مضامین

مجالس ومحافلِ نبویﷺانسانیت کی ابدی درسگاہ اوردنیا کے لیے آفاقی رہنمائی کا سرچشمہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
انسانی تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالیں تو ایسی شخصیات گنتی کی ہی نظر آتی ہیں جن کی مجالسِ علم و حکمت محض چند لمحوں کی محفل نہ رہیں بلکہ ابدی سرچشمۂ ہدایت اور رہنمائی کا درجہ حاصل کر گئیں۔ یہ وہ محافل تھیں جہاں الفاظ محض آواز کا لحن نہ تھے بلکہ روح کے لیے غذا اور دل کے لیے شفا بن کر اترتے تھے۔ یہ وہ نشستیں تھیں جن میں وقت کی قید مٹ جاتی تھی اور آنے والے صدیوں کے قافلے بھی اس کی روشنی سے فیض پاتے رہے۔ ان گنی چنی ہستیوں میں سب سے اعلیٰ و ارفع، سب سے جامع و کامل، اور سب سے روشن مینار کی حیثیت رسول اکرمﷺ کی ذات گرامی کو حاصل ہے۔ آپؐ کی مجلسیں محض سماجی میل جول یا وقتی دل بستگی کا سامان نہ تھیں بلکہ وہ ایسی درسگاہیں تھیں جہاں جہالت، ظلمت اور تنگ نظری کے پردے چاک ہوتے تھے، اور علم، یقین، ایمان اور اخوت کی کرنیں دلوں میں اترتی تھیں۔ آپؐ کی ہر محفل ایک ایسی روحانی جامعہ تھی جس میں اخلاقیات کا سبق، انسانیت کا درس، اور کائنات کے اسرار و رموز کا شعور عطاء کیا جاتا تھا۔
وہ مجلسیں سادہ بھی تھیں اور بے مثال بھی۔ نہ وہاں شان و شوکت کے مظاہر تھے، نہ دنیاوی جاہ و جلال کا شور۔ لیکن اس سادگی کے اندر ایک ایسی عظمت چھپی ہوئی تھی جو قیصروں اور کسریٰ کے ایوانوں کو ماند کر دیتی تھی۔ وہاں آنے والا ہر شخص اپنی حقیقت پہچانتا، اپنی کجی کو دور کرتا اور اپنے اندر ایک نئی روشنی، ایک نیا انقلاب لے کر رخصت ہوتا۔ یہ وہ بزم تھی جس میں غلاموں کو وقارِ انسانیت نصیب ہوا، عورتوں کو عزّت و حرمت عطاء ہوئی، یتیموں اور کمزوروں کو تحفّظ ملا، اور بادشاہوں کو بھی عاجزی و جواب دہی کا سبق ملا۔ یہ وہ محفل تھی جس میں علم، حکمت، محبت اور عدل یکجا ہو کر انسانیت کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے تھے۔ یوں رسول اکرمﷺ کی مجالس محض ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک دائمی سر چشمہ ہیں، ایک ایسی روشن قندیل جس کی ضیا قیامت تک اہلِ ایمان کے قلوب کو منور کرتی رہے گی۔
نشستِ نبویﷺ: تربیتِ آداب و وقار کا سرچشمہ
تاریخِ انسانیت میں اگر کسی محفل کو کمالِ وقار، سکون اور روحانی جلال کی مثال کہا جا سکتا ہے تو وہ رسول اکرمﷺ کی مجالس ہیں۔ یہ وہ محافل تھیں جن میں نہ شور و ہنگامہ تھا، نہ ظاہری شان و شوکت، لیکن ان کا تقدّس اور جلال ایسا تھا کہ ہر آنے والا دل کی گہرائیوں میں ایک غیر معمولی وقار محسوس کرتا۔ آپﷺ کی مجلس کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ وہاں ہر نفس اپنی حد پہچان لیتا، ہر زبان ادب کے زیور سے آراستہ ہو جاتی اور ہر نگاہ احترام کے آئینے میں ڈھل جاتی۔
صحابۂ کرامؓ کے بیانات اس ادب و وقار کا آئینہ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اجنبی پہلی مرتبہ محفل میں داخل ہوتا تو یہ پہچان نہ پاتا کہ رسول اللّٰہﷺ کون ہیں، کیونکہ آپﷺ کے لیے کوئی مخصوص نشست یا امتیازی مقام مقرر نہ ہوتا۔ آپﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ اس طرح بیٹھتے گویا ان ہی میں سے ایک ہوں۔ لیکن جب آپ ﷺ کلام فرماتے تو ہر دل آپ کے نورانی الفاظ کی گرفت میں آ جاتا اور ہر زبان پر ایسا سکوت چھا جاتا کہ گویا پرندے سروں پر بیٹھ گئے ہوں۔ یہ سکوت محض خاموشی نہیں تھا بلکہ ادب اور روحانی کیفیت کا ایسا سمندر تھا جس میں حاضرینِ مجلس بے اختیار ڈوب جاتے۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ جہاں بھی مجلس ختم فرماتے، وہیں تشریف فرما ہو جاتے۔ (ترمذی: 2725)۔ اس سادگی اور انکساری میں ہی وہ شانِ رفعت چھپی ہوئی تھی جو دنیا کے بڑے بڑے تخت و تاج کو بے وقعت کر دیتی تھی۔ اور دوسری طرف صحابۂ کرامؓ کی کیفیت یہ تھی کہ جب آپﷺ بات فرماتے تو وہ یوں خاموش ہو جاتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ (ابوداؤد: 4753)۔ یہ منظر دراصل اس باطنی تربیت کا آئینہ تھا جو محفلِ نبوی میں ہر لمحہ جاری رہتی تھی۔
ادب کی اس فضا کو قرآن نے بھی مستقل اصول بنا دیا۔ سورۂ حجرات میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا: "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو…” (الحجرات: 2)۔ یہ حکم محض ایک ظاہری آداب کی ہدایت نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے یہ حکمت کارفرما تھی کہ نبوی مجالس میں ادب کو اساس بنایا جائے تاکہ تربیتِ ایمان مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ کے قلوب میں یہ بات نقش ہوگئی کہ آپﷺ کے سامنے آواز بلند کرنا صرف گستاخی ہی نہیں بلکہ ایمان کے زوال کا اندیشہ ہے۔ یوں نبوی محفلوں میں ادب محض ایک رسم یا عادت نہیں تھا بلکہ وہ ایمان کی علامت اور سلوک و معرفت کا زینہ تھا۔ انہی محفلوں کے ادب نے صحابہؓ کو ایسا مہذب، منظم اور باوقار انسان بنایا کہ بعد کے ادوار میں دنیا نے انہیں تہذیب و انسانیت کے معمار کے طور پر پہچانا۔
حکمت و بصیرت کا چراغ
انسانی تاریخ میں بہت سی درسگاہیں قائم ہوئیں، بڑے بڑے مدارس آباد ہوئے، نامور اساتذہ اور محققین سامنے آئے، لیکن اگر علم و حکمت کا اصل اور دائمی سرچشمہ تلاش کیا جائے تو وہ رسول اکرمﷺ کی مجالس ہیں۔ یہ محفلیں ایسی تھیں کہ جن میں بیٹھنے والا شخص محض ایک سامع یا سوالی نہ رہتا بلکہ ایک طالبِ علم اور ایک صاحبِ بصیرت شخصیت میں ڈھل جاتا۔ آپﷺ کے ایک ایک جملے سے معانی و مفاہیم کے دریچے کھلتے اور حکمت و معرفت کے دریا بہہ نکلتے۔
رسول اللّٰہﷺ کی مجالس میں گفتگو محض چند مخصوص موضوعات تک محدود نہ تھی۔ کبھی قرآن کریم کی تلاوت و تفسیر بیان ہوتی، کبھی شریعت کے احکام و قوانین کی توضیح، کبھی اخلاق و کردار کی تربیت، اور کبھی دنیا و آخرت کے اسرار و حقائق کا انکشاف۔ کبھی سوال کے جواب میں ایک ابدی اصول دے دیا جاتا، کبھی ایک مثال سے گہری بات سمجھا دی جاتی، اور کبھی خاموشی کے ذریعے وہ درس دیا جاتا جو ہزاروں الفاظ سے بھی بڑھ کر اثر ڈالنے والا ہوتا۔
ان محافل کی ایک عجیب شان یہ تھی کہ وہاں سوال و جواب کا دروازہ سب کے لیے کھلا تھا۔ ایک عام چرواہا، ایک نومسلم، ایک دیہاتی یا ایک جلیل القدر صحابی سب کو یکساں توجہ ملتی۔ رسول اللّٰہﷺ کسی سوال کو معمولی یا غیر ضروری قرار نہ دیتے بلکہ پورے انہماک اور التفات سے جواب عطاء فرماتے۔ یہی وہ شفاف علمی ماحول تھا جس نے علم کے پیاسے چرواہوں کو محدث، مجاہد اور مبلغ بنا دیا اور ایک غیر تعلیم یافتہ قوم کو ایسا علمی سرمایہ عطاء کیا کہ آنے والی صدیوں تک دنیا اس کی روشنی سے فیض پاتی رہی۔ حضرت معاویہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ ایک مجلس کے پاس سے گزرے اور دریافت فرمایا: تم کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: ہم اللّٰہ کا ذکر کر رہے ہیں، اس کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت بخشی۔ (صحیح مسلم: 2700)۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ نبوی محافل صرف ذکر و عبادت ہی نہیں بلکہ علم و معرفت کا مرکز تھیں۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللّٰہﷺ سے زیادہ احادیث کسی کو روایت کرتے نہیں دیکھا سوائے عبداللّٰہ بن عمرو کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔ (صحیح بخاری: 113)۔ یہ گواہی اس امر کی ناقابلِ تردید شہادت ہے کہ علمی ذخیرہ جو اُمّت تک پہنچا، وہ دراصل انہی مجالس کی دین ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نبوی مجالس وہ ابدی درسگاہیں تھیں جنہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ حقیقی علم صرف عقل کی تربیت نہیں کرتا بلکہ دل کو بھی منور کرتا ہے؛ وہ انسان کو کائنات کی حقیقتیں ہی نہیں سکھاتا بلکہ خالقِ کائنات کا عرفان بھی عطاء کرتا ہے۔ یہی علم کا سرچشمہ تھا جس نے ایک اجڑی ہوئی قوم کو تہذیب و تمدن کی معراج تک پہنچایا اور ایک گمنام خطے کو عالمگیر رہنمائی کا مرکز بنا دیا۔
پرورشِ اخلاق و تزکیہ کی درسگاہ
رسول اکرمﷺ کی مجالس محض گفت و شنید یا رسمی تعلیم کی نشستیں نہ تھیں بلکہ وہ ایک ایسی تربیت گاہ تھیں جہاں انسان کی شخصیت کے ہر پہلو کو نکھارا جاتا تھا۔ یہ وہ بزم تھی جہاں عقل کو روشنی ملتی، دل کو سکون حاصل ہوتا، اور روح کو تزکیہ و طہارت کی دولت عطاء ہوتی۔ صحابۂ کرامؓ کے نزدیک آپﷺ کا دیدار ہی درس تھا، آپ کی خاموشی بھی رہنمائی تھی، اور آپ کی مسکراہٹ بھی تربیت تھی۔
آپﷺ کی تعلیم کا انداز منفرد تھا۔ آپ صرف زبان سے نصیحت نہ فرماتے بلکہ اپنی ذات کو عملی مثال بنا کر پیش کرتے۔ آپ ﷺ کا ہر عمل ایک نصاب کی حیثیت رکھتا، آپ کا ہر رویہ ایک عملی سبق ہوتا، اور آپ کی ہر نشست و برخاست صحابہؓ کے لیے کردار سازی کا سامان مہیا کرتی۔ یہی وہ جامع تربیت تھی جس نے صحابہؓ کو ایسا انسان بنایا کہ جہاں بھی گئے، وہاں کے معاشرے کو اپنی سیرت، اخلاص اور کردار سے بدل ڈالا۔ وہ نہ فلسفے کی پیچیدہ اصطلاحات جانتے تھے، نہ خطابت کے دلکش اسلوب میں مہارت رکھتے تھے، لیکن ان کی زندگیوں سے نکلنے والی خوشبو دلوں کو معطر کر دیتی اور ان کے اعمال کا نور تاریک دلوں کو منور کر دیتا۔
حضرت جریر بن عبداللّٰہؓ کا بیان اس تربیتی ماحول کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ فرماتے ہیں: جب سے میں مسلمان ہوا، رسول اللّٰہﷺ نے مجھے کبھی اپنی مجلس سے دور نہیں کیا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکرا کر دیکھا۔ (صحیح بخاری: 3035)۔ غور کیجیے، یہ محض ایک مسکراہٹ نہ تھی بلکہ اعتماد اور محبت کی وہ روشنی تھی جو صحابہؓ کے دلوں کو جیت لیتی اور انہیں ایسا حوصلہ عطاء کرتی کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کے نمائندہ اور عملی ترجمان بن کر کھڑے ہو جاتے۔
رسول اکرمﷺ کی مجالس کی یہ تربیتی شان اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد محض معلومات دینا نہیں بلکہ انسان کو اخلاقی و روحانی طور پر بلند کرنا ہے۔ نبوی تربیت نے غلاموں کو سردار بنا دیا، کمزوروں کو قائد و رہنما کر دیا، اور عام چرواہوں کو ایسی بصیرت بخشی کہ وہ دنیا کے بہترین معلم، قاضی، مبلغ اور رہنما بن گئے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مجالسِ نبویﷺ تزکیہ و تربیت کی ایسی جامع درسگاہیں تھیں جنہوں نے انسانیت کو نیا شعور، نئی اخلاقی سمت اور نئی روحانی بلندی عطاء کی۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے ایک منتشر اُمّت کو "خیرِ اُمّت” بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
عدل و اخوت کا زندہ مظہر
رسول اکرم ﷺ کی مجالس انسانیت کے لیے عدل، مساوات اور اخوت کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ وہاں نہ رنگ و نسل کا امتیاز تھا، نہ مال و دولت کی بنا پر برتری، نہ طاقت و اقتدار کی بنیاد پر اونچ نیچ۔ عرب و عجم، امیر و غریب، آزاد و غلام سب ایک ہی صف میں بیٹھتے اور سب کو یکساں عزت ملتی۔ ایک ہی بزم میں بلالِ حبشیؓ اپنی سیاہ فام جلد کے ساتھ موجود ہوتے، تو دوسری طرف ابو بکر صدیقؓ اپنے قریشی وقار کے ساتھ، لیکن رسول اللّٰہﷺ کی مجلس میں دونوں کے درمیان کوئی فرق محسوس نہ ہوتا۔ یہ وہ عملی تربیت تھی جس نے انسانیت کو حقیقی برابری اور بھائی چارے کا سبق دیا۔ نبوی مجالس میں ہر شخص کو برابر کا درجہ ملتا۔ نہ کوئی نسل، نہ دولت اور نہ مرتبہ درمیان میں حائل ہوتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک غریب صحابیؓ نے جھجکتے ہوئے مجلس میں جگہ لی تو آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرو (ابی داود: 4825)۔ یہ عمل عملی مساوات اور اخوت کی تعلیم تھی۔
ان مجالس کی عظمت یہ تھی کہ وہ محض وقتی خطبے یا رسمی نشستیں نہ تھیں بلکہ ایسی دائمی درسگاہیں تھیں جن کے اثرات صحابہؓ کی زندگی کے ہر گوشے میں جھلکتے۔ ایک مرتبہ جو نصیحت کانوں تک پہنچتی، وہ دل میں اتر جاتی اور شخصیت کا حصّہ بن جاتی۔ یہی وہ کیفیت تھی جس نے عرب کے جاہل اور منتشر معاشرے کو چند برسوں میں تہذیب و تمدن کا امام اور دنیا کے لیے علم و رہنمائی کا مرکز بنا دیا۔ رسول اکرمﷺ کی محفلیں محض ایک انسان کی نجی نشست نہ تھیں بلکہ وحیِ الٰہی سے منور اور آسمانی ہدایت سے مزین درسگاہیں تھیں۔ ان میں ادب اپنی معراج کو پہنچتا تھا، علم اپنی گہرائی دکھاتا تھا، اور تربیت اپنی کامل صورت اختیار کر لیتی تھی۔ یہ وہ محفلیں تھیں جنہوں نے غلاموں کو امام، چرواہوں کو معلم، اور بے نام افراد کو تاریخ کے درخشندہ ستارے بنا دیا۔
اگر غور کیا جائے تو رسول اللّٰہﷺ کی یہ بزم محض ایک عہد تک محدود نہ رہی، بلکہ وہ ایک ایسا آفاقی نمونہ ہے جو ہر زمانے کے لیے رہنما ہے۔ آج کی دنیا، جو نفرت، تعصب، امتیاز اور انتشار کی آگ میں جل رہی ہے، اگر ان مجالس کے اصولوں کو اپنا لے یعنی ادب کو بنیاد، علم کو رہنمائی اور اخوت کو دستور بنا لے تو ایک بار پھر انسانیت روشنی کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یوں نبوی مجالس نے دنیا کو یہ حقیقت سمجھا دی کہ تہذیب و تمدّن کی اصل بنیاد زر یا زور پر نہیں بلکہ مساوات، اخوت اور عدل پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہی مجالس کی کوکھ سے وہ عظیم فکری و تہذیبی انقلاب ابھرا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔
مجالسِ نبویﷺ: روحانی و عملی ثمرات
رسول اکرمﷺ کی مجالس کے اثرات وہ معجزہ تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل ڈالا۔ یہ وہ محفلیں تھیں جنہوں نے ایک ایسی قوم کو، جو کل تک جاہل، اُمی اور صحرانشین تھی، دنیا کی معلمِ انسانیت اور تہذیب و تمدن کی رہنما بنا دیا۔ یہی مجالس تھیں جن کی تربیت نے حضرت ابو بکرؓ کو وہ نرم دل و بلند حوصلہ قائد بنایا جن کے کندھوں پر خلافت کا بوجھ آیا تو پوری اُمت کو سکون ملا۔ انہی مجالس نے حضرت عمرؓ جیسے عادل و باوقار حکمران کو جنم دیا جن کی عدالت کے سامنے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے تھے۔ انہی محفلوں سے حضرت عثمانؓ جیسے فیاض و سخی انسان تیار ہوئے جنہوں نے مال و دولت کو دین کے لیے وقف کر دیا، اور انہی درسگاہوں نے حضرت علیؓ جیسے حکیم، فقیہ اور صاحبِ بصیرت مدبر پیدا کیے جن کی علم و حکمت سے دنیا آج بھی رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
مولانا شبلی نعمانی نے اسی حقیقت کو کیا خوب بیان کیا ہے: "رسول اللّٰہﷺ کی صحبت نے صحرانشینوں کو فلسفی، حکیم، فقیہ، مصلح اور مدبر بنا دیا۔ یہ تبدیلی دنیا کی کسی اور درسگاہ کے بس کی بات نہ تھی”۔ (سیرۃ النبی، جلد 1)۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مجالس محض گفتگو یا نصیحت کا سلسلہ نہ تھیں، بلکہ وہ ایک ایسی ہمہ گیر درسگاہ تھیں جن میں ادب نے اپنی معراج کو پایا، علم نے اپنی گہرائی کو ظاہر کیا، اور تربیت نے اپنے کمال کو پہنچ کر ایک نیا تمدّن تخلیق کیا۔ یہاں الفاظ دلوں کو بدلتے تھے، خاموشیاں شعور جگاتی تھیں، اور نگاہیں تزکیہ و طہارت بخشتی تھیں۔
آج کی علمی و فکری دنیا جس زوال اور انتشار سے دوچار ہے، اس کا اصل علاج بھی اسی نسخے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنی محفلوں کو نبوی مجالس کے اصولوں پر استوار کر لیں یعنی ادب کو بنیاد بنائیں، علم کو روشنی بنائیں اور تربیت کو مقصد بنائیں تو نہ صرف ہمارے معاشرے کی فکری و اخلاقی زوال پذیری ختم ہو سکتی ہے بلکہ انسانیت ایک بار پھر اپنی اصل منزل، یعنی اخوت، عدل اور علم کی روشنی کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
🗓 (08.09.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!