپنی محنت سے اپنے فن سے بڑی ہنر مندی کے ساتھ قوم کا مستقبل سنوارتا ہے ۔قوموں کو خوشحال بنانے اور ترقی یافتہ بنانے میں اساتذہ بہت ہی اہم رول ادا کرتے ہیں۔میرے اور اپ کے اقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ میرے رب نے میری تربیت کی ہے اور بہت ہی اچھی تربیت کی ہے. ‘‘ اگر ہم اس حدیث پر گہری نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے افضل ترین شخص کی تربیت خود اللہ رب العزت نے کی ہے۔اللہ تعالی کی بے شمار صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ تعلیم بھی دیتا ہے اور تربیت بھی کرتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معلم یا مدرس اللہ کی سنت کی پیروی کرتا ہے۔اسی لیے یہ مقدس پیشہ اتنا اسان بھی نہیں جتنا کہ اسے سمجھ لیا گیا ہے۔

تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ طالب علم کے ذہن کی تربیت اور شخصیت کی تعمیر ہو۔اگر بچے کی شخصیت کی نشونما بہترین انداز میں ہوگی تو ظاہر ہے کہ اس کی اخلاقی،روحانی اور جسمانی قوتیں بھی پروان چڑھیں گی۔اسی لیے تعلیمی اداروں میں سرگرم عمل اساتذہ کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قوم کے معصوم نو نہالوں کی زندگی بنانے اور ان کا مستقبل روشن کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے، پوری تڑپ اور جذبے سے اور دیانت داری سے اپنا مقدس فریضہ انجام دیتے رہیں کیونکہ ایسا کرنا بھی ایک بڑی عبادت ہے۔اج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری زبان اور قوم پر دن بدن زوال اتا جا رہا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری اردو میڈیم اسکولوں کا معیار تعلیم سال بسال گرتا جا رہا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ میں مطالعہ کا ذوق و شوق باقی نہیں رہا، وقت کی پابندی کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے اور جتنی ایمانداری اور خلوص کے ساتھ سبق کی تیاری کے ساتھ ہمیں بچوں کو پڑھانا چاہیے اس فرض کی ادائیگی میں بھی کوتاہیاں ہو رہی ہیں اور اسی لیے ہماری قوم کے معصوم نو نہالوں کا مستقبل اندھیروں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اس نقصان عظیم کا احساس تک نہیں رہا۔

بقول علامہ اقبالؔ
وائے ناکامی متائے کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہمیں سوچنا چاہیے کہ تاریخ نے ہمیں معمار قوم کا خطاب عطا کیا ہے۔قوموں کے عروج و زوال کی ذمہ دار تعلیم ہے۔تعلیم صحیح ہوگی تو عروج ورنہ زوال مقدر ہوتا ہے۔ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ ہمارے سامنے ہماری اپنی ہی قوم کے ہونہار طالب علم ہوتے ہیں جو ہماری توجہ و خلوص کی مستحق ہیں۔ ہماری ایماندارانہ جدوجہد ان بچوں کے لیے اب حیات کا درجہ رکھتی ہے۔

ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
جب تک قوم کے اساتذہ کرام میں پوری قوم کے لیے، اپنی قوم کے نونہالوں کے لیے درد و کسک پیدا نہ ہو، مسلمانوں کی پست حالی ان کی کروٹوں کو بے سکون اور انکھوں کو بے ارام نہ کر دے، مسلم تعلیمی ادارے مکانات کی تعمیر کی بجائے انسان کی تعمیر کی طرف توجہ نہ دیں، جو تعلیم و تعلم کو تجارت کے بجائے عبادت کا درجہ دینے پر امادہ نہ ہوں اور پوری قوم میں احساس نہ جاگے کہ تعلیم ہی سے ہما ری تقدیر وابستہ ہے، یہ ہماری شہ رگ ہے اور اس سے محرومی کے بعد کسی قوم کے لیے باعزت طور پر زندہ رہنا ناممکن ہے، تب تک ہمارا خوابیدہ نصیب جاگ نہیں سکتا اور ہم اپنے روٹھے ہوئے ماضی کو منع کر واپس نہیں لا سکتے۔

معلم کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عظیم پیشے کی قدر و قیمت کو سمجھے اور اپنی تمام تر قابلیتوں اور صلاحیتوں کو برو کار لاتے ہوئے ملت کے نو نہالوں اور نوجوانوں پر اپنی بے پناہ معلومات کے خزانے لٹا دے اور طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کی تاریک اور مغموم مستقبل میں امیدوں کے پھول کھلا دے، ان کی راہوں میں تابنا کی و درخشانی کے سورج بکھیرتا رہے اور اپنی ذات کو اپنی قوم کی بے لوث خدمات اور سرگرمیوں کی خاطر صرف کر دے۔ڈاکٹر ذاکر حسین نے ال انڈیا ریڈیو پر اچھا استاذ کہ موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ معلم کا امتیاز یہ ہے کہ اس کی زندگی کی جڑیں محبت کے سر چشمے سے سیراب ہوتی ہیں۔اس لیے یہ وہاں امید رکھتا ہے جہاں دوسرے دل چھوڑ دیتے ہیں، وہاں تازہ دم رہتا ہے جہاں دوسرے تھک جاتے ہیں۔ اسے وہاں روشنی دکھائی دیتی ہے جہاں دوسرے اندھیرے کی شکایت کرتے ہیں۔استاذ زندگی کی پستیوں کو بھی دیکھتا ہے لیکن ان کی وجہ سے اس کی بلندیوں کو بھول نہیں جاتا اور بڑے کی قدر کے ساتھ چھوٹے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرتا۔ نادان اور بے بس بچے کی خدمت کو اپنی زندگی کا فرض اولین سمجھتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔اور بچے کی طرف سے جب ساری دنیا مایوس ہو جاتی ہے تو بس دو ادمی ہیں جن کے سینے میں امید باقی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایک اس بچے کی ماں اور دوسرا اس بچے کا استاز۔معلم میں خدا نے وہ صلاحیت دی ہے کہ اس کی ذرا سی توجہ قوم کو فرش سے عرش تک پہنچا سکتی ہے۔ہم شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ہم مسلمان وہ قوم ہیں جنہوں نے دنیا

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!